افسانہ - دودھ کی قیمت - ازقلم : مسرورتمنا
افسانہ -
دودھ کی قیمت -
ازقلم : مسرورتمنا
جوہی اپنی بچی کو گود میں اٹھاے در در بھٹک رہی تھی کام مانگا کسی نے نہیں دیا تم گندی ہو تمہاری بچی کی ناک بہ رہی ہے
جوہی کے کپڑے.پھٹے.پرانے ضرور تھے مگر وہ اور بچی صاف ستھری تھی
بچی دودھ کے لیے بلک رہی تھی وہ خود بھوک سے نڈھال ھورہی تھی
اب وہںبستی سے دور عالیشان بنگلے کی طرف بڑھی
بنگلے کے مالک کو کار سے اترتے دیکھ اسنے ہاتھجوڑدیے
مالک نے اسے سر سے پیر تک دیکھا اور اپنے ساتھ اندرانے کو کہا
تم پہلے بچی کو دودھ پلا دو خود کچھ کھالو بہت چیزیں ہیں کھانے کو پھر میرے لیے چاے بنا کر میرے روم میں لے آو میں جب تک فریش ھوتا ہوں
جوہی نے بچی کو دودھ پلایا
ایک گلاس دودھ بچی نے آدھا پیا تھا باقی کا وہ خود پی گی مالک کے لیے چاے بناکر لے آی
گورا چٹا مالک سانولی سی جوہی کو گھورتے ہوے اپنی طرف کھنیچ لیا
جوہی اپنے بچاو نہ کر پای بھوک نے تو پہلے ہی کمزور کردیا اسکی دبی دبی چینخ کسی نے بھی نہ سنی وہ چکرا کر گری
مالک نے گھبرا کر اسے ایک گلاس دودھ پلایا ہوش میں اتے ہی اس نے گھور کر گلاس کی طرف دیکھا ایک گلاس دودھ کی قیمت مالک نے وصول کر لی تھی یہ دوسرا گلاس تھا اس نے دیکھا مالک باتھ روم میں شاور لے رہا اچانک وہ اٹھی پورے قوت ھمت کے ساتھ اپنی سوی ہوی بچی کو اٹھایا اور دروازہ کھول کر ایک سمت بھاگتی چلی گی
اسے لگا ہر کوی اپنے ہاتھ میں ایک گلاس دودھ لیے کھڑا ہے وہ بھاگتی رہی اور بھاگتےبھاگتے گر گی
Comments
Post a Comment