نکاح آسان کرو تحریک کے ثمرات - رشتہ طے کرنے کی مجلس ہی میں نکاح، سادگی کی قابلِ تقلید مثال۔
جلگاؤں:( عقیل خان بیاولی) معاشرے میں نکاح کو آسان اور غیر ضروری رسومات و فضول خرچی سے پاک کرنے کی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک قابلِ تقلید مثال گزشتہ روز اس وقت سامنے آئی جب رشتہ طے کرنے کی مجلس ہی میں نکاح کا فیصلہ کیا گیا اور عصر کی نماز کے بعد مسجد میں سادگی سے نکاح کی تقریب منعقد ہوئی۔ جامنیر کے ریحان شیخ رؤف اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ رشتہ دیکھنے اور طے کرنے کے لیے آئے تھے۔ لڑکی کے والد شیخ عقیل خلیل باٹا والے نے جمعیت علماء کے صدر اور معروف عالمِ دین و مقرر مفتی محمد ہارون ندوی کو مدعو کیا۔ مفتی صاحب نے تقریباً 20 منٹ تک نکاح کو آسان بنانے، غیر ضروری رسومات سے اجتناب اور اسلامی تعلیمات کے مطابق سادگی اختیار کرنے کی اہمیت پر مؤثر گفتگو کی۔ گفتگو کے بعد دونوں خاندانوں نے باہمی مشورے سے اسی مجلس میں نکاح کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ عصر کی نماز کے بعد مسجد ال وزیر مہرون میں سادگی کے ساتھ نکاح منعقد ہوا۔ مفتی محمد ہارون ندوی نے مصلیان کو نکاح کی اطلاع دیتے ہوئے دعا میں شریک ہونے کی دعوت دی، جس پر متعدد نمازی اور معززینِ علاقہ نکاح کی مجلس میں شریک ہوگئے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے سہیل امیر، منیار برادری کے صدر فاروق شیخ سمیت دیگر معززین نے شرکت کی اور دونوں خاندانوں کو مبارکباد پیش کی۔ اہلِ علاقہ نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ منگنی، ہلدی، مہنگے لان، انواع و اقسام کے کھانوں اور دیگر غیر ضروری رسومات کے بجائے سادہ اور آسان نکاح کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس سادہ نکاح کو معاشرے میں نکاح آسان بنانے کی تحریک کا ایک عملی ثمر قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے نکاح کے راستے میں آسانیاں پیدا کرنے اور فضول خرچی کے خاتمے کا مثبت پیغام ملتا ہے۔
Comments
Post a Comment