ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کے قومی صدر ڈاکٹر سلیم خان کے دورۂ بنگلور کے موقع پر ادبی اجلاس۔


بنگلور (راست) ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، بنگلور کے زیرِ اہتمام قومی صدر، معروف کالم نگار و صحافی ڈاکٹر سلیم خان صاحب کے دورۂ بنگلور کے موقع پر 27 ستمبر 2026ء، بروز اتوار، شانتی سدن، آر ٹی نگر، بنگلور میں ایک خصوصی ادبی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس دو نشستوں پر مشتمل تھا، جس میں شہر کے متعدد اہلِ قلم، شعرا، ادبا اور ادب دوست حضرات نے شرکت کی۔ پہلی نشست کی صدارت جناب محمد عابد اللہ اطہر شیموگوی، صدر ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، کرناٹک نے کی۔
پہلی نشست کا آغاز مولانا مبارک عمری صاحب کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ بعد ازاں سکریٹری ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، بنگلور عبداللہ نادر عمری نے استقبالیہ کلمات پیش کیے۔ ڈاکٹر محمد ثناء اللہ شریف صاحب نے افتتاحی کلمات میں اہلِ قلم کو ادب کے ذریعے انسانیت کے اعلیٰ اقدار و اخلاق کی اصلاح اور شاعری و ادب کو پاکیزہ، معیاری، تعمیری اور اصلاحی رخ دینے کی طرف متوجہ کیا۔
کلیدی خطاب قومی صدر ڈاکٹر سلیم خان صاحب نے "کل ہند کانفرنس: ادارے سے تحریک تک" کے موضوع پر کیا۔ انہوں نے فنکار کی صلاحیتوں کے صحیح استعمال کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو انسانیت کی خدمت اور معاشرے کی تعمیر کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔ انہوں نے ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کے سفر اور سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے 14، 15 نومبر کو ناگپور میں منعقد ہونے والی کل ہند کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ شرکت کی دعوت دی۔ اس کے بعد صدرِ مجلس جناب محمد عابد اللہ اطہر شیموگوی صاحب نے صدارتی خطاب کیا۔ پہلی نشست کی نظامت جناب عظمت اللہ عظمت صاحب نے کی۔
دوسری نشست کا آغاز 2:30 بجے شیخ حبیب اور اسلم بنارسی صاحب کے نعتیہ کلام سے ہوا۔ اس کے بعد عبداللہ نادر عمری نے "ادب اور نوجوان: فکر، رول اور مستقبل" کے عنوان سے مقالہ پیش کیا، جس میں نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت اور ادب کے ذریعے معاشرے کی تعمیر میں نوجوانوں کے کردار پر گفتگو کی گئی۔
بعد ازاں "ادب اور عصرِ حاضر کے تقاضے: ہماری ترجیحات کیا ہوں؟" کے عنوان سے مذاکرہ ہوا، جس میں جناب لئیق اللہ خان منصوری، نائب صدر ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، کرناٹک، جناب عظمت اللہ عظمت، سیکریٹری ادارۂ ادبِ اسلامی ہند، کرناٹک، اور جناب جمیل احمد ملنسار نے شرکت کی۔ معروف کالم نگار محمد اعظم شاہد نے کنڑ زبان کے بعض غیر مسلم اہلِ قلم کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی بعض ادبی کاوشوں میں پیغمبرِ اسلام ﷺ اور مسلمانوں کو موضوع بنایا گیا ہے، جس سے اسلام کی حقیقی شبیہ پیش کرنے اور اسلام و مسلمانوں کے بارے میں پائی جانے والی بعض غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
دوسری نشست کی نظامت معروف قلم کار عبداللہ سلمان ریاض قاسمی نے کی۔ اختتام پر ڈاکٹر سلیم خان صاحب نے صدارتی گفتگو میں موجودہ ہندوستان کے حالات کے تناظر میں اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شعرا و ادبا کو مثبت فکر، اخلاقی اقدار اور تعمیری شعور کو فروغ دینے کی طرف متوجہ کیا۔
آخر میں ناظمِ اجلاس ڈاکٹر محمد ثناء اللہ شریف صاحب کے کلماتِ تشکر کے ساتھ یہ بامقصد ادبی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔