محترمہ عطیا حسین ، معاشرتی و اصلاحی ناول نگار ! - ڈاکٹر جی۔ایم۔ پٹیل، پونہ


محترمہ عطیا حسین ، معاشرتی و اصلاحی ناول نگار ! - 
ڈاکٹر جی۔ایم۔ پٹیل، پونہ

انگریزی کی معروف ناول نگار کے طور پر عطیہ حسین کو ایک نئی بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی اور وہ ایک دہائی تک عوام کی نظروں میں رہیں۔ درحقیقت 1997ء میں اپنی وفات (یا آخر(ی بیماری سے چند روز قبل تک) اپنی 84 ویں سالگرہ تک آپ سرگرم رہیں۔"انہیں اپنی کہانیوں کے مجموعے اور ناول Sunlight on a Broken Column کی وجہ سے عالمی سطح پر جانا گیا۔عطیہ حسین 1913 میں لکھنؤ کے ایک معزز اور کھاتے پیتے اودھ کے تعلقہ دار خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد چودھری اختر حسین ایک سیاست دان تھے۔اپنے دور کی انتہائی تعلیم یافتہ خواتین میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے لکھنؤ کے اسابیلا تھوبورن کالج (Isabella Thoburn College) سے گریجویشن کی اور وہ لکھنؤ یونیورسٹی سے گریجویٹ ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ان کا خاندان روایتی ہونے کے باوجود علم دوست تھا۔ انہوں نے انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ گھر پر عربی، فارسی اور اردو کی تعلیم بھی حاصل کی۔عطیہ حسین بنیادی طور پر انگریزی میں لکھتی تھیں، لیکن ان کی تحریروں کی روح، ماحول اور کردار خالصتاً برصغیر (خاص طور پر لکھنؤ) کے تہذیبی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔
افسانوی مجموعہ "Phoenix Fled" میں (1953 لکھا گیا جوبارہ کہانیوں پر مشتمل پہلا مجموعہ تھا۔ اس ناول میں انہوں نے بدلتے ہوئے معاشرے، روایات اور جدیدیت کے ٹکراؤ کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا۔
"Sunlight on a Broken Column" (1961) میں لکھا یہ شاہکار ناول ان کا سب سے مشہور سوانحی ناول ہے۔ یہ کہانی ایک نوجوان یتیم لڑکی 'لالیٰ' کے گرد گھومتی ہے، اس ناول میں 1930 اور 1940 کی دہائی کے لکھنؤ کی زوال پذیر جاگیردارانہ ثقافت اور تقسیمِ ہند کے المناک اثرات کو دکھایا گیا ہے، جس نے خاندانوں کو آپس میں بانٹ دیا۔
تقسیمِ ہند کے بعد، 1947 میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ لندن منتقل ہو گئیں اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
لندن میں انہوں نے بی بی سی (BBC) ورلڈ سروس کے لیے ایک طویل عرصے تک براڈکاسٹر اور پیش کنندہ کے طور پر کام کیا۔ وہ بی بی سی اردو اور انگریزی کے مختلف پروگراموں کی ایک مقبول آواز بن گئیں۔
انہوں نے مختلف ادبی جرائد کے لیے مضامین اور کالم بھی لکھے۔عطیہ حسین کی تحریریں لکھنؤ کی مشترکہ تہذیب (گنگا جمنی تہذیب)، عورتوں کی آزادی، اور ہجرت کے دکھ کی عکاس ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر انتہائی حساس اور دل کو چھو لینے والا ہے۔ وہ 1998 میں لندن میں وفات پا گئیں۔
……………………………………………………

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔