خدا کی یہ عظیم کائنات - تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی


خدا کی یہ عظیم کائنات - 
 تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی
 9881836729

 خداے برتر کی یہ کائنات کتنی عظییم اور وسیع ترین ہے۔ خدا کی یہ کائنات میں اربوں بلکہ انگنت سیارے ہیں , جو اپنے عمل میں سرگرم اور مصروف ہیں۔ خدا نے پہاڑوں کو کرارض پر استحکام سے کھڑا کیا ہے۔ اور زمین کو انسانوں کے لیے ہموار کیا. یعنی اس زمین کو انسان کے لیے بچھونا بنایا۔ انسان ایک زمانہ میں اپنی ناقص عقل سے یہ سوچتا تھا کہ رات میں یہ چمکتے ہوے سیارے آسمان پر چسپاں ہیں ہے۔ قرآن نے یہ بتایا کہ ہر سیارہ اپنی اپنی مدار میں فرض شناسی کے ساتھ گھوم رہا ہے۔ کل فی فلک یسبحون۔ (سورہ یاسین) اور سائنس نے بھی اسکی تصدیق کی ہے۔ ایک بہت بڑی طاقت نے جو اپنی بے پناہ صلاحیت کے ساتھ اس عظیم کائنات کی تخلیق کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وہی کا نزول ہوتا تو آپ کو وحی نازل ہونے سے پہلے گھنٹی جیسی آواز محسوس ہوتی تھی, اور پھر وحی کا نزول۔ آج گفت وشنید کے جو ذرائع ایجاد ہوے ہیں ان سے بھی بات یا کوئ پیغام کو ریسیو کرنے سے قبل گھنٹی کی آواز آتی ہے یا کوئ ہلکہ سا اشارہ, جس کو موجد (Inventor) نے قرآن سے ہی اخذ کیا ہے۔ گویا کہ سائنس کی ہر ( invention) ایجاد قرآن اور اللہ کی بے پناہ قدرت کا شاہکار ہے۔ اللہ نے سمندروں کو ٹھاٹے مارتا ہوا بنایا ہے۔ اور سیاروں کو سمندروں میں راستوں کی نشاندہی کے لیے۔ کائنات ایک عظیم اور قدرت کا شاہکار ہے۔ ( Charless darwin) چارلیس ڈارون نے اپنی کتاب( Orgin of species) میں کہا ہے۔انسان, پہلے سے انسان نہیں تھا۔ بلکہ بندر تھا ,اور آہستہ آہستہ بنتا رہا۔ قرآن نے اسکی سب سے پہلے تردید کی۔ دنیا کا سب سے پہلا انسان آدمی کی شکل میں اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اور کوئ جرثومے سے نہیں مٹی سے پیدا کیا۔ دوسرے یہ کہ قرآن کریم میں واضح ہے کہ اللہ نے انسان کی تخلیق کو ایک بہترین سانچے میں ( Cration) پیدا کیا ہے۔ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ چناں چہ ( Charless darwin ) کے ففروضہ ارتقائ نظریہ کی تردید میں بہت سارے قدیم سائنسدانوں scientist) نے اللہ کی موجودگی ( God existence) اور ساری کائنات کی تخلیق کا اظہار کیا ہے۔ ( IsaacNewton) اسحاق نیوٹن فادر آف فزکس رقم طراز ہے کہ یہ کائنات کا بہترین اور منظم سسٹم صرف ایک قادر مطلق ( Omnipotent) کے ہی ایماء اور اور حکم سے رونما ہوسکتا ہے ,اور رونما ہوا ہے۔ البرٹ آئن سٹائن ( Albert Ainstein) کہتا ہے کہ میں ( Atheist) ملحد نہیں ہوں، ایک طفل کے مانند ہوں جو ایک بہت بڑی لائبریری میں داخل ہوا ہوں۔ البیرونی اور ابن الھیثم جو مسلم سائنس داں ہیں, کہتے ہیں کہ سائنس خدائ نشانیوں اور اسکی خوبصورت تخلیق کو سمجھنے کا نام ہے۔دور جدید کے سائنس داں جیسے پروفیسر فرانسس (Francis collins) امریکہ , کہتا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے انسان کا پورا DNA بڑھنے والا, سائنس اور ایمان میں کوئ تضاد نہیں۔ مزید گویا ہے کہ DNA خداے برتر کی لکھی کتاب ہے۔ پروفیسر کیتھ مور, (professor keith Moore) جو دنیا کا سب سے بڑا جنین ( Embryology) کا ماہر تھا ۔ قران میں جنین کے بارے میں آیات دیکھ کر مسلمان ہوا۔جہاں قرآن کریم میں ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا, پھر اسکو نطفہ میں تبدیل کیا۔ جو محفوظ اور مخصوص جگہ ہے۔ غرض کہ دور قدیم اور دور جدید کے سائنس دانوں نے خدا کے وجود (Existence of God) اور اسکی خوبصورت تخلیق کا اظہار کیا ہے۔ چناں چہ ( Charless Darwin ) کے مفروضہ ارتقائ نظریہ کی مکمل تردید کی ہے۔ اور اس خام نظریہ کو گویا کہ ردی کی ٹوکری میں رکھ دیا گیا۔ یہ بات الگ ہے کہ کچھ یونیورسٹیز اس تھیوری کو پڑھاتی۔ گھڑی جو وقت بتاتی ہے, جو اپنے آپ نہیں بنتی گھڑی کو بنانا پڑھتا ہے۔ جب ایک معمولی گھڑی اپنے آپ نہیں بنتی,تو پھر یہ انسان اور اتنی بڑی کائنات ( Automatic) کیسے وجود میں آتی۔ خدا مسبب الاسباب ہے, اور دنیااوریہ لا متناہی کائنات کے تخلیق کا سبب بھی خدا ہی ہے۔ جو ہمیشہ سے ہے ,اور ہمیشہ رہیگا۔ ایک حرف خود سے نہیں بن سکتا, تو پھر اتنی عظیم کائنات کیسے تخلیق پاتی۔ ان فی خلق السموات والارض واختلاف الیل والنہار لایت لاولی الالباب۔ خدا کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ رات اور دن کی تبدیلی ,جس میں غور و فکر اور تدبر کی دعوت سخن اور تلقین ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ اس کرہ ارض پر گھومو اور سیاحت کرو, اور دیکھو کہ اللہ نے ظلم کرنے والوں اور ظالموں کا کیسا حال اور کیسی ان کی درگت بنائ ۔اور اللہ کی نشانیوں اور خوبصورت تخلیق پر غور کرو۔ یہ کائنات اور اس میں ہمہ قسم کی تخلیق انسان کو غور وفکر کی دعوت سخن دیتی ہے۔ چناں چہ اللہ کا ارشاد ہے, آسمانوں اور زمین کے درمیان جو ہے,اس کو کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ بلکہ ایک با مقصد زندگی گزارنے کا ذریعہ جو اللہ کو مطلوب ہے۔ اگر دیکھا جاے تو اس لا متناہی کائنات میں انسان کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے اور نہیں کے برابر ہے۔ اور خدا کتنا عظیم ہے۔ جس نے ان پہاڑوں اور سمندروں اور اربوں سیاروں کو انسان کے لیے تھامے رکھا ہے۔ اس عظیم کائنات میں اللہ نے انسان کا مرتبہ صرف تقوی کی بنیاد پر رکھا ہے۔ تم میں بہترین وہ ہے جو تقوی پرست انسان ہے۔وہ انسان اس کرہ ارض پر چمکتے ہوے سیارہ کی مانند ہے۔ اور اس کے برعکس ایک بجھا ہوا چراغ جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہو۔ اللہ قرآن میں انسانوں سے مخاطب ہے۔ کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ آپ کو یوں ہی پیدا کیا گیا, کیا آپ میری طرف لوٹ کر نہیں آوگے۔ چناں چہ قرآن اور سائنس دونوں اس بات پر نشاندہی اور اس بات پر دلالت کررے ہیں کہ یہ دنیا یہ کائنات یوں ہی وجود میں نہیں آئ بلکہ اس کا خالق ( Creator ) بڑی طاقت اور قدرت والا ہے۔ لیکن اتنی بڑی اور لا محدود کائنات میں صرف ایک انسان ہی ہے جب وہ آسائیش میں ہوتا ہے تو اللہ کو بھول جاتا ہے۔ اور جب کوئ چھوٹی سی مصیبت آں پڑتی ہے تو وہ اللہ کو یاد کرتا ہے۔ قرآن نے کہا ہے۔ اے انسان تو اچھے اور برے اعمال کرنے میں مشقت اور محنت کرتے رہتا ہے۔ پھر ایک دن ایسا بھی نمودار ہوتا کہ تجھے مرنے کے بعد رب کے حضور حساب کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ چنانچہ یہ کائنات کی تخلیق اور انسان کی پیدائش اور موت خدا کی طرف سے محض ایک امتحان ہے ۔ انسان اور جن کو اسی لیے پیدا کیا گیا کہ وہ اپنے رب کی عبادت کریں۔ چنانچہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے ۔یہ کائنات آسمان اور زمین بے فائدہ اور بے مقصد پیدا نہیں کیے گئے ۔اسی طرح انسان کی تخلیق اور پیدائش کا بھی ایک اہم مقصد ہے ،اور وہ یہ کہ اللہ کی رضا اور اس کی عبادت اور اللہ کے احکامات پر زندگی گزاریں۔ قران کا نزول اسی لیے ہوا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔