سہارنپور مسجد معاملہ: غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ - جلگاؤں کی ایکتا تنظیم کا سپریم کورٹ، انسانی حقوق و اقلیتی کمیشن اور یوپی حکومت کو مشترکہ مکتوب۔


جلگاؤں (عقیل خان بیاولی): مسجد محض اینٹ اور پتھر کی عمارت نہیں بلکہ عقیدت، تاریخ اور مذہبی جذبات سے وابستہ عبادت گاہ ہوتی ہے۔ ایسے میں اس سے متعلق کسی بھی معاملے میں شفافیت، غیر جانب داری اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی ناگزیر ہے۔ اسی مطالبے کے تحت جلگاؤں کی ایکتا تنظیم نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، قومی انسانی حقوق کمیشن، قومی اقلیتی کمیشن اور اترپردیش حکومت کو مشترکہ مکتوب روانہ کرتے ہوئے سہارنپور مسجد معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ معاملے سے متعلق تمام انتظامی اور عدالتی ریکارڈ کی جانچ کی جائے، متعلقہ دستاویزات کے ساتھ انہدام سے متعلق دستیاب تصاویر اور ویڈیوز بھی محفوظ رکھے جائیں۔ تحقیقات کے دوران اگر کسی قانونی خامی یا کارروائی میں بے ضابطگی سامنے آئے تو ذمہ داری طے کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
تنظیم کے فاروق شیخ نے کہا کہ ان کی جدوجہد کسی فرد یا انتظامیہ کے خلاف نہیں بلکہ آئین اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔ اگر کارروائی مکمل طور پر قانونی ہے تو غیر جانب دارانہ تحقیقات سے حقیقت مزید واضح ہوجائے گی، اور اگر کسی سطح پر بے ضابطگی پائی جاتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
مشترکہ مکتوب تنظیم کے کارگزار صدر حافظ عبد الرحیم پٹیل اور فاروق شیخ نے مقامی نائب تحصیلدار و ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ ویشالی چوہان کے حوالے کیا۔ اس موقع پر عارف دیشمکھ، متین پٹیل، انور صیقٹلگار، حاجی مختار، محمود رنگریز، سعید شیخ، ادریس خان سمیت تنظیم کے متعدد عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔
تنظیم نے کہا کہ مذاہب مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ انصاف، آئین اور جمہوری اقدار کا تحفظ ہی ہر تنازع کا پائیدار حل ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔