اللہ تعالیٰ کا کیا فائدہ ہے؟ - از قلم : ظفر ھاشمی ندوی، سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ۔
اللہ تعالیٰ کا کیا فائدہ ہے؟ -
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی،
سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ۔
اگر کوئی ڈاکٹر کسی بیمار کو کسی بھی طرح کی دوا لکھ کر دے کہ یہ دوا استعمال کرو اور وہ بیمار اس دوا کو استعمال کر کے ڈاکٹر پر احسان جتائے تو آپ ایسے شخص کو کیا کہیں گے؟ اور اگر وہ اس دوا کو استعمال نہ کرے تو اس ڈاکٹر کا خود کیا نقصان ہوگا-
یہی بات ہر مسلمان مرد و عورت اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے- اللہ رب العزت نے اسلام نام کی مکمل دوا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ دنیا کے تمام انسانوں کو استعمال کرنے کے لئے دے دی ہے اور یہ بھی صاف صاف کہہ دیا ہے کہ یہ دوا دنیا اور آخرت کی ہر بیماری سے تم کو نجات دے گی - اب کوئی اسلام پر بھر پور عمل کرے تو اس میں اللہ تعالیٰ کا کیا فائدہ ہے ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ کو نہ مانے یا اسلام پر ٹھیک سے عمل نہ کرے تو اس میں اللہ تعالیٰ کا کیا نقصان ہے؟
اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے من عمل صالحا فلنفسه ومن أساء فعلیھا جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے گا تو اس کا فائدہ خود اس کو ہوگا اور جو کوئی برائی کرے گا تو اس کا وبال بھی خود اس پر آئے گا- دوسری طرف ارشاد ہے من یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ جو شخص بھی ذرہ برابر اچھا کام کرے گا تو آخرت میں وہ اس کا فائدہ دیکھ لے گا اور جو شخص بھی ذرہ برابر کوئی عمل کرے گا تو اس کا نقصان بھی وہ آخرت میں دیکھ لے گا- اب آپ بتائیے کہ اب تک کی زندگی میں ہم نے کتنے نیک اعمال کئے ہیں اور کتنے نیک عمل ہم سے چھوٹ گئے ہیں بلکہ کتنے نیک عمل ہیں جن سے ہم اب تک دور ہیں اور وہ دن ہماری زندگی میں کب آئے گا جب ہم ہر نیک عمل کرنے کے پیاسے ہوں گے اس شرط کے ساتھ کہ ہمارا ہر نیک عمل صرف اور صرف اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لئے ہو ناکہ شہرت یا دکھاوے کے لئے- اسی طرح ہم نے کتنے برے عمل اور گناہ کئے ہیں اور اب تک توبہ بھی نہیں کی ہے اور اب بھی کئے جا رہے ہیں مگر جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
شرم تم کو مگر نہیں آتی
وہ دن ہماری زندگی میں کب آئے گا جس میں مرنے سے پہلے ہم اللہ سے ہر گناہ سے معافی مانگیں گے یعنی سچی توبہ کریں گے اور اس غلطی کو دوبارہ نہیں کریں گے-
اب یہ سوچنا ہے کہ اگر ہر زمانہ کے تمام انسان اللہ کی ہر بات پر عمل کرلیں تو اس میں ان انسانوں کا فائدہ ہے یا اللہ تعالیٰ کا ؟ بالکل ظاھر ہے کہ صرف انسانوں کا فائدہ ہے اور وہ فائدہ یہ ہے کہ ہر انسان کی جان و مال اور عزت محفوظ رہے گی اور آخرت میں جنت ملے گی- اس کے مقابلہ میں اگر سارے انسان اللہ کی ہر بات کی نافرمانی کریں تو اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ہے- اس سلسلہ کی سب سے مشھور حدیث قدسی پڑھیے اور پھر اپنی باقی زندگی گزارنے کا صحیح پلان بنائیے- سب سے پہلے حدیث قدسی کا مطلب سمجھیے- ہر وہ بات جو ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی ہے یا عمل کیا ہے یا کوئی کام آپ کے سامنے ہوا یا آپ کو معلوم ہوا مگر آپ نے منع نہیں فرمایا اسے حدیث کہتے ہیں - لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی بات کے کہنے سے پہلے فرمایا ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) تو اسے حدیث قدسی کہتے ہیں اور اس کی اہمیت اس لئے بڑھ جاتی ہے کہ اس بات کی نسبت خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے - اب آج کی حدیث قدسی پڑھیے:
إنَّكُم لَن تَبلُغوا ضَرِّي فتَضُرُّوني، ولَن تَبلُغوا نَفعي فتَنفَعوني، يا عِبادي، لو أنَّ أوَّلَكُم وآخِرَكُم وإنسَكُم وجِنَّكُم كانوا على أتقى قَلبِ رَجُلٍ واحِدٍ مِنكُم، ما زادَ ذلك في مُلكي شيئًا، يا عِبادي، لو أنَّ أوَّلَكُم وآخِرَكُم وإنسَكُم وجِنَّكُم كانوا على أفجَرِ قَلبِ رَجُلٍ واحِدٍ ما نَقَصَ ذلك مِن مُلكي شيئًا، اے میرے بندوں تم سب کے سب مل کر بھی مجھے کوئی نقصان ہرگز ہرگز نہیں پہونچا سکتے اور نہ تم سب کے سب مل کر بھی مجھے کوئی فائدہ نہیں پہونچا سکتے ہو- اگر دنیا کے سارے انسان اور سارے جن سب اتنے نیک بن جائیں جتنا کہ تم میں سے جس کا دل سب سے زیادہ متقی ہے تو اس سے میری بادشاھت میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا- اور اگر تم سارے انسان اور جن سب مل کر اتنے گناہ گار بن جائیں جتنا کہ تم میں سے کسی کا دل سب سے زیادہ گناہگار ہو تو اس سے میری بادشاھت میں کچھ بھی کمی نہیں ہوگی( مسلم شریف اور دوسری حدیث کی کتابیں)ا
اسی لئے میں نے اپنے اس مضمون کا عنوان رکھا: اللہ تعالیٰ کا کیا فائدہ ہے؟
اے اللہ ہر مسلمان کو اسلام کا صحیح علم حاصل کرنے ، اس پر صحیح طرح سے عمل کرنے اور دوسروں تک پہونچانے کی توفیق عطا فرما - آمین ثم آمین-
Comments
Post a Comment