یومِ اساتذہ اور معلمِ اعظم ﷺ - از قلم : شعیب احمد محمدی، ناندیڈ
یومِ اساتذہ اور معلمِ اعظم ﷺ -
از قلم : شعیب احمد محمدی، ناندیڈ
9284434542
رہبر بھی یہ، ہمدرد بھی، غمخوار ہمارے
استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
استاد قوم کا معمار ہوتا ہے
استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں ہوتا، بلکہ وہ قوم کے مستقبل کا معمار، نسلوں کا مربی اور کردار سازی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کو صرف الفاظ اور معلومات نہیں سکھاتا، بلکہ اس کے اندر اخلاق، کردار، انسانیت سے ہمدردی، شفقت، خدمتِ خلق اور زندگی کے صحیح مقصد کا شعور پیدا کرتا ہے۔
دنیا کا کوئی بھی بڑا انسان اچانک بڑا نہیں بنتا۔ ایک ڈاکٹر، انجینئر، سائنس داں، عالم، قاضی یا قائد کے پیچھے کسی نہ کسی استاد کی محنت، رہنمائی اور تربیت ضرور ہوتی ہے۔ اسی لیے استاد کا مقام محض ایک پیشے کا مقام نہیں، بلکہ نسلوں کی تعمیر کا مقام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قرآن مجید میں نقل فرمائی:
ربنا وابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم آیاتک ویعلمہم الکتاب والحکمۃ ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج، جو انہیں تیری آیات سنائے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے، بے شک تو ہی غالب ہے، حکمت والا ہے۔
سورۃ البقرۃ: 129
اور خود نبی کریم ﷺ نے اپنی بعثت کے ایک عظیم مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
انما بعثت معلما
بے شک مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔
معلمِ اعظم ﷺ نے انسانوں کو کیا بنا دیا
رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب معاشرہ جہالت، تعصب، شرک، شراب نوشی، قبائلی عصبیت اور خونریزی جیسی برائیوں میں مبتلا تھا۔ پھر معلمِ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے انسانوں کو صرف پڑھایا نہیں، بلکہ ان کی سوچ، کردار اور زندگی کا رخ بدل دیا۔
جو لوگ بتوں کے سامنے جھکتے تھے، وہ توحید کے علمبردار بن گئے۔ جو آپس میں لڑتے تھے، وہ بھائی بھائی بن گئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے جلال والے انسان عدل و انصاف کی علامت بن گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو قرآن کے حافظ، علم کے امام، عدل کے پیکر اور انسانیت کے بے مثال خادم بن گئے۔
اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا:
رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ
اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
ایک مثالی استاد کیسا ہو
1. شفیق باپ جیسا ہو - غلطی پر صرف ڈانٹے نہیں، بلکہ سنبھالے اور حوصلہ دے۔
2. اپنے کردار سے تعلیم دے - اس کی زندگی خود ایک کتاب ہو۔
3. علم کے ساتھ اخلاص بھی ہو - مقصد صرف نصاب نہیں، کردار سازی ہو۔
شاگرد کا استاد سے تعلق کیسا ہو
1. ادب کو پہلا سبق بناؤ۔
2. استاد پر اعتماد کرو۔
3. استاد کے لیے دعا کرو۔
طلبہ کے لیے پانچ سنہری ہدایات
1. نیت درست کرو
2. موبائل کو اپنا استاد نہ بناؤ
3. استاد کا ادب کرو
4. سوال پوچھنے میں شرم محسوس نہ کرو
5. جو سیکھو، آگے پہنچاؤ
والدین اور استاد دونوں کا کردار
والدین جسم کی پرورش کرتے ہیں اور استاد ذہن و کردار کی تعمیر کرتا ہے۔ اسی لیے ایک بچے کی کامیابی میں والدین کی دعاؤں اور استاد کی تربیت دونوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔
آئیے آج عہد کریں
یومِ اساتذہ صرف استاد کو مبارک باد دینے کا دن نہیں، بلکہ اپنے اساتذہ کی محنت کو یاد کرنے کا دن بھی ہے۔ آئیے عہد کریں کہ اپنے اساتذہ کی قدر کریں گے، ان کا ادب کریں گے اور معلمِ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کو صحت و سلامتی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment