غزل - ازقلم : میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔


غزل - 
ازقلم : میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔ 

ہم نے لاریب چاہا تجھے ہی 
ایسے جانا کہ جانا تجھے ہی

چاہنے والا، سمجھا تجھے ہی 
ہرجہاں نے پکارا تجھے ہی 

ایک دن پھر ہوا حادثہ یہ 
یاد آیا، خدایا تجھے ہی 

میرے محبوب تیری قسم ہے 
قصہ اپنا بتایاتجھے ہی 

کیا شہادت یہاں پیش کردیں 
روزوشب میں نے چاہا تجھے ہی  

خوف سارے جہاں کو ہے، دن رات 
موت کاکھیل بھایا تجھے ہی 

یاد کچھ بھی نہیں، پوچھتے ہیں 
کب کہاں کیوں بھلایا تجھے ہی 

تیری نظر کرم ہی تو ہے نا
چھوڑ کر خود کو، نبھایا تجھے ہی 

میرؔاندھا نہیں ہے خدایا 
رہ بناتے وہ دیکھا تجھے ہی

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔