روزانہ پانچ وقت عالمی مقابلے - از قلم : ظفر ھاشمی ندوی،(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


روزانہ پانچ وقت عالمی مقابلے - 
از قلم : ظفر ھاشمی ندوی،
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

جی ہاں اس دنیا میں 1448 سال سے روزانہ پانچ عالمی مقابلہ ہوتے ہیں - عجیب بات یہ ہے کہ اس مقابلہ میں شرکت کرنے کے لئے کوئی فیس نہیں ہے- ہر مقابلہ فری ہوتا ہے - عام طور پر دوسرے مقابلوں میں کچھ ٹیمیں عملی طور پر کھیلتی ہیں اور باقی لوگ صرف تماشہ دیکھتے ہیں - مگر ان پانچ مقابلوں میں صرف دیکھنے کی اجازت بالکل نہیں ہے - ہر شخص کو خود حصہ لینا ضروری ہے- عجیب بات یہ ہے کہ ہر حصہ لینے والے کو کچھ نہ کچھ انعام ضرور ملتا ہے - کم سے کم انعام certificate of appreciation یعنی مقابلہ میں شریک ہونے کا سرٹیفکٹ ہر شریک ہونے والے کو ضرور مل جاتا ہے- صرف بالغ لڑکے اور لڑکی کو ہی حصہ لینے کی اجازت ہے لیکن چھوٹی عمر کے لڑکے اور لڑکیوں کی شرکت بھی قبول کر لی جاتی ہے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے ماں باپ کو بھی انعام مل جاتا ہے- ایک عجیب بات یہ ہے کہ ہر مقابلہ میں شرکت کے لئے آپ کو کہیں جانا نہیں ہے بس اپنے ہی محلہ میں جس جگہ یہ مقابلے ہوتے ہیں ، وہاں جانا ہے - مگر مقابلوں کی یہ ساری جگہیں اس بات کی بھی اجازت دیتی ہیں کہ اگر آپ کسی اور جگہ ہیں تو اس جگہ میں بھی مقابلہ میں شریک ہو سکتے ہیں- اگر آپ سفر میں ہوں یا بس ٹرین اور ہوائی جہاز میں بھی ہوں تو وہاں بھی ان پانچ مقابلوں میں آپ کو شریک ہونا ضروری ہے-
یہ بھی عجیب بات ہے کہ عورتوں کے لئے بھتر یہ ہے کہ وہ خود اپنے گھر ہی میں روزانہ کے پانچ مقابلوں میں شریک ہوں - اور ساتھ ہی ساتھ ان کے ہر ماہ مخصوص دنوں میں ان مقابلوں میں شریک ہونا منع ہے- غرض ان مقابلوں کی اور بہت ساری باتیں عجیب و غریب سہولتیں دیتی ہیں مگر ہائے رے مسلمان ان ساری سہولتوں کے باجود ان مقابولوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ شریک نہ ہونے کو ہم مسلمانوں نے اپنی عادت بنا لیا ہے - مگر کچھ مسلمان ہفتہ بھر میں ایک دفعہ شریک ہو ہی جاتے ہیں اور ان سے بھی کہیں زیادہ کم سال میں ایک یا دو دفعہ شریک ہو جاتے ہیں-
کیا آپ اب بھی نہیں سمجھے؟ تو سنیے:
یہ ہر روز پانچ وقت کی نمازوں کے مقابلے ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نبی بنائے جانے اور آپ کے ذریعہ اسلام کے دنیا میں آنے اور نماز کے فرض ہونے کے بعد سے شروع ہوئے ہیں-
آگے بڑھنے سے پہلے آپ میں سے ہر شخص خود اپنا جائزہ لے کہ اب تک بالغ ہونے کے بعد سے اب تک اس نے کتنے مقابلوں میں حصہ لیا ہے اور خود اپنا نقصان کتنا کیا ہے اور جب تک زندہ ہے تب تک اور کتنا نقصان یا فائدہ کرنا چاھتا ہے-
سوال یہ ہے کہ ہر وقت کی نماز مقابلہ کیسے بن رہی ہے؟ جواب یہ ہے کہ مشرق مغرب اور شمال و جنوب میں غرض دنیا کہ ہر حصہ میں قسمت والے اور اسلام کے وفادار نماز پڑھتے ہیں اور ہر ایک کو اس کے خشوع خضوع ، اخلاص اور زبان کے ساتھ ساتھ دل و دماغ کی حاضری کے اعتبار سے ثواب بھی ملتا ہے- مثال کے طور پر فجر کی نماز دنیا بھر میں پڑھی گئی تو بتائیے کہ سب سے اچھی نماز کس ملک کی مسجد میں کس شخص نے یا کن لوگوں نے پڑھی ہوگی ؟ اسی طرح کس مسلمان نے کتنی خراب پڑھی ہوگی- ظاہر ہے کہ اچھی طرح پڑھنے والوں کے بھی الگ الگ انداز ہوں گے اور خراب نماز پڑھنے والوں کے بھی الگ الگ انداز ہوں گے- اب ہر ایک کا ثواب بھی اسی لحاظ سے بہت زیادہ یا کم زیادہ اور اسی طرح خراب نماز پڑھنے والوں کا ثواب سب سے کم یا بہت کم ہو جائے گا- حدیث شریف میں یہ بات یوں کہی گئی ہے - ان الرجل لینصرف وما کتب له الا عشر صلاته ، تسعھا ، ثمنھا ، سبعھا، سدسھا، خمسھا ر بعھا ثلثھا نصفھا ( رواہ ابو داؤد و النسائی) ایک شخص نماز پڑھ کر لوٹتا ہے اور اس کو نماز کا دسواں فیصد ثواب ملتا ہے یا نواں یا آٹھواں یا ساتواں یا چھٹا یا پانچواں یا چوتھا یا ایک تھائی یا آدھا حصہ ثواب ملتا ہے- اب بتائیے کہ ہم میں سے ہر ایک کو کسی بھی نماز کا اب تک کتنا حصہ ملا ہوگا؟ میرا خیال ہے کہ اکثر نمازیوں نے اب تک اس طرح سوچا بھی نہیں ہے-
دوسری حیثیت سے اکیلے نماز پڑھنے میں اور جماعت سے نماز پڑھنے میں بھی بڑا فرق ہے - نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: صلاۃ الرجل فی جماعۃ تزید علی صلاتہ وحدہ بخمس و عشرین درجة کوئی شخص جماعت سے نماز پڑھے تو اسے اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلہ میں پچیس درجہ ( دوسری روات میں ستائیس درجہ) زیادہ ثواب ملتا ہے- 
تیسری طرف اگر کوئی شخص کھیت یا صحرائی جگہ پر نماز پڑھتا ہے تو دکھاوا اور ریاکاری نہ ہونے کی وجہ سے اگر وہ رکوع سجدہ ٹھیک سے کرتا ہے تو اسے پچاس نمازوں کا ثواب ملتا ہے- 
چوتھی بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: صلاۃ فی مسجدی ھذا آفضل من الف صلاۃ فیما سواہ الا المسجد الحرام میری اس مسجد (مسجد نبوی مدینہ منورۃ ) میں نماز کا ثواب سوائے مسجد حرام ( کعبہ شریف) دوسری مسجدوں کی نماز کے مقابلہ میں ایک ہزار نمازوں سے زیادہ افضل ہے - مسجد حرام کی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے براربر ہے- اور مسجد اقصی (جو اب تک یہودیوں کے قبضہ میں ہے) میں ایک نماز کا ثواب دوسری پانچ سو نمازوں کے برابر ہے-
چند سوالات: کیا آپ نے اس طرح سوچا بھی ہے؟ کیا آپ روزانہ نماز پڑھتے ہو؟ کیا روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہو ؟ اگر نہیں تو کس نے آپ کو پانچ نماز وں سے کم پڑھنے کا حق دیا ہے اور کب تک ایسا ہی کرنا ہے؟اور کیوں کرنا ہے؟ آخر آپ کب سدھرنا چاھتے ہو اور کیوں سدھرنا نہیں چاھتے ہو؟
کیا آپ کے والدین بھائی بہن اور بیوی بچے نمازی ہیں ؟ اگر نہیں تو کیا آپ کا کوئی فرض نہیں ہے ؟
اور بھی سوالات ہیں آپ خود ہی سوچ لیجئے- اور اپنی اپنی موت سے پہلے سچی توبہ کر لیجیے -
‏

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔