پری - ازقلم : مسرورتمنا۔


پری - 
ازقلم : مسرورتمنا۔

چوتھی بار رنگ پر
پری نے فون اٹھایا
ادھر سے فرید کی آواز آئ
پری اب تک کام شروع نھیں ہوا مجھے بار بار فون مت کرو
فرید میں اب آپکے بنا نہیں رہ سکتی مجھے بھی اپنے پاس ممبئ بلالو
پری میرا یہاں رہنا مشکل ہورہا ہے کام بند کھانے کے لالے پھر بھی امید ہے
کام مل جایگا تم اپنا خیال رکھو مجھے پتہ ہے ہمارے.گھر تم جیسی پیاری سی پری ہی آے گی سنو ہماری پری کا خیال رکھنا
خوش رہنا اوکے
فرید کی دونوں مراد پوری
ہوی.     ایک پری ا سکی ذندگی... میں شامل تھی
دوسری ممبئ......جہاں جاب
کرنے کی تمنا تھی
مگر ابھی تک جاب نہیں ملی
وہ کسی طرح اپنا گذارا کر رہا تھا...      ....  ..........
جیسے ہی پری نے فون رکھا
بھابھی چینخ کر بولی تو بار بار فون کیوں کرتی ہے ری
لو بھلا ترس کھا کر رکھ لیا
کے دو جان سے ہے مہارانی کے عیاشی تو دیکھو
بھابھی فون انہوں نے کیا تھا
اری آئ بڑی جانا سسرال میں رہ ہو نہہ.  ...
پری کے آنکھوں میں انسو آگے.   وہ جانتی تھی فرید کی جاب نہیں لگی ہے گاوں میں رہ کر کھیتی نہیں کرنا تھی اسے ممبئ جانے کا خواب.     تھا اسکا
 وہ چلا گیا
..................,...............
صبح کی نماز کے بعد وہ گھر کے سارے کام کرتی تھی
تھکن ہوتی تو پانی پی لیتی
بھابھی کو رحم نہیں آتا
سارے کام کراکر سوکھی روٹی طعنہ دے کر دیتی لے کھا اور ہاں..  اب بہت ہوا
جا بھئ اپنے سسرال یہاں کچھ ہوگیا تو.دنیا مجھے ہی برا کہے گی  ...      بھابھی کل چلی جاونگی. پری نے.کہا   ..  نہیں رے بابا آج ہی جا بھابھی نے کہا
تو وہ دکھ سے بولی بھابھی
ایک کپ چایے پی لوں تاکہ
میں ..   بھابھی نے خوش ہوکر آچھی چاے بنانے کو.کہا
ایک کیا دو کپ پی لے ٹھیک ہے میری پنک ساڑی پہن لینااچھا بھابھی
وہ بھابھی کو خوش کر اپنے
سسرال جا پہونچی
................................
ارے اسے دیکھ کر جٹھانی بولی کیوں بھئ ....
لوٹ آی تم فرید نے تو کہا تھا
تم ونہی رہوگی....
بھابھی وہاں میرا دل.گھبرانے لگا تھا تھا پری نے دھیرے سے کہا...      تو یہاں کونسا تیرا دل بہل جایگا
پری نے سوچا کچھ دیر آرام کر لوں....    
مگر ساس آدھمکی کیوں ری پلنگ توڑنے واسطے آی
آماں بہت درد ہورہا
آچھا درد تیرے ہی اٹھا ہے
چل جا کچن میں روحی کے
سسرال والے آرہے...... 
وہ مرے مرے قدموں سے کچن میں آی مہمانوں کے لیے
کھانا بنا یا ناشتہ تیار کیا
..  ................................
فرید کا فون تھا روحی کےسسرال والے تھے اسلئے
روحی نے پری کو بلایا
پری نے فون لیا......  فرید میری حالت خراب ہے اف آچانک درد کی تیز لہر اٹھی 
فرید ..   فرید.....
پری میں آرہا ہوں اسکی تڑپ
سن کر فرید گھبرا کر بولا
اب.کیوں......  پری کے چہرے پر اداس سی.  ... مسکان تھی
ساس اندر اندر کھول رہی تھی... مگر سمدھی پاس تھے
آہ پری نے ایک چینخ ماری
اور گر پڑی..   اس نے اخری ہچکی لی اور سب کچھ ختم
فرید کے خواب اسکا پیار..  
ننھی پری جو دنیا میں آنی تھی... وہ بھی ماں کےساتھ ختم اب اندھیرا تھا.....پری
تم مجھے چھوڑ گئ..   
آہ میں کتنا بدنصیب  تھا
پری کے جنازے کو کاندھا نہ دے سکا
آج بہت دن بعد فرید نے فون کیا تھا...... 
ماں میں پری کی قبر دیکھنا
چاھتا ہوں اسکی مٹی چھونا
چاہتا ہوں.....ماں..... 
قبر دیکھ کر کیا کر
لینا ہے فرید تو نے...  
سن ممبئ میں کوئ آسامی پری دھونڈ لے جو تجھے
مالامال کردے
اور ماں کی آواز اسکے حواس پر بجلی بنکر گری

پری 
مسرورتمنا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔