شہرت کی بھوک - تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔


شہرت کی بھوک - 
تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی۔
 9881836729 

 ایساضروری نہیں ہے کہ،جو انسان زمین پر مشہور ہو،وہ اللہ کے پاس بھی مقبول اور محبوب ہو ۔اور ایسا بھی ضروری نہیں کہ جو شخص زمین پر گمنام ہو،اور اللہ کے پاس محبوب نہ ہو۔ ایک زمانہ تھا لوگ عزت و احترام کے پاسدار تھے، اور اپنے نام کے چرچوں سے ڈرتے تھے ۔کیونکہ وہ خدا سے ڈرتےتھے، خشیت الہی دلوں میں راسخ تھا۔آجکل گلیمرنگ شو پٹ اپ زیادہ ہوچکا ہے۔آج ہر انسان اپنے آپ کو دوسرے سے زیادہ بہتر بتانے کی سعی اور کوشش کررہا ہے۔ دنیا داروں کا تو کیا کہنا، علم دین کے حامیلن بھی ملوث ہیں جو ایک المیہ ہے۔ آج حال یہ ہو گیا کہ نام ونہاد مقصد حیات بن چکا ہے۔ کسی غریب کی مدد کرنا ہو تو دس چینلوں پر وائرل کیا جاتا ہے ۔جس سے اس غریب کا وقار اور عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔یہاں پر تو اسلامی تعلمات یہ ہے کہ انسان کسی غریب کی مدد کرنا چاہتا ہو تو ایک ہاتھ سے دیں تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ ایک جنگلی جانور اگر بکریوں کی ریوڑ میں گھس جائے تو اتنا نقصان نہیں پہنچتا جتنا شہرت کے بھوکے لوگوں سے پہونچتا ہے۔ جیسے یہ ہمیں بقر عید کے موقع پر بھی دید کو ملتا ہے۔ بہت سارے لوگ جو شہرت کی بھوکے ہوتے ،جو جانوروں کو سوشل میڈیا پر وائرل کرتے ہیں ۔جبکہ اس سے متعلق واضح طور پر قران کریم کی آیت ہے جس میں اللہ نے فرمایا ۔بے شک اللہ تک نہ جانور کا خون پہنچتا ہے اور نہ ہی گوشت ، بلکہ اللہ کے پاس انسان کا تقوی ڈر پہنچتا ہے۔ جو انتہائ ضروری ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اپنی طاقت کو مظاہرے کے لیے پیش کرتا ہے ۔اللہ اس سے قیامت کے دن اس کی طاقت کے بارے میں ضرور سوال کرے گا کہ کہاں صرف کیا ہے ؟ اور علم والے سے بھی یہ سوال ہوگا کہ آپ نے اپنا علم کیسے اور کہاں صرف کیا ہے؟ ۔اور مالدار سے بھی سوال ہوگا کہ آپ نے۔ اپنا پیسہ کہاں پر خرچ کیا ؟ چنا چہ اللہ کا ارشاد ہے۔ جس کا مفہوم ہے، تم ہرگز ایسے لوگوں کو عذاب سے چھٹا ہوا نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہوتے ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ ان کاموں پر بھی ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے کیے ہیں ۔ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ چاہے وہ دینی ہو یا دنیاوی ۔اقتدار کی جھوٹی شہرت انسان کو وقتی طور پر با اختیار اور معتبر ضرور بناتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک سراب ہے جو دھوکے کے مانند ہے۔ 
اور جلد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ جس طرح ریگستان میں چمکتی ریت پانی کی شکل پیدا کرتی ہے۔ لیکن وہاں جانے کے بعد یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ پانی نہیں تھا بلکہ ریت ہے۔چنانچہ ہر چمکنے والی شئ سونا نہیں ہوتی۔ایک دھوکہ ، اور ایک سراب جس کے پیچھے انسان دوڑا چلا جا رہا ہے ۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بڑی خوبصورتی سے اس بات کو عیاں کیا ہے ۔ آتش جان گدا جوع گداست جوع سلطان ملک و ملت را فناست فقیر کی بھوک صرف اس کی جان کھالیتی ہے، لیکن حکمراں کی جھوٹی شہرت ملک و ملت کو کھاجاتی ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے ،جس کا مفہوم ہے ۔بے شک اعمال کا دارومدار نیتوں پر منحصر ہے،ہر شخص کو وہی ملیگا جو اس نے نیت کی۔ سورہ بقرہ کی ایت نمبر 110 میں اللہ تعالی فرماتا ہے ۔جو تم نیکی اور بھلائی کا کام اپنے لیے کروگے ، وہ تم یقینا اللہ کے پاس پا لو گے۔ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔جس کا مفہوم ہے۔ بے شک اللہ تعالی تمہاری صورتوں کو اور اموال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے ۔ قطب الدین بختیار کاکی رحمت اللہ علیہ ایک پائے کے بزرگ گزرے ہیں ۔جب ان کی وفات ہوئی تو جنازہ تیار تھا، چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ حضرت نے مجھ سے یہ وصیت فرمائی تھی ، میرا جنازہ وہی شخص پڑھائے گا ،جس میں یہ چار خوبیاں موجود ہوں ۔پہلی شرط یہ ہے کہ اس کی زندگی میں تکبیر اولی کبھی ترک نہ ہوئی ہو ، ہو ،دوسری شرط یہ کہ اس کی تہجد کی نماز کبھی قضا نہ ہوئی ہو ،تیسری شرط یہ ہے کہ اس نے کبھی غیر محرم پر نظر نہ ڈالی ہو، چوتھی اور آخری شرط یہ ہے کہ اس نے عصر کی سنتیں کبھی ترک نہ کی ہو ۔ سناٹا چھایا ہوا تھا ۔کون ہے جو آگے قدم بڑھائے ، ایک شخص روتا ہوا آگے بڑھا،جنازے کی چادر ہٹائی ،اور کہا حضرت قطب الدین کاکی آپ تو فوت ہو گئے لیکن مجھے رسوا کر دیا ۔کیونکہ یہ جو بھی خوبیاں تھیں وہ سب اللہ کے لیے تھیں،اور آپ نے میرا راز کھول دیا۔ اور انہوں نے نماز جنازہ پڑھائ، یہ تھے وقت کے شہنشاہ شمس الدین التمش۔ یہ لوگوں نے بھی سیاست کی اور اقتدار کو سنبھالا ہے ،اور سلطنتوں کو سنبھالا ہے۔ جب ان عظیم شخصیتوں نے اللہ کے بندوں کے لیے بغیر منفعت اور شہرت کے لیے کام کیا ہے ۔کیا ہم نہیں کر سکتے ؟ عہدہ اور منصب طلب کرنا کوئی بری بات نہیں ہے ۔لیکن عہدے اور منصب کا استعمال رعایہ کے بھلائی میں ہو تو عین اسلام کے مطابق ہے ۔جو ہمارا مذہب اسلام اس بات کی دعوت سخن دیتا ہے۔ چناں چہ یہ پیغمبروں کا شیوہ بھی رہا کہ عہدہ و منصب قبول کرکے رعایہ کی بھلائ اور ان کے حق میں کام کریں۔ جب مصر کے بادشاہ نے یوسف علیہ السلام کی وفاداری اور دیانت داری دیکھا تو کہا آپ پر ہمیں مکمل اعتماد ہے۔ اور بادشاہ نے خزانوں کا شعبہ حضرت یوسف علیہ السلام کے سپرد کیا۔ یوسف علیہ السلام نے بھی خود کی تائید کی کے مجھے خزانوں کا وزیر بنایاجاے۔ اس بات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اچھے لوگ، ایماندار لوگ آگے آئیں اور اللہ کے بندوں کی خدمت کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔