ناکام ارزو ہے سہاروں کی زندگی - ازقلم : محمد ناظم ملی تونڈا پوری، جامعہ اکل کنواں
ناکام ارزو ہے سہاروں کی زندگی -
ازقلم : محمد ناظم ملی تونڈا پوری،
جامعہ اکل کنواں
ع
سہارا جو کسی کا ڈھونڈتے ہیں بہار ہستی میں
سفینہ ایسے لوگوں کا ہمیشہ ڈوب جاتا ہے
الفاظ تو یقینا بہت سادہ سے ہیں لیکن مفہوم بڑا دقیق اور عمیق ہے اور اس کو ہر ادمی اپنے تیئں سمجھ سکتا ہے
جی ہاں اس کو سمجھنے کے لیے انبیاء علیہم السلام صحابہ کرام تابعین تبع تابعین اولیاء عظام اور خداوند عالم کے وہ متوکلین بندے جنہوں نے اپنی حیات جاودانی میں کبھی دنیا کے ناکام سہاروں کو جگہ نہیں دی اور دنیا کے جھوٹے ناپائیدار اور ناکام سہاروں کو تلاش نہیں کیا بس رب کائنات پر مکمل اعتماد کر کے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر وہ اپنی حیات کے سفینے کو تیرا گئے اور دنیا نے دیکھا کامیابیوں نے ان کی قدم بوسی کی ہے ہر بڑے انسان اور تاریخی شخصیات کی سیرت و سوانح یہی بتلاتی ہے کہ یہ جہاں محنتوں مشقتوں اور متحرک زندگی گزارنے کا جہان ہے بقول شاعر۔ ع
نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا
سو بار جب عقیق کٹا تب نگین ہوا
یوں سمجھیے انسان کی ساری زندگی چہد مسلسل سے عبارت ہے اور بعض دانشوروں نے تو کہا ہے کہ "زندگی نام ہی ہے جہد مسلسل کا"دفع دخل مقدر ایک بات گوش گزار کرتے چلیں کہ رب العالمین نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں کا امین بنایا ہے حد درجہ ذہین وفطین بنایا ہے سمندروں سے بھی زیادہ عمیق اور گہرا دل اس کو عنایت فرمایا ہے بے پناہ مصائب و الام اور مشقت برداشت کرنے والا جسم عطا فرمایا ہے اگر انسان اپنے قلب و ضمیر اپنی ذہانت و فطانت اور اپنی ذات کو عمل اور جہد مسلسل پر گامزن کر لے تو وہ سمندروں کو عبور کر سکتا ہے پہاڑوں کو چیر سکتا ہے مریخ ثریاپر کمندیں ڈال سکتا ہے شمس و قمر کی تسخیر کر سکتا ہے خداوند کریم خود اپنے ایسے بندوں کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
وان ليس للانسان ما سعى وان سعيه سوف يرى
محنتوں اور مشقتوں سے گزرنا اپنے اپ کو اس لائق بنانا اور اپنے مقاصد کے لیے جدوجہد اور کوشش کرنا ایمان کے منافی نہیں عین ایمان ہے تاجدار ختم نبوت محبوب رب العالمین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں.
الكاسب حبيب الله
یعنی محنت سے اکتساب کرنے والا محبوب کی نظر میں بھی محبوب ہیں اور محبوب خدا کی نظر میں بھی پیارا و محبوب ہے ہاں اس جہد مسلسل میں خدا کے ساتھ وابستگی لازمی ہے کہ اس کا سرا ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے ورنہ اس صحرا میں بھٹکنے کے بہت زیادہ خدشات موجود ہے
وان ليس للانسان الا ما سعى قران مجید کے اس ابدی اصول کو جن لوگوں نے اپنی حیات مستعار کا وظیفہ بنایا وہ دنیا میں ذیشان ٹھہرے دولت و ٹروت اور حکومت و سلطنت کے نہ ہونے کے باوجود بھی وہ اہل جہاں کی انکھوں کا سرمہ بنے وہ بزم جہاں میں اپنی ذات کے علاوہ عوام کے لیے نافع نہیں انفع ثابت ہوئے ہیں اور لوگوں نے ان کو وہ وقار و اعتبار دیا کہ اج بھی وہ لوگوں کی انکھوں کا سرمہ بنے ہوئے ہیں اج بھی دنیا میں سقراط بقراط ارسطو افلاطون عمر خیام ابو ریحان البیرونی رازی غزالی زہراوی یعقوب کندی ابن سینا ابن الہیثم موسی الخوارزمی اور تمام ائمہ و مجتہدین مفسرین محدثین یہ سب اج بھی اپنے نام اور کام کے ساتھ زندہ و تابندہ ہیں اور اج بھی زمانے بھر کی رہنمائی کر رہے ہیں یقینا زمانہ بھی ایسے ہی اہل ہنر اہل علم و فن اور اس میدان میں اکتساب کرنے والے افراد کو سلام کرتا ہے جو جہد مسلسل سے اپنا ایک جہاں تعمیر کرتے ہیں جواپنے بازوؤں پر اعتماد رکھتے ہوئے خدا کی عطا کردہ اپنی صلاحیتوں سے بھرپور کام لیتے ہیں جو علم کو خضر راہ اور حکمت کو اپنی قوت سمجھتے ہیں خودی خود اعتمادی وہ خدا اعتمادی سے جن کے سینے معمور ہوتے ہیں وہ بہار ہستی کی موجوں سے ٹکراتے ہیں کسی سہارے کی تمنا بھی نہیں کرتے اپنی قوت عمل کا اس شان سے مظاہرہ کرتے ہیں کہ کنارے خود بخود ان کے قدم چومتے ہیں یقینا وہ اس حقیقت سے اشنا ہوتے ہیں کہ
ع
ناکام ارزو ہیں سہاروں کی زندگی
توہین جستجو ہیں سہاروں کی زندگی
اس لیے دنیا میں جتنے اولو العزم اور کائنات انسانی کو حیات جاودانی کا درس دینے والے تمام ہی انسانوں کا یہی طور طریقہ اور شیوہ رہا ہے ع
اسانیوں سے پوچھنا منزل کا راستہ
تو اپنےسفرکی راہ میں پتھر تلاش کر
ذرے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے
قطرے کی وسعتوں میں سمندر تلاش کر
Comments
Post a Comment