مسلمانوں کے رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے، لیکن *قرآن اور حدیث کے احکام ناقابلِ تنسیخ : ملک معتصم خان - مہاراشٹر میں متوقع یونیفارم سول کوڈ پر ایف ایم ایم کی مشاورتی میٹنگ۔


ممبئی:( سید شاکر جالنہ) فیڈریشن آف مہاراشٹر مسلمس نے ایک مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا جس میں شہر کی معزز شخصیات، سیاسی، سماجی اور مذہبی نمائندوں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ شرکاء کے درمیان یو سی سی پر اختلاف رائے کے باوجود اس پر ان کا اتفاق دیکھنے کو ملا کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں، حکومت ایک مذہبی گروہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ شرکاء نے کہا حکومت کا یہ رویہ دستور مخالف ہے ۔میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے مرکزی قائد ملک معتصم نے واضح کیا کہ مسلمانوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے، ہمیں اس کا احساس ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں لیکن قرآن اور حدیث میں ہمیں جو احکام دیے گئے ہیں وہ ناقابلِ تنسیخ ہے، اس میں کسی بھی تبدیلی نہیں کی جا سکتی وہ الٰہی احکام ہیں ان پر عمل اور یقین ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔انہوں مزید اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ تحریک صرف مسلمانوں سے متعلق نہیں ہے کیونکہ یو سی سی سے سبھی مذاہب کے لوگ ہوں گے ۔ سب کے مذہبی اور تہذیبی رسم رواج پر حرف آئے گا ۔ اس لئے یو سی سی کیخلاف ملی جلی تحریک چھیڑی جائے جس میں تمام مذاہب کے افراد شامل ہوکر حکومت کو یہ باور کرائیں کہ ’’ہمیں یہ یونیفارم سول کوڈ منظور نہیں‘‘۔ 
میٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے سکریٹری عبد المجیب شیخ نے کہا ’’حکومت کے یو سی سی جیسے فضول قانون بنانے میں غیر معمولی جوش و خروش کی وجہ سے ہمیں ایسا احساس ہوتا ہے کہ اب ملک میں کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا ، تعلیم صحت اور معاش کے مسائل حل کئے جاچکے ہیں اور یہ کہ عوام خوشحال ہیں ، اسی لئے اس طرح کے فضول قوانین بنانے میں اپنا پورا زور صرف کررہی ہے‘‘۔ مجیب شیخ باتوں کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا مولانا محمود دریابادی نے کہا ابھی ملک میں بہت سے مسائل جن پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یونیفارم سول کوڈ پر قانون بنانا دستور میں مشورتا دیا گیا ہے اور یہ ریاست کی صوابدید پر چھوڑا گیا لیکن حکومت محض مسلمانوں کو ٹارگٹ کرنے کیلئے یہ قانون لانے جارہی ہے ۔معروف سماجی کارکن عرفان انجینئر نے کہا اس کیخلاف مسلمانوں کو روڈ پر نہیں آنا چاہئے ، اس کی وجہ سے موجودہ سنگھی حکومت کو فائدہ ہوگا ۔
خاتون کالم نگار اور پیشہ تدریس سے وابستہ مونسہ بشریٰ عابدی نے کہا ، جب اس معاملہ میں سبھی مذاہب کے افراد شامل ہیں تو اس میں مسلمانوں کو شامل ہونا ہی پڑے گا ۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ مسلمان خاموش تماشائی رہیں ۔ سماجی کارکن ڈولفی ڈیسوزا نے کہا یہ حکومت اپنی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے روز نیا مسئلہ ہمارے سامنے لاتی ہے اور ہم کو الجھا کر راحت پاتی ہے اس لئے ہمیں بھی حکومت کو کام پر لگانے کیلئے غور کرنا چاہئے ۔موجودہ حکومت کا کام بس یہ رہ گیا ہے کہ وہ افواہ پھیلائے اور عوام کو گمراہ کرے جیسے لوجہاد اور تبدیلی مذہب کا پروپگنڈہ ہے ۔صحافی سرفراز آرزونے کہا حکومت کے پروپگنڈہ کے جواب میں ہمیں چاہئے کہ یو سی سی کے جواب میں ہندو غیر منقسم خاندان کو ملنے والے ٹیکس فوائد کو سامنے لایا جائے جبکہ یہ فائدہ مسلم سکھ عیسائی یا اور کسی مذہب کے ماننے والے کو نہیں ملتا ۔ہم کو حکومت سے کہنا چاہئے کہ سب کیلئے یکسانیت لانا چاہتے ہو تو اس میں بھی تبدیلی کرو۔
حکومت اور اس کی پارٹی کی جانب سے مسلمانوں کی کثرت ازدواج کا بڑا پروپگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے سردار سکھویندر سنگھ نے کہا حالات ، علاقہ اور زمانے کے حساب سے کہیں خواتین کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے اس وجہ سے بھی کثرت ازدواج کا معاملہ ہوتا ہے لیکن صرف مسلمانوں سے ہی اسے جوڑنا غلط اور حکومت کی بدنیتی کا زندہ ثبوت ہے ۔ مفتی حذیفی نے کہا یہ حکومت سبھی کیلئے یکساں قانون بنانے کی فکر میں ہے جبکہ ایک گھر میں ایک طرح کا قانون نافذ نہیں ہوسکتا ۔جو قوم ان کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوجاتی ہے جس سے انہیں سیاسی نقصان کا خطرہ ہوتا ہے تو یہ اسے یو سی سی سے الگ رکھنے کی بات کرتے ہیں ۔کتنی احمقانہ بات ہے کہ جب کئی مذہبی لسانی اور تہذیبی گروہ کو اس سے الگ رکھنے کی بات کی جارہی ہے تو پھر یہ یکسان سول کوڈ کیسے ہوگیا ۔  
کل ملاکر میٹنگ کا مقصد واضح کرتے ہوئے ایک سماجی کارکن نے کہا ’’ہم مساوات کے خلاف نہیں ہیں، ہم انصاف کے ساتھ ہیں، ہم آئین (دستور) کے ساتھ ہیں؛ اور اقلیتوں دلت و بہوجن طبقے کی آواز سن کر ہی کوئی بھی بڑا قانون بننا چاہیے، یہی ہمارا موقف ہے‘‘۔چونکہ میٹنگ کے انعقاد کا مقصد مذکورہ قوانین کےخلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے طریقہ کار پر گفتگو کرنا تھا ۔ اس مقصد کے تحت پندرہ بیس افراد پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق ہوا ۔ کمیٹی پوری طرح یو سی سی پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے حکومت کے غلط فیصلوں پر اسے متنبہ کرے گی اور حکومت کو تجاویز بھی پیش کرے گی ۔ کمیٹی کی تشکیل کے بعد اس کی تفصیلات شرکاء کو بھیج دی جائے گی ۔میٹنگ میں دس صفحات پر مشتمل ایک ڈرافٹ کاپی بھی شرکاء خصوصاً وکلاء کو دی گئی جس میں شرکاء کی رائے کے بعد حذف و اضافہ کرکے مہاراشٹر یو سی سی کمیٹی کی سربراہ ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کو پیش کیا جائے گا ۔
میٹنگ میں سینئر ایڈووکیٹ یوسف حاتم مچھالہ، عبدلمجیب جماعت اسلامی ہند شیخ،عبد الحسیب بھاٹکر،مولانا اوصاف فلاحی، مفتی حذیفہ، ڈاکٹر منیرہ قریشی، مولانا نظام الدین فخر الدین، ایڈووکیٹ حوریہ پٹیل، ایڈووکیٹ ایلین، سردار سکھویندر سنگھ، چینیکا شاہ، سرفراز آرزو، ڈولفی ڈیسوزا، مونسہ بشری، عرفان انجینیر، مولانا محمود دریا بادی ایڈووکیٹ کورڈے سمیت درجنوں سماجی کارکنان، حقوق انسانی کے جہد کار اور مذہبی نمائندوں نے شرکت کی ۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔