ایک خوشگوار تبدیلی - راج شیکھر پاٹل اشٹور۔


ایک خوشگوار تبدیلی - 
راج شیکھر پاٹل اشٹور۔ 
فون نمبر: 9448128346
  
ضلع کانگریس اور بیدراربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی باگ ڈورسنبھالنے کے معاملے میں حالیہ تبدیلی شہر بیدرکے سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ ضلع کانگریس صدر کے طور پر عبدالمنان سیٹھ (AMS) کی تقرری کوئی حیران کن بات نہیں ہے، جبکہ ونود کمار اَپے(Vinod Kumar Appe) کا BDA کی سربراہی سنبھالنا قابلِ توجہ ہے۔ جمہوریت میں تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے، چاہے وہ ملازمت ہو، سیاسی جماعتیں ہوں یا سرکاری نامزدگیاں۔خوش قسمت ونوداَپے:۔ونود کمار اپے کو BDA کی سربراہی کے لیے خوش قسمت سمجھا جا رہا ہے۔وہ کانگریس پارٹی کی جانب سے نامزد ہونے والے سب سے جواں سال فرد ہیں۔ اس سے قبل، سن 2000 سے پہلے جنتا دل کے دورِ حکومت میں پنڈت چدری نے 31 سال کی عمر میں BDA کی قیادت کی تھی
AMS ایک ہمہ جہت شخصیت:۔ اے ایم ایس ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں جنہوں نے سماجی، سیاسی اور تعلیمی شعبوں میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے۔ وہ مشہور ”شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز“ کے بانی رکن ہیں، جس کا ہیڈ آفس بیدر میں ہے اور ملک کی کئی ریاستوں میں اس کی شاخیں موجود ہیں۔ان کی جدوجہد پسِ پردہ رہی ہے۔ وہ 1990 کی دہائی کے اوائل سے کانگریس پارٹی میں سرگرم ہیں۔ وہ بیدر، بنگلورو اور دہلی شہروں کے مثلث کے درمیان کثرت سے سفر کرتے رہے ہیں، جس پر آنجہانی دھرم سنگھ وزیراعلیٰ کرناٹک کہا کرتے تھے کہ ”آپ نے تو ان شہروں کو اپنا گھر آنگن بنا لیا ہے“اُس سفر نے انہیں پارٹی رہنماؤں اور بااثر شخصیات کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے ایس ایم کرشنا کی حکومت کے دوران (1999-2004) ریاستی ہاؤسنگ بورڈ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، جس سے انہیں اپنے سیاسی سفر کو آگے بڑھانے میں کئی طرح سے مدد ملی۔
 کامیابیوں کا دائرہ وسیع:۔ آج ان کی کامیابیوں کا دائرہ وسیعہو چکا ہے۔ وہ کئی تنظیموں سے وابستہ ہیں اور سوشل میڈیا پر، خاص طور پر ”سیو کانسٹی ٹیوشن“ (Save Constitution) گروپ کے ساتھ بہت سرگرم ہیں۔ اس گروپ نے ہر فرد کے حقوق کے بارے میں آگاہی پیدا کرتے ہوئے کافی اثر ڈالا ہے۔
موجودہ صورتحال:۔کے تناظر میں دیکھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل دشمن، اور AMS بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ماضی میں ضلع کانگریس میں کئی لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ یہ بات عیاں ہے اور اس بارے میں بحث بھی کی جاتی رہی ہے کہ پارٹی صدر کے طور پر ان کی تقرری ضلع کے انچارج وزیر اور بیدر کے رکن اسمبلی کی خواہشات کے منافی ہے۔ یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ اے ایم ایس (AMS) کو ہمنا آباد گروپ کی حمایت حاصل ہے۔
کیاAMSنے موقع گنوایا ہے؟:۔ پارٹی صدارت کے ساتھ ساتھ بی ڈی اے (BDA) کی سربراہی کے لیے اے ایم ایس پر غور کیوں نہیں کیا گیا؟کیا اے ایم ایس کے ہاتھ سے موقع نکل گیا ہے؟ ماضی میں آنجہانی مانک راؤ پھولیکر، آنجہانی قاضی ارشد علی اور حال ہی میں بسواراج جابشیٹی بیک وقت دونوں عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ اس کی واحد وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ AMSکے رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے مفادات وابستہ ہیں۔یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ”برنداون لے آؤٹ“وغیرہ کے نام سے اپنے کاروبار کی تشہیر کے لیے کئی فلیکس (اشتہاری بورڈ) لگائے ہیں جن پر ان کی تصویر نمایاں طورپر موجود ہے۔ اور یہ تصویرآج بھی بیدر۔حیدرآباد روڈ پر نمایاں طور پر آویزاں ملتی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے:۔ پارٹی کے ضلع صدر کے طور پر ان کی مدتِ کار دلچسپ اور اہم واقعات سے بھرپور رہنے کی توقع ہے جس میں نئے خیالات کی شمولیت بھی ممکن ہے۔ تاہم اس تبدیلی کی مختلف طریقوں سے مخالفت کا بھی امکان ہے۔ AMS اس نئے عہدے پر ہی اکتفا نہیں کریں گے، ان کی فطرت میں مزید بلندی حاصل کرنے کی کوشش شامل رہی ہے۔ ماضی میں بھی انہوں نے بہت سی کوششیں کی ہیں اور مستقبل میں بھی وہ اپنے وسیع سیاسی روابط کی بدولت مزید عہدوں یا کامیابیوں کے لیے زور لگائیں گے۔
احتیاط برتنے کاامکان:۔ آنے والے دنوں میں انچارج وزیر ایشور کھنڈرے اور بیدر کے رکن اسمبلی رحیم خان سے ان کے تعلقات اور حکمت عملی زیرِ بحث رہے گی۔ فی الحال صورتحال کا حتمی تعین کرنا مشکل ہے، لیکن احتیاط برتنے کی توقع ہے کیونکہ اے ایم ایس (AMS) نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں بیدر کی نشست سے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی، حالانکہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ رحیم خان وہاں کے موجودہ رکن اسمبلی ہیں۔ انہوں نے 2024 کے پارلیمانی انتخابات کے لیے بھی پارٹی ٹکٹ کا دعویٰ کیا تھا۔ چنانچہ توقع ہے کہ ایشور کھنڈرے اور رحیم خان متحدہ طورپر اے ایم ایس کے معاملے میں محتاط رویہ اپنائیں گے۔ ان کے سیاسی سفر کا تسلسل نہ صرف 2028 کے اسمبلی اور 2029 کے پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی پر منحصر ہوگا بلکہ اس اہمیت اور مقبولیت پر بھی جو وہ اس وقت تک حاصل کر پائیں گے۔ بصورتِ دیگر، وہ کسی دوسری پارٹی (سوائے بی جے پی کے) کے نشان پر پارلیمانی انتخابات لڑنے کے لیے پارٹی چھوڑ سکتے ہیں۔ ایسی پارٹی جس پر ایس سی (SC)، ایس ٹی (ST)، او بی سی (OBC) اور اقلیتوں کا اعتماد ہو۔ خاص طور پر کثیر الجہتی انتخابی مقابلے کی صورت میں۔ ماضی یعنی 2013 میں انھوں نے بی ایس پی (BSP) کے ٹکٹ پر بیدر ساؤتھ اسمبلی نشست سے انتخاب لڑ کر ایسا کیا تھا۔ اے ایم ایس اکثر یہ بات دہراتے ہیں ”ٹھہرے ہوئے پانی سے بدبو آتی ہے، اس لیے پانی کو بہتے رہنا چاہیے،چاہے وہ پتھروں کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے گزرے یا چٹانوں کو کاٹ کر اپناراستہ بنائے“ان کی صاف ستھری عادات، اچھی صحت اور مستحکم مالی حیثیت ان کے مستقبل کے سیاسی سفر کے لیے سود مند ہیں۔ میں وسیم ؔبریلوی کے اس شعر پر اپنی بات ختم کرتا ہوں ؎
اترنا آسمانوں سے تو کچھ مشکل نہیں لیکن
زمیں والے زمیں پر تجھ کوتوچلنے نہیں دیں گے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔