ہائے ہائے اے آئی ! - ازقلم : وسیم عقیل شاہ، ممبئی۔


ہائے ہائے اے آئی ! - 
ازقلم : وسیم عقیل شاہ، ممبئی۔ 

      ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا کہ ہمارا رائٹر بندہ سرقہ کرتا تھا اور پکڑا جاتا تھا تب ، یا کسی پڑھے لکھے سینیر رائٹر سے لکھوا کر اپنے نام کی تختی بلند کرتا تھا اور اس کا جرم ظاہر ہو جاتا تھا، تب وہ بے چارہ غیرت مند شرم کے مارے مہینوں تک کہیں دکھائی ہی نہیں دیتا تھا ـ کسی اخبار یا رسالے میں اس کی کوئی تحریر نظر آتی تھی نہ کوئی افسانچہ، نثری نظم یا کوئی مراسلہ تک بھی نہیں ـ ـ ـ ـ ـ مگر اس دفعہ معاملہ ہٹ دھرمی سے بھی آگے چل پڑا ہے ـ آج کل بعض لکھنے والے اے آئی سے بے دریغ اپنی من پسند تحریریں لکھوا کر ادب کی مسند پر اپنا معیار باوقار بلند کیے جا رہے ہیں ـ محرومیوں کے شکار یہ بندے جو کچھ بھی اے آئی سے لکھواتے ہیں ، بیشتر اسے من و عن ہی اشاعتی صفحات کے حوالے کر دیتے ہیں ـ ڈکشن اور انداز تو دور وہ اس میں اعراب، اوقاف ، اور وہ علامات جو اے آئی کی چغلی کھاتے ہیں، انھیں بھی حذف نہیں کرتے اور دھڑلے سے زیور طباعت سے آراستہ کیے جاتے ہیں ـ ان میں سے چند ایک ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھوڑی بہت چالاکی سے کام لے لیتے ہیں اور کچھ تبدیلی کے ساتھ اپنے قلمی جوہر کی نمائش کرنے لگتے ہیں ـ مگر افسوس بے چارے ! ایکسپوز ہو ہی جاتے ہیں ـ 
      ان کے لکھے پر اعتراض کرنے والے ، سوال پوچھنے والے فی الحال کوئی نہیں ہیں یا کم ہیں ـ جبکہ یہی اے آئی باز یہاں اکیلے شترمرغ ہیں ، باقی سب، سب کچھ جانتے ہیں ـ پھر اگر کسی کا ضمیر جاگے اور وہ ان سے سوال کرے، ان کے لکھے پر اے آئی سے کاپی پیسٹ کا الزام لگائے تو، پہلے تو یہ اللہ میاں کے اے آئی بندے سرے سے کان ہی نہیں دھرتے ـ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انھیں کوئی سروکار ہی نہیں ـ اور ویسے بھی ایسے فضول سوال کا جواب دینے کے لیے ان کے پاس وقت ہی کتنا ہے ـ انھیں آخر اگلی منزل کی طرف بھی تو کوچ کرنا ہے ـ ظاہر ہے وہ منزل منزل آگے بڑھ رہے ہیں ـ مگر معاملہ جب شدت اختیار کر جائے تو سو جگہ منہ لگی خرافہ کو اپنی بتانے کے لیے بے شرمی سے ڈٹ بھی جاتے ہیں ـ 
      افسوس تو اس بات کا ہے کہ سب جانتے ہوئے بھی پتا نہیں کس لالچ میں ان کی تحریروں کو اخباروں، رسالوں میں اہتمام سے شایع کیا جاتا ہے ـ مختلف قومی، ریاستی جلسوں، سیمناروں اور کانفرنسوں میں انھیں بلایا جاتا ہے ـ اور تو اور سوشل پلیٹ فارم ہو کہ ادبی اجلاس ہر جگہ ان کی تعریف میں کئی اچھے خاصے ادیب رطب السان نظر آتے ہیں ـ عام والے ادیب تو رہنے ہی دیں ـ 
      حیرت صرف ان فرسٹیڈ لکھنے والوں ہی پر نہیں بلکہ ان ادیبوں پر بھی ہے کہ جو ادب کے جانے مانے چہرے تسلیم کیے جاتے ہیں مگر ـ ـ ـ ـ ـ یہ کہنا کتنا ٹھیک ہے، نہیں جانتا لیکن انھیں اپنا احتساب کرنا چاہیے ـ اسی طرح ان چند رسالوں اور اخباروں کے مدیروں کو بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ وہ دیکھ بھال کر بھی کیوں مکھی نگل رہے ہیں ـ بعض اخباروں کے خصوصی صفحات اور رسالے تو یوں کہیے کہ انھیں اے آئی ہی سے منسوب کر دینا چاہیے ـ 
      پہلے راقم کا خیال تھا کہ اے آئی سے لکھی گئی تحریر صحافتی اور عصری ادب کا مطالعہ کرنے والوں کو بہت آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے ـ اس میں کچھ 'کی پوائنٹس' ہیں اور اس کا 'انداز اور لہجہ' میکانکیت کا خود ثبوت فراہم کرتا ہے ـ خواہ بندہ مواد کو کتنا ہی تبدیل کر لے مگر پوری طرح اپنی چوری چھپا نہیں پاتا ـ یہ ہنڈس قاری کے ذہن میں صحافتی اور ادبی مطالعہ کے تواتر اور عمق سے از خود پیدا ہوجاتی ہیں ـ اور اب تو اس کا توڑ بھی جدید ٹیکنالوجی کے بازار میں آ چکا ہے ـ پچھلے دنوں چند ایسے ایپس متعارف ہوئے ہیں کہ جن کے منصفی بکس میں تحریر کو اپلوڈ کر دیا جائے تو آن واحد میں پتا چل جاتا ہے کہ یہ تحریر کس نے، کب ، کس ایپ کی مدد سے ، کیسے اور کتنا، اے آئی سے استفادہ کر کے لکھی ہے ـ
      خیال بجا تھا کہ اس لحاظ سے ان لوگوں کو ادب میں کوئی اسپیس نہیں ملے گا اور ملے گا بھی تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ اے آئی سے پہلے بھی سرقہ بازوں، متشاعروں، نان رائٹروں اور بے سر پیر کی لکھنے والے معمولی ، کمزور اور خود ساختہ ادیبوں شاعروں کو ادب میں اچھا مقام ملتا رہا ہے ـ بس بات تعلقات کی رہی ہے، گروہ بندی کی رہی ہے، من تورا حاجی..... کی رہی ہے، چند ذاتی مفادات کی رہی ہے ـ لہٰذا ہمیں ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے ـ اچھا، سچا ادب اور اچھا، سچا ادیب ہر زمانے میں رہا ہے اور ہر زمانے میں رہے گا ـ خارجی عوامل کسی بھی ادب پارے کو یا کسی بھی ادیب کو دائمی شہرت یا مرکزیت نہیں دلا سکتے ـ یہ صرف بجلی کی کوند میں دکھائی دینے والے معمولی لوگ ہوتے ہیں ـ ادب میں وہی لوگ روشنی لٹا سکتے ہیں جن کے تحریر کردہ ادب میں نور باطن سے خود پھوٹتا ہے ـ
      لیکن اب اس پورے معاملے میں بے چینی پہلے جیسی نہیں رہی ـ بلکہ اب جب کہ یہ غل گپاڑا حد سے تجاوز کر گیا ہے اور مسلسل پھیل رہا ہے ، تو اس کے جو نتائج سامنے آ رہے ہیں اور جو آنے والے ہیں ، وہ بے حد تشویش ناک ثابت ہو رہے ہیں اور آگے بھی ہوں گے ـ ادب کو اے آئی شاید اتنا نقصان نہیں پہنچا رہا ہے یا پہنچائے گا ، جتنا اے آئی کے سہارے لکھنے والے اسے پہنچا رہے ہیں یا پہنچائیں گے ـ 
      راقم ، زبان و ادب کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناتے ، جن جن اداروں سے وابستہ ہے وہاں اپنی استطاعت بھر اے آئی سے لکھی تحریروں کے رد میں صدائے احتجاج بلند کرتا ہے ، اور کرتا رہے گا ـ بلا شبہ زبان و ادب کے لیے یہ ایک بھیانک تاریک دور ہے ، اور درحقیقت ہم ادب کے سب سے زیادہ نقصان دہ دور سے گزر رہے ہیں ـ ہمیں اس کے خلاف مل کر، اتفاق کے ساتھ ضرور کچھ کرنا ہوگا ، اس کے سدباب کے لیے آگے آنا ہوگا ـ وگرنہ ادب کی جو مسخ شدہ صورت آج بن رہی ہے ، اسے ہی برسوں بعد آنے والی نسلیں اصل ادب تسلیم کر لیں گی !

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔