آپ بیتی - ’’اطہر مبین سے رہبر تماپوری تک‘‘ - ازقلم: رہبر تماپوری
آپ بیتی -
’’اطہر مبین سے رہبر تماپوری تک‘‘ -
ازقلم: رہبر تماپوری ، مہمان معلم، جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، جامعہ نگر، تماپور، ضلع یادگیر، ریاستِ کرناٹک، انڈیا
رابطہ: 8431012141
انسان جب اپنے ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہے تو اسے صرف گزرے ہوئے دن دکھائی نہیں دیتے؛ ان دنوں میں چھپی ہوئی وہ خاموش آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں جو رفتہ رفتہ اس کی شخصیت بناتی رہی ہوتی ہیں۔ میری زندگی بھی کسی ایک کامیابی، کسی ایک ناکامی یا کسی ایک موڑ کا نام نہیں، بلکہ چھوٹے بڑے تجربات، رشتوں، تربیت، سوالوں، مشاہدوں، محرومیوں اور مسلسل سیکھنے کا ایک طویل سفر ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ ’’اطہر مبین سے رہبر تماپوری تک‘‘ کیسے پہنچے تو اس کا جواب کسی ایک واقعے میں نہیں، پوری زندگی کے ان بکھرے ہوئے لمحوں میں ملے گا جنہوں نے مجھے اندر سے تشکیل دیا۔
میرا اصل نام اطہر مبین ملا ہے اور قلمی نام رہبر تماپوری۔ تماپور، ضلع یادگیر، کرناٹک کی اسی بستی میں میری آنکھ کھلی، جہاں میرے بچپن کی یادیں، رشتے اور ابتدائی خواب آباد ہیں۔ ہمارا خاندانی ماحول تعلیم، تہذیب اور اچھے اخلاق سے وابستہ تھا۔ بچپن ہی سے یہ سکھایا گیا کہ اچھے الفاظ بولو، دوسروں کی بات سنو اور نامناسب زبان سے بچو۔ آج محسوس ہوتا ہے کہ وہ معمولی سی دکھائی دینے والی تربیت دراصل میرے لفظوں کی پہلی درس گاہ تھی۔
گھر کا ادبی اور تعلیمی ماحول بھی میری شخصیت پر اثرانداز ہوا۔ دادا اسماعیل پرویز اور چچا حامی تماپوری سمیت خاندان اور حلقۂ احباب میں علم و ادب سے وابستہ لوگوں کی موجودگی نے میرے اندر ایک خاموش کشش پیدا کی۔ بچپن میں تصویروں اور تخلیقی سرگرمیوں کی طرف بھی میرا رجحان تھا۔ پوپو جان اخبارات سے کارٹون کی تصویریں کاٹ کر مختلف شکلیں بنانے میں میری مدد کرتے اور بروقت رہنمائی دیتے۔ شاید وہ چھوٹے چھوٹے تجربے ہی تخیل کی پہلی سیڑھیاں تھے۔
میرے والدِ محترم ظفر مبین ملا تماپوری میری زندگی میں ایک شخصیت نہیں، ایک مکمل تربیتی ادارہ تھے۔ وہ اخبار اور رسائل گھر لاتے، مجھے پڑھنے کی طرف متوجہ کرتے اور کبھی کسی سبق یا کہانی کے بعد پوچھتے: ’’تم نے اس سے کیا سیکھا؟‘‘ میں سوال بہت کرتا تھا، مگر وہ میرے سوالوں سے گھبراتے نہیں تھے۔ بلکہ سوال کے اندر چھپے سوال کو تلاش کرنے کی ترغیب دیتے۔ اسی ماحول نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ تعلیم صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں؛ تعلیم انسان کو سوچنا سکھاتی ہے، جبکہ تربیت یہ سکھاتی ہے کہ اس سوچ کو زندگی میں کیسے برتا جائے۔
ابتدائی تعلیم کے زمانے میں میں کوئی غیر معمولی طالب علم نہیں تھا۔ میں ایک اوسط درجے کا طالب علم تھا، لیکن ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے میرے اندر پڑھنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی خواہش بڑھنے لگی۔ محمد مشتاق احمد ساقی تماپوری جیسے استاد نے ریاضی کو میرے لیے محض اعداد کا مضمون نہیں رہنے دیا؛ انہوں نے اسے غور و فکر اور مسئلہ حل کرنے کی ایک تربیت بنا دیا۔ دسویں جماعت میں ریاضی میں 94 نمبر حاصل ہوئے۔ اسی دور میں اردو کے ایک مختصر ڈرامے ’’بچہ فیل کیوں کیا؟‘‘ میں اداکاری کا موقع بھی ملا۔ شاید وہ میری تخلیقی صلاحیت کی ابتدائی دستک تھی۔
لیکن دسویں کے بعد زندگی نے ایک ایسا موڑ دکھایا جس کی کسک آج بھی کہیں نہ کہیں موجود ہے۔ شاہین میں داخلہ ہو چکا تھا، صرف جوائننگ باقی تھی۔ میرے سامنے ایک نیا تعلیمی راستہ تھا اور دل میں بہت سے خواب۔ مگر جس دن مجھے جوائن کرنے کے لیے روانہ ہونا تھا، عین اسی دن بسوں کی ہڑتال ہوگئی۔ میں ادارے تک نہ پہنچ سکا اور اگلے روز میری نشست کسی دوسرے طالب علم کو دے دی گئی۔ اس لمحے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک دروازہ عین سامنے بند ہوگیا ہو۔ بہت سی امیدیں ایک ہی دن میں بدل گئیں۔ مگر وقت نے یہ سکھایا کہ ہر بند دروازہ زندگی کا اختتام نہیں ہوتا؛ کبھی وہ انسان کو دوسرے راستے تلاش کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
میں نے ہمت نہیں ہاری۔ فاصلاتی تعلیم کے ذریعے PUC، D.Ed اور پھر B.A. کا سفر جاری رکھا۔ راستہ سیدھا نہیں تھا، مگر چلنے کا عزم باقی تھا۔ اسی دوران تعلیم میرے لیے محض سند حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہی؛ یہ اپنے آپ کو سمجھنے اور دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے کا وسیلہ بنتی گئی۔
پھر زندگی مجھے اجنبی شہروں کی طرف لے گئی۔ بنگلور اور ممبئی میں روزگار کی تلاش، محنت، مختلف ماحول اور مختلف مزاج کے لوگوں سے واسطے نے کتابوں سے باہر کی دنیا پڑھنا سکھایا۔ وہاں معلوم ہوا کہ انسان صرف اس کے لباس، عہدے یا الفاظ سے نہیں پہچانا جاتا؛ اصل شناخت اس کے رویے اور مشکل وقت میں اختیار کیے گئے کردار سے ہوتی ہے۔ کبھی تھکا، کبھی بکھرا، کبھی حالات سے شکست کھائی، مگر ہر بار اپنے آپ کو سمیٹ کر دوبارہ کھڑا ہونا سیکھا۔ عملی زندگی نے مجھے انسان اور انسانی نفسیات کے کئی ایسے سبق دیے جو شاید کسی کتاب میں نہیں مل سکتے تھے۔
اسی سفر میں والدِ محترم کی وفات کا صدمہ بھی زندگی میں آیا۔ جس شخص نے بچپن سے میرے سوال سنے، میرے مطالعے کو دیکھا، میری سوچ کی بنیاد رکھنے میں حصہ لیا، وہ اچانک آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ ان کی جدائی نے میرے اندر ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ کچھ عرصے کے لیے زندگی کی آواز مدھم پڑ گئی، مگر ان کی تربیت میرے اندر زندہ رہی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ غم کے اندھیرے میں بھی قدم رک نہ سکے۔ انسان بعض رشتوں کو کھو کر بھی ان کی دی ہوئی روشنی کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔
ادب کی طرف میرا سفر بھی کسی ایک دن اچانک شروع نہیں ہوا۔ پہلے بہت کچھ پڑھا، پھر سوال کیے، مشاہدہ کیا، دوسروں کے لکھے ہوئے کو سمجھنے کی کوشش کی اور اس کے بعد اپنے خیالات کو لفظ دینے کا حوصلہ پیدا ہوا۔ مجھے خاص طور پر بچوں کی تحریریں اور ان کے سوالات متوجہ کرتے رہے، کیونکہ بچوں کے سوالوں میں مستقبل کی سوچ کے بیج دکھائی دیتے ہیں۔
اہلِ قلم کی صحبت نے اس سفر کو سمت دی۔ فضل افضل یادگیری سے شعری رہنمائی ملی، جبکہ اقبال راہی، شیدا رومانی رائچور، ڈاکٹر افتخار شکیل رائچور، رفیق سوداگر یادگیری، اعظم اثر شاہ پور، ساجد حیات، منیر احمد جامی اور دیگر اہلِ ادب سے مختلف مواقع پر سیکھنے کا موقع ملا۔ عرفان تماپوری نے بھی اردو سے متعلق تعلیمی رہنمائی کی۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کی نو مشقوں کی تربیت گاہِ شاعری و نثر نے میرے ادبی سفر کو فنی شعور دیا۔ یوں قلم صرف اظہار کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ خود کو سمجھنے کا وسیلہ بنتا گیا۔
2016ء میں میری ایک غزل کی اشاعت نے یہ احساس دلایا کہ لفظ اگر سچے ہوں تو اپنا راستہ خود بناتے ہیں۔ اس کے بعد صحافت اور کالم نگاری سے وابستگی بڑھی۔ روزنامہ صدائے مہاراشٹر اور دیگر اخبارات و رسائل میں لکھنے کا موقع ملا۔ ’’حقیقت ٹائمز‘‘ بنگلور، ’’بہمنی نیوز‘‘ گلبرگہ اور ’’انقلابِ دکن‘‘ جیسے اخبارات و جرائد میں تحریریں شائع ہوئیں۔ صحافت نے مجھے معاشرے کو دور سے نہیں بلکہ قریب سے دیکھنا سکھایا۔ عام انسان کے مسائل، اس کی خاموش پریشانیاں اور اس کی جدوجہد میرے مشاہدے کا حصہ بنتی گئیں۔
آج میں جامعہ اسلامیہ احیاء العلوم، تماپور میں تدریس سے وابستہ ہوں۔ بچوں کو پڑھاتے ہوئے مجھے بار بار اپنا بچپن یاد آتا ہے؛ وہی سوال، وہی تجسس اور وہی امکانات۔ شاید اسی لیے تدریس میرے لیے صرف روزگار نہیں، ایک ذمہ داری بھی ہے۔ قلم اور تعلیم دونوں میرے سفر کے ایسے ساتھی ہیں جنہوں نے مجھے اپنے اندر کے انسان سے متعارف کرایا۔
میری دو کتابیں ’’سب کی رہبری‘‘، جو غزلیات کا مجموعہ ہے، اور ’’تاریخِ یادگیر‘‘ زیرِ اشاعت ہیں۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کا بہترین نثر نگار ایوارڈ 2025ء میرے لیے محض اعزاز نہیں بلکہ مزید سنجیدگی سے لکھنے کی ذمہ داری ہے۔ میں خود کو کوئی بڑا شاعر یا ادیب نہیں سمجھتا؛ آج بھی خود کو ایک طالب علم ہی سمجھتا ہوں۔ شہرت میری منزل نہیں۔ خواہش صرف یہ ہے کہ قلم سچ، علم، اخلاق، تعلیم اور انسانیت کے حق میں استعمال ہو۔
میرے نزدیک قلم انسان کو صرف لکھنا نہیں سکھاتا، اپنے طور پر سوچنا بھی سکھاتا ہے۔ جس سوچ کی بنیاد علم اور مطالعے پر نہ ہو، وہ دوسروں کے خیالات کی محتاج رہتی ہے۔ اسی لیے میری زندگی میں پڑھنا، سوچنا، سوال کرنا، لکھنا اور سکھانا ایک ہی سفر کے مختلف مرحلے ہیں۔
لوگ پڑھتے تھے زر، زمین، زیور کے لیے
رہبر تو پڑھتا بس سیکھنے کے لیے
یہ شعر شاید میری زندگی کے سفر کو مختصر ترین الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ میں نے پڑھنے کو صرف کامیابی یا روزگار کا وسیلہ نہیں سمجھا؛ میرے لیے پڑھنا خود کو بہتر بنانے، دنیا کو سمجھنے اور زندگی کو معنی دینے کی کوشش رہا ہے۔
اطہر مبین سے رہبر تماپوری تک کا سفر دراصل نام بدلنے کا سفر نہیں، سوچ بدلنے، خود کو پہچاننے اور زندگی کے تجربات سے سیکھتے رہنے کا سفر ہے۔ راستے بدلتے رہے، لوگ ملتے اور بچھڑتے رہے، کبھی دروازے بند ہوئے، کبھی نئے راستے کھلے؛ مگر سفر نہیں رکا۔ آج بھی سیکھ رہا ہوں، لکھ رہا ہوں اور سکھا رہا ہوں۔ شاید یہی میری اصل پہچان ہے۔
Comments
Post a Comment