کالم - خاندان کیوں بکھرتے ہیں - از قلم: سلمی ادیب ، حیدرآباد۔

 کالم - 
 خاندان کیوں بکھرتے ہیں - 
از قلم: سلمی ادیب ، حیدرآباد۔

وہ پہلے گھرانوں میں پلتی تھی چاہت
شفقت ، محبت ، تحفظ ، الطاعت

پہلے خاندان کا مطلب مشترکہ نظام ہوا کرتا تھا جس میں دادا دادی ، تایا تائی ، چاچا چاچی سب ہوا کرتے تھے اور آج خاندان کا مطلب انفرادی ہوگیا ہے ۔
خوشیاں اور دکھ سکھ بھی سانجھے ہوا کرتے تھے ، بڑوں کی ڈانٹ شفقت ہوا کرتی تھی ، بڑؤں کا ادب کیا جاتا تھا اور چھوٹوں سے شفقت سے پیش آیا جاتا تھا ۔ بڑوں کے فیصلوں پر چھوٹے سر جھکا دیا کرتے تھے کہ یہ اُن کی تربیت کا قاصہ ہوا کرتے تھے ۔ لیکن آج ہمارے معاشرے میں خاندان کا تصور ہی بدل گیا ہے جس کے نتیجے میں خاندان بکھر رہے ہیں مثلاً
اسلامی تعلیم کی کمی، اخلاقی تعلیم کا فقدان، نسلی تفاوت، سوشل میڈیا، عدم برداشت،
مالی مشکلات اور وسائل کی کمی،
طرز زندگی وغيره وغیره۔
آج ہمارے گھرانوں میں اسلامی تعلیم کا فقدان ہے ہم صرف نام کے لئے اسلامی تعلم حاصل کئے ہوئے ہیں لیکن عمل ندارد۔ ہم دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں دوسروں کو مشورہ دیتے ہیں لیکن خود عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہمارے اخلاق میں گراوٹ آرہی ہے ہم رسول اللہ کی سنت کا ذکر تو بڑے فخر سے کرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے۔ نسلی تفاوت بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ زمانے کے اعتبار سے بزرگوں اور بچوں نظریہ کا فرق بھی بہت بڑاسب ہے۔ خاندان کے بکھرنے کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے ہم سب ریل دیکھتے ہیں ، آگے بھیج دیتے ہیں سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام ہوگیا عمل پھر بھی ندارد۔ ہم صرف بچوں کو الزام نہیں دے سکتے ہم بڑے بھی اسی مشاغل میں مصروف ہیں تو پھر ہم بچوں کی تربیت پر کیسے توجہ دے پائنگے۔ ہمارا طرز زندگی بھی خاندان کے بکھرنے کی بڑی وجہ بن رہی ہے پیسے کی ریل پیل بھی لوگوں کو خودسر اور ضدی بنا رہی ہے۔ مالی مشکلات اور وسائل کی کمی بھی رشتوں میں فاصلے پیدا کرتے ہیں اور عدم برداشت بھی آجکل بچوں کا مسئلہ بنا ہوا ہے الغرض کئی وجوہات ایسے ہیں جو بتانا بھی مشکل ہے۔ اور سب سے بڑی وجہ ہم خود ہیں دوسروں کو تو نصیحت کرتے ہیں ، اپنوں پر انگلی اٹھاتے ہیں لیکن خود ہم اپنے آپ کو نہیں دیکھتے۔ ہمارا یہ ماننا ہے کہ ہم اپنے آپ سے اور اپنے گھر سے شروعات کریں، برداشت کریں، صلاح کرلیں، جو کوئی اپنے بھائی بہن سے روٹھے ہوئے ہیں اُنہیں منالیں، بے شک زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے لیکن تھوڑی محنت، توجہ اور کوشیش سے ہم پورا نہ سہی تھوڑا تو سدھار لاسکتے ہیں ۔



 غزل


 وہ پہلے گھرؤں میں پلتی تھی چاہت
شفقت، محبت، تحفظ، اطاعت

انا، ضد ہے نفرت دلوں میں ہمارے
گھروں میں بھی اکثر ہے ہوتی سیاست

زمانہ یہ آگے ہی جانے لگا ہے
دیا تھا یہ کس نے اُسے پھر اجازت

تھے دکھ درد سانجھے تھی خوشیاں بھی سانجھی
دلوں میں ہمارے بڑوں کی تھی عزت

ادھورے ہیں تنہا ہیں الفت بنا سب
سمجھتے ہیں لیکن نہ مانے حقیقت


کہیں کھو گئی ڈھونڈ لیجے یہیں پر
محبت، محبت، محبت، محبت

ندارد کہیں ہیں وسائل ادیبہ
کہیں کوئی اپنی دکھائے امارت

  بحر : فعولن فعولن فعولن فعولن   

سلمی ادیب
حیدر آباد انڈیا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔