استاد: علم، تربیت اور زندگی کی تعمیر کا امین - تحریر : کلیم اللہ امداد تیمی۔ مسجد یعقوبیہ اہلِ حدیث، چینئی۔


استاد: علم، تربیت اور زندگی کی تعمیر کا امین -
تحریر: کلیم اللہ امداد تیمی۔ 
مسجد یعقوبیہ اہلِ حدیث، چینئی۔ 

انسان کی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا احسان وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوتا، بلکہ ان کی قدر و منزلت اور بھی بڑھتی جاتی ہے۔ استاد بھی انہی محسن شخصیات میں سے ایک ہے۔ وہ محض کتاب کے صفحات پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا، بلکہ اپنے شاگرد کے اندر سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے، آگے بڑھنے اور زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ اس کی کہی ہوئی ایک بات، دی ہوئی ایک نصیحت، کی گئی ایک اصلاح اور کبھی محبت، کبھی شفقت اور کبھی سختی سے کہے گئے چند الفاظ برسوں بعد بھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر رہنمائی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
اسی لیے استاد کا احسان کسی ایک دن کی یاد تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یومِ اساتذہ اگرچہ ایک سماجی روایت کے طور پر اپنے اساتذہ کو خراجِ تشکر پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن اسلامی مزاج محسن کے احسان کو محض ایک دن تک محدود کرنے کا نہیں۔ استاد کی حقیقی قدر دانی یہ ہے کہ اس کا احترام کیا جائے، اس کے لیے دعا کی جائے، اس کی دی ہوئی تعلیم کو اپنی زندگی میں اتارا جائے اور اس علم کو آگے منتقل کیا جائے۔ استاد کا احسان صرف الفاظ میں نہیں، ہمارے کردار، اخلاق اور عمل میں بھی نمایاں ہونا چاہیے۔

سب سے عظیم معلم: رسولِ اکرم ﷺ : 
جب معلم اور تعلیم کی بات ہو تو سب سے پہلے اس عظیم ہستی کا ذکر ہونا چاہیے جسے اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کے لیے معلم، مربی اور رہبر بنا کر مبعوث فرمایا: ہمارے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ۔
اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں تعلیم و تزکیہ کو نمایاں فرمایا:
﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ﴾
’’اور وہ انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔‘‘
(آلِ عمران: 164)
رسول اللہ ﷺ نے اپنے منصبِ تعلیم کی نوعیت کو نہایت خوب صورت انداز میں بیان فرمایا:
«وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا»
’’لیکن اللہ نے مجھے آسانی پیدا کرنے والا معلم بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
(صحیح مسلم: 1478)
آپ ﷺ کا اندازِ تعلیم محض معلومات منتقل کرنے تک محدود نہ تھا۔ آپ ﷺ دلوں کی اصلاح فرماتے، اخلاق سنوارتے، سوال کرنے والے کی بات سنتے، مخاطب کی کیفیت اور استعداد کو ملحوظ رکھتے اور علم کے ساتھ عمل کی تربیت فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہر معلم کے لیے بہترین نمونہ اور ہر طالبِ علم کے لیے کامل رہنما ہے۔

میرے تعلیمی سفر کے روشن کردار : 
میرا اپنا تعلیمی سفر بھی اسی حقیقت کی ایک چھوٹی سی تصویر ہے۔ جب آج ماضی کے اوراق پلٹتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری علمی و فکری تشکیل کسی ایک مرحلے یا کسی ایک استاد کی مرہونِ منت نہیں، بلکہ اس سفر میں مختلف ادوار کے متعدد اساتذہ نے اپنی اپنی جگہ بنیاد، سمت اور روشنی فراہم کی۔
کسی نے ابتدائی بنیاد مضبوط کی، کسی نے علم کی نئی دنیا سے روشناس کرایا، کسی نے مطالعے کا ذوق پیدا کیا اور کسی نے تحقیق و فکر کے دروازے کھولے۔ ہر استاد نے میرے علمی سفر میں اپنا ایک نقش چھوڑا، جسے وقت کی گرد بھی مٹا نہیں سکی۔

علم سے پہلا تعارف: مکتب کے اساتذہ : 
میرے علمی سفر کا سب سے ابتدائی مرحلہ میرے آبائی گاؤں سسوا میں واقع مکتب تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دینی تعلیم سے ابتدائی شناسائی ہوئی، قرآن و دینیات کے اسباق سے تعلق قائم ہوا اور علم کے ساتھ ایک ایسا رشتہ استوار ہوا جس نے آگے چل کر میری تعلیمی زندگی کی بنیاد مضبوط کی۔
اس دور کے اساتذہ میں مولوی عبدالرشید، حافظ منصور احمد اور حافظ انس خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان اساتذہ کی شفقت، محنت اور ابتدائی تربیت میری تعلیمی زندگی کے ان نقوش میں شامل ہے جنہیں وقت گزرنے کے باوجود فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
بچپن میں حاصل ہونے والی یہی ابتدائی تربیت آگے چل کر علم سے وابستگی کا سبب بنی۔ آج محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم کی وہ پہلی سیڑھی بظاہر معمولی تھی، لیکن اسی نے آگے کے سفر کی سمت متعین کی۔

تعلیم کا پہلا باقاعدہ مرحلہ: النور پبلک اسکول، سسوا : 
مکتب کے بعد میری باقاعدہ عصری تعلیم کا سفر النور پبلک اسکول، سسوا سے آگے بڑھا۔ یہ مرحلہ میرے لیے اس اعتبار سے بھی خاص تھا کہ اسکول میرے آبائی گاؤں ہی میں واقع تھا؛ چنانچہ گھر، گاؤں اور تعلیمی ماحول کے درمیان ایک فطری تعلق قائم رہا۔
یہی وہ زمانہ تھا جب کتابوں سے شناسائی مزید گہری ہوئی، مختلف مضامین سے واقفیت بڑھی اور تعلیم کی دنیا وسیع تر ہوتی گئی۔
اس مرحلے پر جن اساتذہ نے میری علمی بنیاد مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ادا کیا، ان میں عبدالمبین اثری، روح الحق ہمدم، وفاء الرحمن (منا سر)، ابھیشیک کمار اور چمن کمار شامل ہیں۔
اسکول کی زندگی کی اپنی ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ استاد کی آواز، تختۂ سیاہ، کتاب کا سبق، ہوم ورک، کبھی شاباش اور کبھی ڈانٹ—یہ سب اس وقت روزمرہ کے معمولات محسوس ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد یہی چھوٹی چھوٹی یادیں زندگی کے قیمتی اثاثوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
بچپن میں استاد کی سختی کبھی ناگوار محسوس ہوتی ہے، لیکن عمر کے ساتھ اس سختی کے پیچھے چھپی شفقت اور اصلاح کی فکر سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ اس وقت استاد کا بار بار سمجھانا شاید معمولی بات معلوم ہوتی ہے، مگر بعد میں احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا قیمتی وقت ہماری بنیاد مضبوط کرنے میں صرف کر رہا تھا۔

جامعہ امام ابن تیمیہ: علم کی نئی دنیا : 
اس ابتدائی مرحلے کے بعد جب تعلیمی سفر جامعہ امام ابن تیمیہ تک پہنچا تو علم کی دنیا مزید وسیع ہو گئی۔ یہاں تعلیم محض نصاب اور امتحان تک محدود نہ رہی، بلکہ دینی علوم، مطالعہ، فہم، تحقیق اور علمی ذوق نے زندگی کو ایک نئی سمت عطا کی۔
جامعہ میں جن اساتذہ سے استفادہ کا موقع ملا، ان میں سمیع اللہ عمری، ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی، ابو القیس مدنی، شکیل احمد اثری، مشتاق احمد شیدا، نور الاسلام مدنی، اسد الرحمن تیمی، ثناء اللہ صادق تیمی اور نسیم اختر سعید الرحمن مدنی شامل ہیں۔
ہر استاد کا اپنا اندازِ تدریس، اپنی علمی خصوصیت اور اپنا منفرد رنگ تھا۔ کسی نے مشکل مباحث کو آسان کرکے سمجھایا، کسی نے مطالعے کا ذوق پیدا کیا، کسی نے سوال کرنے اور غور و فکر کی اہمیت اجاگر کی اور کسی نے علم کے ساتھ عمل، اخلاق اور کردار کی ضرورت کا احساس دلایا۔
جامعہ کی زندگی میں حاصل ہونے والی یہ تربیت صرف امتحانات میں کامیابی کے لیے نہ تھی؛ اس نے سوچنے، سمجھنے، تحقیق کرنے اور علم کو زندگی سے جوڑنے کی بنیاد فراہم کی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں کتابوں کے ساتھ تعلق گہرا ہوا اور علمی سفر نے ایک واضح سمت اختیار کی۔
آج جب اس دور کو یاد کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ جامعہ کے یہ اساتذہ محض سبق پڑھانے والے نہیں تھے؛ وہ میرے علمی سفر کے راہ نما، مربی اور تربیت کار بھی تھے۔ انہوں نے میرے اندر علم کے ساتھ وابستگی اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے کا شعور پیدا کیا۔

دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا سفر : 
حصولِ علم کا شوق زندگی کے مختلف حالات کے باوجود کم نہیں ہوا۔ اسی جذبۂ علم کے ساتھ میں نے ایس این ایس کالج، موتیہاری سے انٹرمیڈیٹ اور پھر ایم کالج، موتیہاری سے اردو آنرز کی تعلیم حاصل کی۔
اعلیٰ تعلیم کے شوق نے مزید آگے بڑھنے پر آمادہ کیا۔ چنانچہ بہار یونیورسٹی کے ایم ایس کالج میں ایم اے اردو کے لیے داخلہ لیا۔ لیکن زندگی ہمیشہ انسان کے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتی۔
ابھی یہ تعلیمی سفر جاری ہی تھا کہ نامساعد حالات کے باعث میرے شفیق والد مولانا امداد الٰہی عمری کی رحلت کا صدمہ پیش آیا۔ اس سانحے نے زندگی کی سمت بدل دی اور بہار یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔
والدِ محترم کی جدائی زندگی کا ایسا خلا تھا جسے کوئی چیز پُر نہیں کر سکتی۔ حالات نے تعلیم کا سلسلہ وقتی طور پر روک دیا، لیکن تعلیم حاصل کرنے کا شوق اور آگے بڑھنے کا جذبہ ماند نہ پڑا۔ دل میں یہ خواہش بدستور زندہ رہی کہ جہاں موقع ملا، تعلیمی سفر کو دوبارہ جاری کیا جائے۔

چینئی: امامت و خطابت کے ساتھ تعلیم کا دوبارہ آغاز : 
بعد ازاں جب چنئی آنے کا موقع ملا تو یہاں منصبِ امامت و خطابت سے وابستگی ہوئی۔ دینی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دل میں موجود تعلیم کے شوق نے دوبارہ راستہ دکھایا۔
چنانچہ میں نے مدراس یونیورسٹی سے ایم اے اردو کی تعلیم مکمل کرنے کا عزم کیا اور اپنی ادھوری تعلیمی منزل کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش شروع کی۔
اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور وہ مرحلہ بھی آیا جب ایم اے اردو کی تعلیم مکمل ہوئی۔ الحمدللہ، میں نے امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی اور یونیورسٹی میں ٹاپر کی حیثیت سے نمایاں ہوا۔ اس کامیابی کے اعتراف میں تمل ناڈو کے گورنر کے ہاتھوں اعزاز سے نوازا جانا میرے لیے یقیناً ایک یادگار اور باعثِ تشکر لمحہ تھا۔
یہ کامیابی میرے لیے محض ایک تعلیمی اعزاز نہیں تھی، بلکہ اس بات کی علامت بھی تھی کہ اگر انسان حالات کی دشواریوں کے باوجود علم کی طلب کو زندہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے پیدا فرماتا ہے۔

کامیابی کے پیچھے اللہ کا فضل اور محسنین کی دعائیں
آج میں جہاں ہوں، جس مقام پر ہوں اور جو کچھ بھی ہوں، اس کے بارے میں میرے دل میں سب سے پہلا اور بنیادی اعتراف یہی ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل، کرم اور احسان کا نتیجہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جن اسباب کو میری زندگی میں کامیابی کا ذریعہ بنایا، ان میں میرے اساتذہ کی تعلیم و تربیت کے ساتھ میرے والدین اور اہلِ خانہ کی دعاؤں، محبت، حوصلہ افزائی اور قربانیوں کا بھی اہم حصہ ہے۔
خصوصاً میرے شفیق والد مولانا امداد الٰہی عمری کی یاد میرے تعلیمی سفر کے ہر مرحلے میں میرے ساتھ ہے۔ ان کی رحلت نے اگرچہ زندگی کے ایک اہم موڑ پر مجھے تنہا کر دیا، لیکن ان کی تربیت، ان کی دعائیں اور ان کی حوصلہ افزائی آج بھی میرے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔
آج اللہ تعالیٰ نے زندگی میں بہت کچھ عطا فرمایا ہے، مگر والدِ محترم ہمارے درمیان نہیں۔ ان کی کمی کا احساس اپنی جگہ قائم ہے۔ بعد کے سفر میں جو کچھ حاصل ہوا، اسے میں ان کی محبت، تربیت اور دعاؤں سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتا۔
یومِ اساتذہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر بہت سی تحریریں اور اپنے اپنے اساتذہ کے تذکرے پڑھنے کو ملے تو مجھے بھی خیال آیا کہ اپنے علمی سفر کے ان محسن کرداروں کو یاد کیا جائے جنہوں نے زندگی کے مختلف مراحل میں میری رہنمائی کی۔
اسی بہانے اپنے بارے میں بھی کچھ زیادہ لکھ گیا ہوں۔ معزز قارئین اسے جس زاویے سے دیکھیں، یہ اختیار آپ کا ہے۔ میرا مقصد اپنی ذات کا تعارف کرانا نہیں، بلکہ ان تمام اساتذہ کو یاد کرنا ہے جنہوں نے میرے سفرِ علم میں کسی نہ کسی مرحلے پر میری مدد اور کامل رہنمائی فرمائی ۔
یہ حقیقت ہے کہ میرے تمام اساتذہ میرے تعلیمی سفر کے مختلف مراحل کے وہ روشن کردار ہیں جن کے احسانات کو چند جملوں میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے اپنی بساط کے مطابق میری شخصیت کی تعمیر، میرے علم کی تشکیل اور میری فکری تربیت میں حصہ لیا۔
اگر آج میرے اندر علم کی طلب، مطالعے کا ذوق، تحقیق کی جستجو اور آگے بڑھنے کی خواہش موجود ہے تو اس میں میرے اساتذہ اور میرے والدین کی محنتوں اور دعاؤں کا حصہ ضرور شامل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔