خان نوید الحق: اُردوٗ زبان و ادب کے ایک مخلص خدمت گزار۔مضموٗن نگار: خان عارفہ نویدالحق، ممبئ۔
خان نوید الحق: اُردوٗ زبان و ادب کے ایک مخلص خدمت گزار۔
مضموٗن نگار: خان عارفہ نویدالحق۔
(ایم اے ، ایم فل، بی لیب ، بی ایڈ ، ممبئی میونسپل کارپوریشن کے شعبۂ تعلیم سے وظیفہ یاب معلّمہ ہیں)
اُردوٗ زبان و ادب کی خدمت کے کئی رنگ اور کئی جہتیں ہیں۔ کوئی تخلیق کے ذریعے زبان کا دامن وسیع کرتا ہے، کوئی تحقیق و تنقید سے اس کے علمی سرمائے میں اضافہ کرتا ہے اور کوئی تدریس، تدوین، ترتیب اور اشاعت کے ذریعے نئی نسل کو اس تہذیبی اور ادبی ورثے سے جوڑتا ہے۔ خان نوید الحق کی شخصیت اسی تیسرے دائرے میں اپنی ایک نمایاں شناخت رکھتی ہے۔ ان کی ادبی زندگی کا بڑا حصّہ اُردوٗ کی تعلیم و تدریس، درسی کتب کی تدوین، ادبی شخصیات کی قدر شناسی، کتابوں کی ترتیب اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ میں صرف ہوا ہے۔
ان کی خدمات کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے اُردوٗ کی خدمت کو کسی ایک میدان تک محدوٗد نہیں رکھا۔ ان کے یہاں نصابی کتاب بھی اہم ہے، بچّوں کا ادب بھی؛ کسی ادیب کے فن و شخصیت پر کتاب مرتّب کرنا بھی ادبی خدمت ہے اور کسی کتاب کے فلیپ یا پیش لفظ میں صاحبِ کتاب کی ادبی معنویت کو اجاگر کرنا بھی۔ اس اعتبار سے ان کی شخصیت ایک ایسے ادب دوست، کتاب شناس اور ادیب پرور فرد کی صوٗرت میں سامنے آتی ہے جس نے خاموشی اور تسلسل کے ساتھ اُردوٗ کے مختلف شعبوں میں اپنا حصّہ ادا کیا۔
بال بھارتی: چار دہائیوں پر محیط ایک اہم باب :
خان نوید الحق کی علمی و ادبی خدمات میں سب سے اہم اور وسیع باب بال بھارتی میں پینتیس برس سے زائد عرصے تک اُردوٗ کی درسی کتابوں کی تدوین و ترتیب ہے۔ یہ طویل عرصہ اس اعتبار سے غیر معموٗلی اہمیت رکھتا ہے کہ اس دوران نہ صرف نصاب اور تعلیمی ترجیحات میں تبدیلیاں آئیں بلکہ نئی نسل کی ذہنی ساخت، مطالعے کی عادات اور زبان سے وابستگی کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی واقع ہوئی۔
انھوں نے پہلی جماعت سے بارھویں جماعت تک اُردوٗ کی درسی کتب کی تیاری اور تدوین کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ذمّے داری محض عبارت کی تصحیح یا اسباق کی ترتیب تک محدوٗد نہیں تھی، بلکہ کتاب کے مجموعی تعلیمی مزاج کو بہتر بنانے کے مختلف پہلوٗ اس عمل کا حصّہ رہے۔ اسباق کے انتخاب، مواد کی ترتیب، زبان و بیان کی درستی، املا، عنوان بندی، مشقی سوالات، سرگرمیوں اور طلبہ کی عمر و ذہنی سطح کے مطابق مواد کی پیش کش جیسے اموٗر پر توجّہ دینا اسی تدوینی عمل کا حصّہ تھا۔
ابتدائی جماعتوں کے لیے ایسی زبان درکار ہوتی ہے جو سادہ ہونے کے ساتھ دل چسپ بھی ہو اور بچے کو پڑھنے کی طرف راغب کرے۔ یہاں کہانی، نظم، مکالمہ، تصویر اور روزمرّہ زندگی سے جُڑے موضوٗعات بُنیادی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں۔ دوٗسری طرف بڑی جماعتوں میں طالب علم کو محض زبان سکھانا کافی نہیں ہوتا؛ اس کے اندر ادبی ذوق، فکری پختگی، تنقیدی شعوٗر اور تہذیبی آگہی بھی پیدا کرنا ہوتی ہے۔ خان نوید الحق نے اس تدریجی ضروٗرت کو سامنے رکھتے ہوئے نصابی مواد کو جماعت بہ جماعت ایک مربوٗط اور مضبوٗط تعلیمی سفر بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ان کی تدوینی بصیرت کا ایک اہم پہلوٗ یہ تھا کہ درسی کتاب کو محض معلومات فراہم کرنے والی کتاب کے بجائے زبان سکھانے، ادب سے آشنا کرنے اور شخصیت سازی میں معاون ایک تعلیمی وسیلہ سمجھا جائے۔ چنانچہ نصابی مواد میں زبان کی صحت اور سلاست کے ساتھ موضوٗعات کے تنوّع، ادبی معیار اور طلبہ کی ذہنی استعداد کا بھی خیال رکھا گیا۔
بال بھارتی کی اُردوٗ کتابوں کو معیاری بنانے اور انھیں پوٗرے بھارت میں ایک معتبر مقام دلانے میں ان کی کاوشیں اسی وسیع تصوّرِ تدوین کا حصّہ تھیں۔ وقت کے تقاضوں کے مطابق نصابی کتابوں کی نظرِ ثانی اور اصلاح بھی اس عمل میں شامل رہی، تاکہ اُردوٗ کا نصاب بدلتے ہوئے تعلیمی ماحول سے ہم آہنگ رہ سکے۔
یہ خدمت اس لیے بھی اہم ہے کہ درسی کتاب صرف ایک کتاب نہیں ہوتی؛ وہ ایک پوٗری نسل کے لسانی ذوق اور ابتدائی ادبی شعوٗر کی تشکیل کرتی ہے۔ اس اعتبار سے خان نوید الحق کی نصابی خدمات کا اثر ان کتابوں کے صفحات سے کہیں آگے تک پھیلا ہوا ہے۔
ادبِ اطفال اور نئی نسل سے رشتہ :
نئی نسل کو اُردوٗ سے جوڑنے کے لیے صرف نصاب کافی نہیں؛ اس کے لیے ایسا اضافی ادبی سرمایہ بھی ضروری ہے جو بچّوں کے ذوق اور تخیّل کو مہمیز دے۔ خان نوید الحق نے اس ضروٗرت کو محسوٗس کیا اور ادبِ اطفال کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔
"گل بوٹے" کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر ادبِ اطفال کے حوالے سے پچیس کتابوں کی اشاعت میں ان کی شرکت اسی سلسلے کی ایک قابلِ ذکر کاوش ہے۔ بچّوں کے لیے معیاری کتابوں کی اشاعت دراصل مستقبل کے قاری کی تشکیل کا عمل ہے۔ اس اعتبار سے یہ سرگرمی ان کی ادبی ترجیحات میں نئی نسل کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
ادیبوں کی قدر شناسی: ادب دوستی کا ایک روشن پہلو :
خان نوید الحق* کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف ادیبوں اور اہلِ قلم کی قدر شناسی ہے۔ انھوں نے مہاراشٹر میں اُردوٗ کے صفِ اوّل کے ادیبوں کو قومی سطح پر متعارف کرانے اور ان کی خدمات کے اعتراف کے لیے مختلف جشن اور ادبی تقریبات کے انعقاد میں اہم کردار ادا کیا۔
فاروٗق سیّد رحمہ اللہ، سلیم شہزاد ، ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط اور ڈاکٹر شرف الدین ساحل جیسے اہلِ قلم کے اعزاز میں تقریبات کا اہتمام اور ان کے لیے مالی و انتظامی معاونت اس بات کا اظہار ہے کہ خان نوید الحق کے نزدیک ادیب کی قدر شناسی بھی زبان کی خدمت کا ایک اہم تقاضا ہے۔
یہ رویہ محض رسمی تحسین تک محدوٗد نہیں رہا۔ انھوں نے بعض اہلِ قلم کے فن اور شخصیت پر کتابیں مرتّب کرکے ان کی ادبی خدمات کو مستقل دستاویزی صوٗرتِ دینے کی کوشش بھی کی۔ ڈاکٹر سیّد یحییٰ نشیط اور فاروٗق سیّد رحمہ اللہ کے حوالے سے مرتّب کی جانے والی کتابیں اسی ادبی مزاج کی عکّاس ہیں۔
کسی ادیب کی زندگی اور فن کو کتابی صوٗرتِ میں محفوٗظ کرنا دراصل ایک پوٗرے ادبی عہد کی یادداشت محفوٗظ کرنا ہے۔ اس نوع کی کتابیں مستقبل کے محقّقین اور قارئین کے لیے بھی اہم ماخذ بن سکتی ہیں۔
پیش لفظ، فلیپ اور انتساب: کتاب سے ایک تخلیقی مکالمہ :
ان کی خدمات کا ایک نسبتاً کم زیرِ بحث مگر اہم پہلوٗ مختلف ادبی کتابوں کے پیش لفظ، فلیپ اور انتساب تحریر کرنا بھی ہے۔ یہ کام بظاہر مختصر اور ثانوی نوعیت کا محسوٗس ہوتا ہے، لیکن کسی کتاب کے ادبی تعارف اور قاری تک اس کی معنویت پہنچانے میں اس کا اپنا کردار ہے۔
فلیپ کی چند سطروں میں مصنف کے ادبی مقام اور کتاب کی اہمیت کو سمیٹنا، پیش لفظ میں تصنیف کے پس منظر اور مقصد کو واضح کرنا اور انتساب میں کسی شخص یا رشتے کی معنوی اہمیت کو اجاگر کرنا ایک خاص ادبی حس کا تقاضا کرتا ہے۔ خان نوید الحق نے اس میدان میں بھی اپنی مطالعہ پسندی، شخصیات شناسی اور زبان و بیان پر گرفت کا اظہار کیا۔
ان تحریروں کے ذریعے انھوں نے متعدد کتابوں اور اہلِ قلم کے ساتھ اپنے ادبی رشتے کو بھی ظاہر کیا اور قاری کے لیے ان کے کام تک رسائی کا ایک فکری دروازہ کھولا۔
قومی اور ریاستی سطح کی ادبی سرگرمیاں :
اُردوٗ زبان و ادب سے متعلق قومی اور ریاستی سطح کے مختلف سیمیناروں، کانفرنسوں اور علمی و ادبی اجلاسوں میں خان نوید الحق کی شرکت بھی ان کی مسلسل ادبی وابستگی کا ثبوٗت ہے۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے وہ اُردوٗ کے تعلیمی اور ادبی مسائل سے جُڑے رہے اور مختلف اہلِ علم و قلم سے رابطے میں رہے۔
ان کی یہ سرگرم شرکت اس وسیع تر تصور کی عکّاس ہے جس کے تحت وہ اُردوٗ کو محض ایک تعلیمی مضموٗن نہیں بلکہ ایک زندہ زبان، تہذیبی شناخت اور ادبی روایت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اعزازات: خدمات کا اعتراف :
اُردوٗ زبان کے لیے ان کی طویل اور مسلسل خدمات کا اعتراف ملکی اور ریاستی سطح کے مختلف اِداروں نے درجنوں خصوٗصی ایوارڈز اور اعزازات کی صوٗرت میں کیا۔ یہ اعزازات یقیناً ان کی علمی و ادبی خدمات کی قدر و منزلت کا اظہار ہیں، تاہم ان کی شخصیت کا اصل امتیاز ان اعزازات سے کہیں بڑھ کر ان کا وہ طویل عملی سفر ہے جو کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
شخصیت کا ادبی حوالہ :
خان نوید الحق کو صرف ایک مدوّن، مرتّب یا منتظم کے طور پر دیکھنا ان کی شخصیت کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ان کی اصل شناخت ایک ایسے مخلص اُردوٗ دوست کی ہے جس نے کتاب کو اپنی عملی زندگی کا مرکز بنایا۔ انھوں نے نصابی کتاب کے ذریعے طالب علم تک اُردوٗ پہنچائی، ادبِ اطفال کے ذریعے نئی نسل کے ذَوق کو تقویت بخشی، ادبی شخصیات کے جشن کے ذریعے اہلِ قلم کی پذیرائی کی، کتابیں مرتّب کرکے ادبی شخصیات کو محفوٗظ کیا اور پیش لفظ، فلیپ و انتساب کے ذریعے متعدد کتابوں کے ادبی تعارف میں اپنا حصّہ ڈالا۔
ان کی شخصیت میں تدبیر اور تخلیقی ذوق، انتظامی صلاحیت اور ادبی حِس، نصابی شعوٗر اور شخصی وابستگی ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ یہی امتزاج ان کی خدمات کو محض رسمی نوعیت کے کاموں سے بلند کرکے ایک مستقل ادبی رویے میں تبدیل کرتا ہے۔
حاصلِ کلام :
خان نوید الحق کی ادبی زندگی کو دیکھا جائے تو محسوٗس ہوتا ہے کہ انھوں نے اُردوٗ کی خدمت بڑے دعووں کے بجائے مسلسل عمل اور خاموش وابستگی کے ذریعے کی۔ پینتیس برسوں کے طویل عرصے تک درسی کتب کی تدوین و ترتیب سے وابستگی، پہلی جماعت سے بارھویں جماعت تک نصابی سفر کو بہتر بنانے کی کوشش، بال بھارتی کی اُردوٗ کتابوں کے معیار کو بلند کرنے کا عمل، ادبِ اطفال کی ترویج، اہلِ قلم کی قدر شناسی، ادبی شخصیات کے فن و شخصیت پر کتابوں کی ترتیب، قومی و ریاستی ادبی سرگرمیوں میں شرکت اور مختلف کتابوں کے پیش لفظ، فلیپ اور انتساب تحریر کرنا ۔۔۔ یہ سب مل کر ان کی ایک ایسی ادبی شخصیت تشکیل دیتے ہیں جس کا بنیادی حوالہ اُردوٗ سے وفاداری اور کتاب سے گہرا تعلق ہے۔
ان کی خدمات کا سب سے خوٗب صوٗرت پہلوٗ شاید یہی ہے کہ انھوں نے اُردوٗ کے لیے صرف لکھنے یا بولنے کا کام نہیں کیا، بلکہ کتاب تیار کی، کتاب کو بہتر بنایا، کتاب کو قاری تک پہنچایا، قاری کے ذوق کی تشکیل میں حصّہ لیا اور کتاب کے خالق کی قدر شناسی کو بھی اپنی ذمّے داری سمجھا۔
یہی ہمہ جہت وابستگی خان نوید الحق کو اُردوٗ زبان و ادب کے ان مخلص خدمت گزاروں میں شامل کرتی ہے جن کی محنت شاید ہمیشہ نمایاں نہ ہو، لیکن جن کے کام کے اثرات نسلوں تک محسوٗس کیے جاتے ہیں۔
Comments
Post a Comment