بابری مسجد سے سہارنپور تک: تاریخ کو نفرت کا سبب نہ بنائیں - سید فاروق احمد قادری۔


بابری مسجد سے سہارنپور تک: تاریخ کو نفرت کا سبب نہ بنائیں - 
سید فاروق احمد قادری۔

6 دسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید کر دی گئی۔ اس واقعے نے ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں پر ایک گہرا زخم چھوڑا۔ اس کے بعد بھی مسلمان بڑی حد تک اس امید کے ساتھ جمہوری اور عدالتی راستے پر قائم رہے کہ ہندوستان کا آئین اور عدالتیں آخرکار انصاف کا راستہ دکھائیں گی۔
2019ء میں سپریم کورٹ نے ایودھیا کے تنازع پر اپنا فیصلہ سنایا۔ یہ پانچ رکنی بنچ کا متفقہ فیصلہ تھا۔ عدالت نے متنازع زمین رام مندر کی تعمیر کے لیے ٹرسٹ کو دینے اور مسلمانوں کو ایودھیا میں پانچ ایکڑ متبادل زمین دینے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے 1992ء میں بابری مسجد کے انہدام کو قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اس فیصلے کے بعد بھی بڑی حد تک جمہوری نظام اور عدلیہ کے احترام کے ساتھ آگے بڑھے۔ ان کا یہ رویہ اس بات کی علامت تھا کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے وطن، اپنے آئین اور جمہوریت پر اعتماد رکھنا چاہتے ہیں۔
لیکن اس کے بعد عوام کے ذہن میں ایک سوال ضرور پیدا ہوا:
اگر 1992ء میں ایک مسجد قانون کے خلاف منہدم کی گئی تو کیا آئندہ تاریخی اور مذہبی مقامات کے تنازعات بھی اسی راستے پر چلیں گے؟
یہ سوال صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا سوال ہے۔
آج سہارنپور کی قدیم مسجد کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ اگر واقعی اس مسجد کے بارے میں 1896ء اور 1909ء کے تاریخی شواہد موجود ہیں تو ان کی غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ اگر کسی عمارت کی قانونی حیثیت پر اختلاف ہے تو فیصلہ عدالت اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ مذہبی جذبات یا سیاسی دباؤ کے تحت۔
2014ء کے بعد مذہبی مقامات اور تاریخی عمارتوں سے متعلق مختلف تنازعات عوامی بحث کا حصہ بنے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عوام کے اندر خوف یا بداعتمادی پیدا نہ ہونے دے۔
حکومت کو صاف کہنا چاہیے کہ ہندوستان میں کسی مسجد کو صرف اس لیے نشانہ نہیں بنایا جائے گا کہ وہ مسجد ہے، اور کسی مندر کو صرف اس لیے نشانہ نہیں بنایا جائے گا کہ وہ مندر ہے۔
قانون سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
مسلمانوں نے بھی اس ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں، اس ملک کی آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا ہے اور آزادی کے بعد بھی اسی وطن کو اپنا وطن سمجھ کر زندگی گزاری ہے۔ اس لیے آج اگر کسی مسلمان کے دل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "کیا ہمارے تاریخی اور مذہبی مقامات محفوظ ہیں؟" تو اس سوال کا جواب حکومت کو اعتماد کے ساتھ دینا چاہیے۔
اسی طرح ہندو بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کو صرف ایک مذہب کے چشمے سے نہ دیکھیں۔ ہندوستان کی تاریخ میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین اور دوسری تہذیبوں کے آثار موجود ہیں۔ یہ سب مل کر ہندوستان کو ہندوستان بناتے ہیں۔
ہمیں بابری مسجد کے زخم کو سہارنپور کی نئی نفرت نہیں بنانا چاہیے۔
ہمیں تاریخ سے سبق لینا چاہیے، تاریخ کے نام پر ایک دوسرے سے بدلہ نہیں لینا چاہیے۔
اگر حکومت واقعی "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" چاہتی ہے تو سب سے پہلے عوام کے دل سے خوف نکالنا ہوگا۔ مسلمانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کی مسجد، ان کی درگاہ، ان کا قبرستان اور ان کا تاریخی ورثہ بھی اتنا ہی محفوظ ہے جتنا کسی دوسرے ہندوستانی شہری کا مذہبی اور تاریخی ورثہ۔
اور مسلمانوں کو بھی اپنے مطالبات آئین، عدالت اور جمہوری طریقے سے ہی پیش کرنے چاہئیں۔
کیونکہ جمہوریت میں خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، لیکن انصاف کے لیے مسلسل پُرامن آواز اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔
آج سہارنپور سے لے کر پورے ہندوستان تک عوام کا سوال یہی ہے:
کیا ہم ماضی کی لڑائیاں اپنے بچوں کے مستقبل تک لے جائیں گے، یا تاریخ سے سبق لے کر ایک ایسا ہندوستان بنائیں گے جہاں مسجد بھی محفوظ ہو، مندر بھی محفوظ ہو اور ہر شہری کا آئینی حق بھی محفوظ ہو؟
میرا جواب واضح ہے:
ہمیں تاریخ نہیں مٹانی، تاریخ کو محفوظ کرنا ہے۔
ہمیں ایک دوسرے کو نہیں لڑانا، ایک دوسرے کو سمجھنا ہے۔
اور ہمیں ماضی کے زخموں کو مستقبل کی نفرت نہیں، مستقبل کے انصاف میں بدلنا ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔