غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
غزل -
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
منتظر دائیں ہیں، بائیں منتظر ہیں
ساتھ چلتے ہیں کہ راہیں منتظر ہیں
چھوڑئے دنیاجہاں کو اپنا کہنا
ہم کو بس اپنا بنائیں منتظر ہیں
عشق کی راہوں سے جو پیچھے ہٹے تھے
حسن چہرے سب وہ لائیں، منتظر ہیں
آرزو اپنی ستاتی ہے انہیں بھی
اور یہاں میری بھی راہیں منتظر ہیں
بم ہیں ڈالے جن گھروں پر کچھ تمہیں نے
ان کی مظلومانہ آہیں منتظر ہیں
شرم ہے اور کچھ حیادیکھوہے مانع
کس کی خاطر میری بانہیں منتظر ہیں
ہے حقیقت روزی روٹی کے لئے میرؔ
آئیں بائیں اور شائیں منتظر ہیں
Comments
Post a Comment