ہندی دیوس: ہندی کی پذیرائی، اردو سے بے اعتنائی کیوں؟ - ازقلم - کلیم اللہ امداد تیمی، مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی


ہندی دیوس: ہندی کی پذیرائی، اردو سے بے اعتنائی کیوں؟ - 
ازقلم - کلیم اللہ امداد تیمی، 
مسجد یعقوبیہ اہلحدیث، چینئی

ہندی ہندوستان کی ایک بڑی اور مؤثر زبان ہے۔ اس کا وسیع ادبی سرمایہ، صحافت، تعلیم، سنیما اور جدید ذرائع ابلاغ میں اس کی مضبوط موجودگی اس کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔ اپنی زبان سے محبت اور اس کی ترقی کے لیے کوشش کرنا یقیناً قابلِ قدر ہے۔ اسی جذبے کے اظہار کے طور پر ہر سال 14 ستمبر کو ملک بھر میں ہندی دیوس منایا جاتا ہے۔ سرکاری اداروں، تعلیمی مراکز اور مختلف تنظیموں کی جانب سے ہندی کی اہمیت، اس کے فروغ اور اس کے شاندار ادبی ورثے پر گفتگو کی جاتی ہے۔ ہندی کی اس پذیرائی اور سرکاری سرپرستی کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔

لیکن اسی موقع پر ایک سوال بھی ذہن میں ابھرتا ہے: جس ہندوستان میں ہندی کے فروغ کو قومی اہمیت حاصل ہے اور اسے حکومتی سطح پر بھرپور تعاون ملتا ہے، اسی ہندوستان میں اردو کے حصے میں وہی گرم جوشی کیوں نہیں آتی؟ یہ سوال ہندی کی ترقی کے خلاف نہیں، بلکہ لسانی انصاف اور توازن کے حوالے سے ہے۔ آخر اردو کے ساتھ ایسا امتیاز کیوں، جب کہ ہندی اور اردو ایک ہی ہندوستانی لسانی و تہذیبی ماحول سے گہرا رشتہ رکھتی ہیں؟ دونوں کے درمیان اختلافات اپنی جگہ، مگر ان کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ انہیں ہندوستان کی لسانی آنکھوں کی مانند کہا جاسکتا ہے۔ پھر ایک کو آگے بڑھانے اور دوسری کو پیچھے چھوڑ دینے کی روش کیوں پیدا ہوئی؟

اردو کے بارے میں بعض حلقوں میں یہ تصور اب بھی پایا جاتا ہے کہ یہ ہندوستان سے باہر کی زبان ہے، جسے یہاں بعد میں لایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو کسی ایک دن یا ایک خطے میں اچانک وجود میں نہیں آئی، بلکہ برصغیر کی مختلف زبانوں، بولیوں اور تہذیبی روایتوں کے طویل اختلاط سے اس کی تشکیل ہوئی۔ ہندوستانی زبانوں کے ساتھ فارسی، عربی اور ترکی کے اثرات نے اس کے مزاج کو تشکیل دیا اور اسے ایک منفرد ادبی زبان بنایا۔

اردو کے ہندوستانی تشخص کا اندازہ اس کے ادبی سفر سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ میر تقی میر، مرزا غالب، ذوق، داغ دہلوی، علامہ اقبال، رام پرشاد بسمل، منشی پریم چند اور فراق گورکھپوری سمیت بے شمار شعرا و ادبا نے اردو کو اپنے تخلیقی اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کی شاعری اور نثر میں ہندوستان کی مٹی، تہذیب اور معاشرتی تجربات پوری قوت سے جلوہ گر ہیں۔

اردو کا کردار ادب تک محدود نہیں رہا۔ اس نے صحافت کے ذریعے فکری بیداری پیدا کی، آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کیا اور ہندوستانی فلم، موسیقی اور مقبول ثقافت کو بھی متاثر کیا۔ اس لیے اردو کو محض کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان سمجھ لینا اس کے وسیع تاریخی کردار کو نظر انداز کرنا ہے۔ زبانیں کسی مذہب کی ملکیت نہیں ہوتیں؛ وہ پورے معاشرے کے اجتماعی تعاون سے تشکیل پاتی ہیں۔

یہ درست ہے کہ ہندی اور اردو کے رسم الخط الگ ہیں اور دونوں کی ادبی روایتوں نے اپنے اپنے راستے اختیار کیے ہیں۔ الفاظ کے انتخاب میں بھی فرق نمایاں ہے، لیکن یہ اختلاف ان کے گہرے لسانی رشتے کو ختم نہیں کرتا۔ روزمرہ ہندوستانی گفتگو، بازار، گھر، فلم، گیت اور عام بول چال میں آج بھی ایسے بے شمار الفاظ اور محاورے موجود ہیں جو دونوں کے درمیان قدرتی پل کا کام کرتے ہیں۔ دونوں صدیوں کے تہذیبی میل جول کی پیداوار ہیں۔

اسی لیے سوال ہندی کو ملنے والی توجہ کا نہیں، بلکہ اردو کو اس کے جائز مواقع سے محروم رکھنے کا ہے۔ تعلیم میں اردو کے مواقع محدود کیوں ہوتے جارہے ہیں؟ اردو صحافت اور اشاعت کے مسائل پر مطلوبہ سنجیدگی کیوں نہیں دکھائی دیتی؟ نئی نسل کے لیے اردو کو جدید علوم، روزگار اور ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی کوششیں اتنی نمایاں کیوں نہیں؟ ایک زبان کی ترقی دوسری زبان کے لیے خطرہ نہیں؛ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب زبان کو تعصب یا تقسیم کا ذریعہ بنا دیا جائے۔

ہندوستان کی قوت اس کی یک رنگی میں نہیں بلکہ اس کی رنگا رنگی میں ہے۔ ہندی کو ترقی کے تمام مواقع ملیں، اردو کو بھی اس کے جائز حقوق اور امکانات سے محروم نہ کیا جائے۔ تمل، تیلگو، بنگالی، مراٹھی، ملیالم، کنڑ، پنجابی، گجراتی اور ملک کی دوسری زبانیں بھی اسی احترام کی مستحق ہیں۔

اصل حسن اس میں نہیں کہ ایک زبان دوسری پر سبقت لے جائے؛ اصل حسن یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں مختلف زبانیں اپنی اپنی پہچان کے ساتھ زندہ رہیں اور ایک دوسرے کی موجودگی کو اپنے لیے خطرہ نہ سمجھیں۔ ہندی اور اردو کو باہم متصادم شناختوں کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہی مٹی میں جڑی ہوئی دو سگی بہنوں کی طرح دیکھنے کی ضرورت ہے؛ جن کے لباس اور اندازِ گفتگو میں فرق ہوسکتا ہے، مگر رشتے کی بنیاد ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا حسن بھی ہے اور اس کی لسانی کثرت کا اصل وقار بھی۔

اپنے ہی وطن میں میں ہوں مگر آج اکیلی​
اردو ہے میرا نام میں "خسرو" کی پہیلی​

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔