غزل - ازقلم - معظم ماہی، امراوتی، مہاراشٹر۔
غزل -
ازقلم - معظم ماہی، امراوتی، مہاراشٹر۔
وصل کی آگ جب دہکتی ہے
مے کشی بے اثر سی لگتی ہے
جھوم جاتے ہے چاہنے والے
دھن تیری جب بھی راگ لپتی ہے
جب ہوا ہے خیال ہونے کا
بے کسی آہ سی ٹپکتی ہے
تیرے دیدار سے نہیں حاصل
ایسا وہم و خیال سجتی ہے
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
یاد تیری خمار نچتی ہے
بس بھی کر عشق کا عنواں ماہیؔ
کس قدر دنیا تجھ پہ ہنستی ہے
معظم ماہی
امراوتی، مہاراشٹر
Comments
Post a Comment