اقبال فہمی - (قسط سیزدہم) - عہد طفلی وہ دنیا جو بچے کے لیے پوری کائنات تھی - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی، سولاپور۔


اقبال فہمی - 
(قسط سیزدہم) - 
عہد طفلی وہ دنیا جو بچے کے لیے پوری کائنات تھی - 
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی، سولاپور۔

نظم گل رنگیں میں اقبال نے انسان کی اس بے قراری کو موضوع بنایا تھا جو اسے ظاہری سکون کے باوجود مسلسل تلاش اور جستجو میں مبتلا رکھتی ہے مگر اب ان کی فکر ایک اور سمت مڑتی ہے اور وہ انسان کے موجودہ اضطراب کو اس کے ماضی کی طرف لے جاتے ہیں جہاں زندگی ابھی خواہشات کے بوجھ سے آزاد تھی جہاں دنیا کی وسعتیں ابھی حساب کتاب اور منفعت کے پیمانوں میں تقسیم نہیں ہوئی تھیں اور جہاں ایک بچے کے لیے ماں کی آغوش ہی پوری دنیا تھی اقبال کی یہ نئی غزل دراصل محض بچپن کی یاد نہیں بلکہ انسانی فطرت کے اس دور کی بازیافت ہے جس میں وجود ابھی فطرت سے قریب تھا اور شعور ابھی زندگی کے پیچیدہ سوالات سے آشنا نہیں ہوا تھا یہی وجہ ہے کہ اقبال عہد طفلی کو صرف عمر کا ایک گزرا ہوا حصہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے انسانی احساس کی ایک ایسی کیفیت کے طور پر پیش کرتے ہیں جس میں دنیا اپنی اصل وسعت اور معصومانہ حسن کے ساتھ سامنے آتی ہے

تھے دیارِ نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے

بچے کے لیے دنیا کا تصور بڑوں کی دنیا سے بالکل مختلف ہوتا ہے اقبال کہتے ہیں کہ اس وقت زمین اور آسمان دونوں میرے لیے ایک نیا دیار تھے گویا پوری کائنات ایک تازہ دریافت تھی جس کے ہر گوشے میں حیرت تھی اور ہر منظر میں کشش مگر اسی کے ساتھ وہ فوراً بتاتے ہیں کہ اس وسیع کائنات کے باوجود ماں کی آغوش ہی میرے لیے ایک مکمل جہاں تھی یہ تقابل نہایت معنی خیز ہے کیونکہ ایک طرف زمین و آسمان کی بے کراں وسعت ہے اور دوسری طرف ماں کی آغوش کی محدود سی جگہ مگر بچے کے احساس میں یہ محدود آغوش پوری کائنات پر بھاری ہے
یہاں اقبال صرف ماں کی محبت کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ انسانی زندگی کے اس ابتدائی احساس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جس میں تحفظ محبت اور اطمینان ایک ہی مرکز میں جمع ہوجاتے ہیں بچہ ابھی دنیا کو اپنے مفادات کی نظر سے نہیں دیکھتا اس کے لیے زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ وہ محبت ہے جس میں اسے اپنا وجود محفوظ محسوس ہوتا ہے اسی لیے ماں کی آغوش اس کے لیے صرف جسمانی پناہ نہیں بلکہ ایک ایسا عالم ہے جہاں خوف اپنی جگہ کھو دیتا ہے اور بے یقینی ابھی پیدا نہیں ہوئی ہوتی
اقبال کے ہاں ماں کی آغوش کا یہ تصور آگے چل کر انسانی زندگی کے ایک بڑے سوال سے جڑ جاتا ہے کہ انسان جب شعور کی پیچیدگیوں میں داخل ہوتا ہے تو وہ اس ابتدائی اطمینان سے کیوں محروم ہوجاتا ہے بچپن میں انسان کو کسی فلسفے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس کے وجود کا اطمینان خود اس کے تجربے میں موجود ہوتا ہے لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ خواہشیں بڑھتی ہیں تعلقات پیچیدہ ہوتے ہیں دنیا کے پیمانے بدلتے ہیں اور وہی انسان جو کبھی ایک آغوش میں پوری دنیا پاتا تھا پوری دنیا حاصل کرکے بھی اطمینان تلاش کرتا رہتا ہے

تھی ہر اک جنبش نشانِ لطفِ جاں میرے لیے
حرفِ بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے

یہاں اقبال بچپن کی اس لطیف کیفیت کو بیان کرتے ہیں جہاں زندگی کا ہر معمولی سا احساس بھی معنی سے بھرپور معلوم ہوتا تھا ہر جنبش میں لطف تھا ہر حرکت میں زندگی کی تازگی محسوس ہوتی تھی بچے کے لیے کسی چیز کی قدر اس کے مادی فائدے سے متعین نہیں ہوتی بلکہ محض اس لیے کافی ہوتی ہے کہ وہ اسے حیرت اور خوشی عطا کر رہی ہے
اس کے مقابلے میں دوسرا مصرع انسانی شعور کی ابتدائی معصومیت کو اور زیادہ گہرا کردیتا ہے کہ میری اپنی زبان بھی میرے لیے حرف بے مطلب تھی یعنی بچہ ابھی الفاظ کے پیچیدہ معانی اور منطقی مطالب سے واقف نہیں ہوتا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی دنیا بے معنی ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کی زندگی الفاظ کے معنی سے پہلے احساس کے معنی سے آباد ہوتی ہے وہ بولنے سے پہلے محسوس کرتا ہے سمجھنے سے پہلے حیران ہوتا ہے اور نام رکھنے سے پہلے چیزوں سے تعلق قائم کرلیتا ہے
یہاں اقبال کی فکر میں ایک نہایت لطیف نکتہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی اصل زندگی صرف وہ نہیں جو زبان بیان کرتی ہے بلکہ اس کے اندر ایک ایسی دنیا بھی موجود ہوتی ہے جو الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی بچپن میں یہ دنیا غالب ہوتی ہے لیکن بعد میں الفاظ خیالات اور تصورات اس پر غالب آجاتے ہیں اور انسان کبھی کبھی حقیقت کے بجائے اس کے ناموں اور تصورات میں زندگی گزارنے لگتا ہے

دردِ طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورشِ زنجیرِ در میں لطف آتا تھا مجھے

اب اقبال اس معصوم دنیا کے ایک اور منظر کی طرف آتے ہیں بچپن میں اگر کوئی تکلیف پہنچتی تو رونا آتا تھا لیکن اسی رونے اور تکلیف کے اندر بھی ایک عجیب لطف تھا گھر کے دروازے پر زنجیر کی آواز بھی بچے کے لیے ایک مستقل تجربہ تھی جس میں شور تھا حرکت تھی انتظار تھا اور زندگی کی ایک خاص رونق تھی
شورش زنجیر در کا ذکر بظاہر ایک معمولی بچپن کی یاد معلوم ہوتا ہے مگر اقبال کی شاعری میں معمولی چیزیں بھی انسانی احساس کی علامت بن جاتی ہیں دروازے کی زنجیر کی آواز کسی آنے والے کی خبر بھی ہوسکتی تھی کسی تعلق کی آمد بھی اور گھر کی خاموش فضا میں اچانک پیدا ہونے والی ایک حرکت بھی بچہ ان چیزوں کو اس طرح محسوس کرتا ہے جیسے دنیا ہر لمحہ اس سے کوئی نئی بات کرنے والی ہو
یہاں ایک اور اہم فرق سامنے آتا ہے بچپن میں خوشی بڑی چیزوں کی محتاج نہیں ہوتی ایک آواز ایک حرکت ایک چہرہ ایک آہٹ اور ایک معمولی واقعہ بھی بچے کے لیے پوری مسرت بن سکتا ہے مگر بالغ انسان کی خواہشات بڑھتی جاتی ہیں اور خوشی کے لیے بڑے سے بڑا سامان بھی ناکافی محسوس ہونے لگتا ہے اقبال اس طرح اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے دراصل انسانی فطرت کے اس راز کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ خوشی کا تعلق ہمیشہ چیزوں کی کثرت سے نہیں بلکہ احساس کی تازگی سے ہوتا ہے
اسی مقام پر عہد طفلی کی یہ غزل محض یاد ماضی نہیں رہتی بلکہ اقبال کے فکری سفر کا ایک اہم مرحلہ بن جاتی ہے گل رنگیں میں جس انسان کو ہم ذوق جستجو کے ہاتھوں بے قرار دیکھ رہے تھے اب اسی انسان کی نگاہ اپنے اس زمانے کی طرف اٹھتی ہے جب جستجو ابھی سوال نہیں بنی تھی اور دنیا ابھی جواب طلب مسئلہ نہیں بلکہ حیرت انگیز تجربہ تھی اس وقت زمین و آسمان نئے تھے ماں کی آغوش ایک مکمل جہاں تھی ہر جنبش لطف جان کا نشان تھی اور ایک معمولی سی آواز بھی زندگی میں لطف پیدا کرسکتی تھی
لیکن اقبال ماضی میں واپس جاکر وہیں ٹھہرنا نہیں چاہتے ان کی شاعری میں ماضی کی یاد ہمیشہ حال کے انسان کے لیے آئینہ بن کر آتی ہے عہد طفلی کا یہ عالم ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ عمر کے ساتھ ہم نے صرف بچپن ہی نہیں کھویا بلکہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے احساس کی وہ سادگی بھی کھو دی جس کے باعث ایک معمولی سی جنبش زندگی کا لطف بن جاتی تھی اور ایک محدود سی آغوش پوری دنیا معلوم ہوتی تھی
اقبال کے یہاں اصل سوال یہی ہے کہ انسان اپنی عمر کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے شعور تو حاصل کرتا ہے مگر کیا وہ اپنے اندر کی اس تازگی کو بھی محفوظ رکھ پاتا ہے جس کے بغیر علم محض معلومات اور زندگی محض مصروفیت بن جاتی ہے عہد طفلی اسی کھوئی ہوئی تازگی کی طرف پہلا اشارہ ہے اور اقبال کی یہ غزل آگے چل کر اسی سوال کو مزید گہرا کرتی ہے کہ وہ بچپن جس میں دنیا نئی تھی آخر انسان کے اندر سے کیوں رخصت ہوجاتا ہے اور کیا شعور کی بلندی کے ساتھ اس معصومانہ نظر کی واپسی ممکن ہے جس کے لیے ہر منظر میں لطف اور ہر آہٹ میں زندگی کا پیغام پوشیدہ تھا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔