کس سمت جا رہا ہے مسلم نوجوان؟ - ازقلم : راحیل انجم، ناندورہ


کس سمت جا رہا ہے مسلم نوجوان؟ - 
ازقلم : راحیل انجم، ناندورہ

آج فیس بک کے ذریعے ایک سماجی کارکن کی  کال ریکارڈڈ آڈیو سننے کو ملی۔ ایک لڑکی نے مدد کے لیے اسے فون کیا تھا۔ یہ سماجی کارکن عموماً لوگوں کے مسائل سنتا ہے اور فون پر ہی اپنی استطاعت کے مطابق انہیں حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے "اس کا بات کرنے کا انداز، مسئلے کے دونوں پہلوؤں کو سمجھنے کی صلاحیت اور بڑے تحمل سے سوالات کرنا اس کی دانشوری کی علامت لگا"۔

لڑکی نے بتایا کہ وہ ہندو ہے اور ایک مسلمان لڑکے کے ساتھ تقریباً دو سال سے ریلیشن شپ میں تھی۔ بریک اَپ کو پانچ، چھ ماہ گزر چکے ہیں، مگر لڑکا اب بھی اسے پریشان کرتا ہے۔ وہ غریب گھرانے سے ہے اور بیروزگاری کے باعث پونے کے ایک مال میں کام کر رہی ہے، جبکہ وہ لڑکا بھی اس وقت وہیں گھوم رہا ہے اور اسے اس سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔

سماجی کارکن نے فوراً فیصلہ نہیں سنایا بلکہ پوری تفصیل پوچھی۔دونوں کی ملاقات کیسے ہوئی؟ تعلق کیسے قائم ہوا؟ مسئلہ کہاں سے شروع ہوا؟

لڑکی نے بتایا کہ دونوں ایک جگہ کام کرتے تھے اور وہیں سے تعلق شروع ہوا۔ پھر کہا کہ لڑکا اسے بہت مارتا تھا۔

پوچھا گیا: "بلاوجہ تو نہیں مارتا ہوگا؟"

کہنے لگی کہ باہر کا غصہ بھی مجھ پر نکالتا تھا، ان کے یہاں چھوٹے کپڑے پہننے سے منع کیا جاتا ہے اور میں پہن لیتی تھی، اس لیے مارتا تھا۔

پھر یہ بھی کہا کہ اس نے مجھے زبردستی شراب اور وہ مٹن کھلایا جو ہم ہندو نہیں کھاتے۔

سماجی کارکن نے تحمل سے پوچھا: "زبردستی تمہارے منہ میں تو نہیں ڈالا نا؟"

لڑکی نے بتایا کہ مجھے موموز بہت پسند تھے، اس نے ہوٹل والے سے بات کرکے مجھے کھلائے اور کھانے کے بعد مذاق میں کہا کہ "بڑے کا مٹن کھلایا تجھے۔"

یہاں صاف محسوس ہورہا تھا کہ بیان میں تضاد ہے۔ سماجی کارکن نے بھی کہا کہ ضروری نہیں کہ اس نے تمہیں مٹن ہی کھلایا ہو، مذاق بھی ہوسکتا ہے۔

بعد میں لڑکی نے کہا کہ اس لڑکے نے مجھ سے شادی کا وعدہ کیا تھا اور اب شادی سے منع کر رہا ہے۔

سوال ہوا: "وہ شادی نہیں کر رہا، اس لیے تم میرے پاس آئی ہو یا وہ تمہیں پریشان کر رہا ہے، اس لیے؟"

گفتگو کے دوران یہ بات واضح ہوگئی کہ دونوں کے درمیان تعلق ضرور تھا، لیکن معاملہ بگڑنے کے بعد لڑکی شاید دوسرے زاویے سے لڑکے کو پھنسانے کی کوشش کر رہی تھی۔ سماجی کارکن نے لڑکے سے بات کی اور معاملہ کسی حد تک نمٹا دیا۔

لیکن اس واقعے نے ایک بڑا سوال ضرور چھوڑ دیا:

آخر ہمارا مسلم نوجوان کس سمت جا رہا ہے؟

یہاں مسئلہ صرف ایک لڑکے یا ایک لڑکی کا نہیں، بلکہ ہماری تربیت کا ہے۔

ہم اپنی بیٹیوں کو تو ہر وقت سمجھاتے ہیں کہ لڑکوں سے دور رہو، موبائل سنبھال کر استعمال کرو، کسی پر جلدی اعتبار نہ کرو۔ لیکن کیا ہم اپنے بیٹوں کو بھی اتنی ہی شدت سے سمجھاتے ہیں؟

کیا ہم انہیں بتاتے ہیں کہ کسی لڑکی کی عزت کرنا کیا ہوتا ہے؟
کیا "نہیں" کا مطلب "نہیں" ہوتا ہے؟
کیا تعلق ختم ہوجانے کے بعد پیچھے ہٹ جانا بھی مردانگی ہے؟
کیا کسی کی تصویر، ویڈیو یا ذاتی گفتگو کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنا جرم کے ساتھ ساتھ اخلاقی پستی بھی ہے؟

ہم نے لڑکیوں کی نگرانی تو بڑھا دی، مگر کہیں لڑکوں کو تربیت کے بغیر آزاد تو نہیں چھوڑ دیا؟

آج کا نوجوان محبت اور عشق کے نام پر ایسے تعلقات میں داخل ہوجاتا ہے جن کا انجام اکثر دونوں خاندانوں کے لیے پریشانی بن جاتا ہے۔ چند کالیں، چند ملاقاتیں، پھر تصاویر، نجی گفتگو، وعدے اور جذبات؛ اور جب کسی بات پر اختلاف ہوجائے تو وہی تعلق الزام، دھمکی اور مقدمات تک پہنچ جاتا ہے۔

محبت اگر ذمہ داری سے خالی ہو تو صرف جذبات کا نام رہ جاتی ہے۔

اگر شادی کا ارادہ ہے تو عزت کے ساتھ گھر والوں کو اعتماد میں لے کر نکاح کی طرف بڑھنے کی ہمت ہونی چاہیے، اور اگر شادی کا ارادہ نہیں تو کسی لڑکی کے جذبات سے کھیلنا بھی درست نہیں۔

آج کا قانونی ماحول بھی نوجوانوں سے زیادہ احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ "شادی شدہ زندگی میں بھی اگر کوئی فریق جھوٹے یا بے بنیاد الزامات لگائے تو دوسرے شخص کو خود کو درست ثابت کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں، خاندان کی عزت اور ذہنی سکون داؤ پر لگ سکتا ہے"۔ 
دوسری طرف حقیقی ظلم و زیادتی کا شکار خواتین کے تحفظ کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔

اس لیے نہ ہر عورت کو جھوٹا سمجھنا درست ہے، نہ ہر مرد کو مجرم۔

الزام سے پہلے حقیقت اور جذبات سے پہلے ثبوت دیکھنے کی ضرورت ہے۔

افسوس یہ ہے کہ ایسے کشیدہ ماحول میں ہمارا نوجوان محبت کے نام پر بے راہ روی میں اتنا آگے نکل جاتا ہے کہ اسے انجام کا خیال ہی نہیں رہتا۔ بین المذاہب تعلق ہو یا اپنے ہی معاشرے میں کوئی تعلق، دو افراد کی غلطی کو پورے مذہب یا پوری قوم کے سر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ لیکن اگر کسی ایک واقعے کو بنیاد بنا کر "لو جہاد" جیسے نعروں کے ذریعے پورے مسلم معاشرے کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے تو نوجوانوں کو اپنے کردار کی اہمیت مزید سمجھنی چاہیے۔

مسلمان نوجوان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مردانگی غصے، طاقت، دھمکی یا زبردستی کا نام نہیں۔

مردانگی ضبط، ذمہ داری، کردار اور امانت داری کا نام ہے۔

والدین کو بھی صرف بیٹیوں کی فکر نہیں، بیٹوں کی تربیت کی بھی فکر کرنا ہوگی۔ بیٹے سے دوستی کا رشتہ قائم کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلے گھر سے چھپانے کے بجائے والدین سے مشورہ کرے۔

نوجوان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اپنی جوانی کہاں خرچ کر رہا ہے۔ موبائل، ریلز، وقتی تعلقات اور جذبات کے بجائے تعلیم، ہنر، روزگار، عبادت، کردار اور مستقبل کی فکر کرے۔

آخر سوال وہی ہے:

آخر کب ہوش میں آئے گا مسلم نوجوان؟

ہمیں اپنی بیٹیوں کو بھی بچانا ہے اور اپنے بیٹوں کو بھی سنوارنا ہے۔

کیونکہ قوم کا مستقبل صرف اس بات سے نہیں بنتا کہ اس کی بیٹیاں کتنی محفوظ ہیں؛
قوم کا مستقبل اس بات سے بھی بنتا ہے کہ اس کے بیٹے کتنے ذمہ دار، باکردار اور تربیت یافتہ ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔