سریلی - ازقلم : مسرورتمنا۔


سریلی - 
ازقلم : مسرورتمنا۔

پتہ نہیں  کیوں ماں نے اسکا نام سریلی رکھدیا تھا
وہ تھی بھی بلا کی خوبصورت
اور جوان ہوتے ہوتے نام کا اثر بھی نظر آنے لگا
اور بنسی اسکا دیوانہ ہوگیا
وہ بھی اسے چاھتی تھی
محبت کا جذبہ ذمانے کے بھید بھاو سے پرے انہں کسی اور دنیا میں لے چلا
سریلی اتنی بے خود تھی کے آپنی ماں کے بچھایے جال میں پھنس گئ
سریلی کو وہ پردیسی بابو عمر لے گیا
سریلی نے بنسی کو اخری میسج دی تھی 
میری مٹی میں ضرور آنا
میرا دم کہیں بھی نکلے ..... میری یاد مٹنے نہ دینا لہو رس رس کے بہتا ہے آنکھوں سے
سریلی محبت کا غم دل میں دباے عمر کی خدمت کرتی رہی... وہ سفاک جو دلال تھا.  
اسکی دولت سے ماں اپنا گھر بھر چکی تھی
دو بیٹیوں کا بیاہ بڑے گھر میں کر دیا اور اب اکیلی خوشحال ذندگی گذار رہی تھی
مگر اچانک عمر اسے کہیں باہر لے گیا اور جوا میں ہار کر شراب میں ڈوب گیا
سریلی اس عیاش آدمی سے بچ کر ماں کے پاس واپس آی ....    
ماں تو نے مجھے جس کے ہاتھ سونپا وہ مرد نہیں راون تھا
ماں تو نے دولت کی خاطر میرا سودا کیا اپنی دونوں بیٹی اور اپنا جیون سکھی کرلیا
میرے بنسی کو دھوکے سے مجھ سے دور کردیا
عمر کی دولت عورت بیچ کر ہوی ہے ماں اور اس دولت
کو پاکر تم خوش مگر
یاد رکھنا پاپ کی کمای
ہے پاپ کی ذیادہ دن پھلتا
نہیں..    
ماں اسنے مجھے ہار دیا کیا اب بھی دروپدی کا دور ہے مگر مجھے بچانے کوی نہیں آیا ماں میں بار بار لٹتی رہی
سریلی. نے ماں کو پتھر بنتے دیکھا تھا
میں نے تجھے بیاہ دیا میرا فرض پورا ہوا
تو کہاں جاۓگی کس کی چاہ کریگی تیری مرضی 
................
سریلی نے بنسی کو تلاش کیا
مگر عمر نے سریلی کو مار ڈالا .  
اور اسکی روح بنسی کی چاہ میں تڑپ رہی تھی
میری مٹی میں ضرور آنا لہو رس رس کے بہتا ہے آنکھوں سے
سریلی.      مسرورتمنا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔