مجیب خان کو “راشٹر کوی دنکر سنسکرتی سمان” سے سرفراز کیا گیا۔


معروف شاعر، ادیب اور ہدایت کار راشٹر کوی رام دھاری سنگھ دنکر کی یومِ پیدائش کے موقع پر کولکاتا کے گورنر ہاؤس میں ایک باوقار ادبی و ثقافتی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ممبئی کے معروف ہدایت کار اور تھیٹر سے وابستہ شخصیت مجیب خان کو “راشٹر کوی دنکر سنسکرتی سمان” سے سرفراز کیا گیا۔

مجیب خان کو یہ باوقار اعزاز جناب آر۔ این۔ روی جی ، گورنر مغربی بنگال کے ہاتھوں پیش کیا گیا۔ اعزاز کے طور پر انہیں ٹرافی، شال، کتابیں اور ایک لاکھ روپے کی نقد رقم پیش کی گئی۔ اس موقع پر شہر کے ممتاز ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، فنکاروں، پروفیسروں اور اساتذہ سمیت ادب و ثقافت سے وابستہ بڑی تعداد میں شخصیات موجود تھیں۔
مجیب خان کو یہ اعزاز خاص طور پر رام دھاری سنگھ دنکر کی شہرۂ آفاق تخلیق “رشمیرتھی” کے 500 سے زائد شوز کامیابی کے ساتھ 
پیش کرنے اور دنکر کے ادب کو تھیٹر کے ذریعے عوام تک پہنچانے کے اعتراف میں دیا گیا۔

دنکر: ادب کا ایک روشن باب

23 ستمبر 1908 کو پیدا ہونے والے رام دھاری سنگھ دنکر ہندوستانی ادب کے ان عظیم شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں قومی جذبے، انسانی وقار، حریتِ فکر اور سماجی شعور کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کی تخلیقات میں “رشمیرتھی”، “کُروکشیتر”، “ہنکار” اور “اُروشی” خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی ادبی خدمات 
کے اعتراف میں انہیں ساہتیہ اکادمی، پدم بھوشن اور گیان پیٹھ جیسے اہم اعزازات سے نوازا گیا۔

دنکر کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی جوشِ بیان، فکری گہرائی اور عوامی اثر پذیری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تخلیقات آج بھی کتابوں سے نکل کر اسٹیج اور عوامی زندگی کا حصہ بنتی دکھائی دیتی ہیں۔

مجیب خان کی تھیٹر کے میدان میں نمایاں خدمات

مجیب خان گزشتہ کئی برسوں سے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں تھیٹر کے فروغ کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ وہ ہندوستانی ادب کی اہم تخلیقات کو اسٹیج کے ذریعے عام ناظرین تک پہنچانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ان کی ہدایت کاری میں “رشمیرتھی” کی 500 سے زائد پیش کشیں 
اس بات کی عکاس ہیں کہ کلاسیکی ہندی ادب کو جدید تھیٹر کے ذریعے نئی نسل تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ مجیب خان کا نام لمکا بک آف ریکارڈز اور ورلڈ وائڈ بک آف ریکارڈز میں بھی شامل ہو چکا ہے۔

گورنر ہاؤس میں “رشمیرتھی” کی خصوصی پیش کش

ایوارڈ تقریب کے بعد مجیب خان کی ٹیم “آئیڈیا” کی جانب سے گورنر ہاؤس، کولکاتا میں “رشمیرتھی” ڈرامہ پیش کیا گیا۔ ڈرامے کی پیش کش نے حاضرین کو آخر تک اپنی گرفت میں رکھا اور فنکاروں کی اداکاری، 
مکالموں اور پیش کش کو حاضرین کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
گورنر ہاؤس جیسے باوقار مقام پر دنکر کی تخلیق کی یہ پیش کش ادبی اور ثقافتی اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس موقع پر ادب اور تھیٹر کے درمیان ایک خوبصورت رشتہ نمایاں ہوا اور دنکر کی تخلیقی میراث کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

مجیب خان نے اس اعزاز کو اپنے لیے ہی نہیں بلکہ اپنی پوری ٹیم اور ہندوستانی تھیٹر سے وابستہ فنکاروں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا اعزاز قرار دیا۔
واضح رہے کہ “رشمیرتھی” کا اگلا شو 30 ستمبر کو چلڈرن نیوی اسکول، نیوی نگر کولابہ، ممبئی میں پیش کیا جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔