آدمؑ کا راستہ یا ابلیس کا؟ - گناہ کے بعد انسان کا اصل امتحان - تحریر : ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی


آدمؑ کا راستہ یا ابلیس کا؟ - 
گناہ کے بعد انسان کا اصل امتحان - 
تحریر : ڈاکٹر محمد عبد السمیع ندوی،  
اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد کالج اورنگ آباد 
موبائل نمبر 9325217306

انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس کی زندگی میں لغزش بھی آتی ہے، کمزوری بھی، خواہشات کا غلبہ بھی اور کبھی ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب قدم حق کی راہ سے پھسل جاتا ہے۔ لیکن انسان کی اصل عظمت اس بات میں نہیں کہ وہ کبھی گناہ نہ کرے؛ اصل عظمت اس میں ہے کہ گناہ کے بعد وہ کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔

اسی حقیقت کی طرف ایک نہایت بصیرت افروز قول میں متوجہ کیا گیا ہے:

"دو بزرگوں نے گناہ کیا: آدم اور ابلیس۔ آدم نے توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، انہیں برگزیدہ کیا اور ہدایت عطا فرمائی؛ جبکہ ابلیس نے اصرار کیا اور تقدیر کو حجت بنایا۔ پس جو شخص اپنے گناہ سے توبہ کرے وہ اپنے باپ آدم کے مشابہ ہے، اور جو گناہ پر اصرار کرے اور تقدیر کو دلیل بنائے وہ ابلیس کے مشابہ ہے۔"

یہ بات بظاہر مختصر ہے، لیکن اس کے اندر انسانی زندگی کی اصلاح کا ایک پورا فلسفہ پوشیدہ ہے۔

گناہ سے زیادہ خطرناک گناہ پر اصرار

گناہ انسان کی کمزوری کا اظہار ہو سکتا ہے، لیکن گناہ پر اصرار انسان کے اندر پیدا ہونے والی ایک خطرناک کیفیت کی علامت ہے۔ ایک شخص سے لغزش ہوئی، اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا، دل نادم ہوا، اس نے اپنے رب کے سامنے سر جھکا دیا اور اصلاح کی کوشش شروع کردی—یہ شکست نہیں، بلکہ واپسی کی ابتدا ہے۔

اس کے برعکس ایک شخص گناہ کرے، پھر اسے غلط تسلیم کرنے کے بجائے اس کے لیے جواز تلاش کرے، اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈالے، حالات کو موردِ الزام ٹھہرائے، حتیٰ کہ تقدیر کو اپنی معصیت کے لیے ڈھال بنا لے—تو مسئلہ صرف گناہ نہیں رہتا، بلکہ دل کی بیماری بن جاتا ہے۔

اسی لیے آدمؑ اور ابلیس کا واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان صرف اس کی لغزش سے نہیں، بلکہ لغزش کے بعد اس کے ردِعمل سے ہوتی ہے۔

آدمؑ کی عظمت: اعترافِ خطا اور رجوع الی اللہ

آدمؑ سے لغزش ہوئی، مگر انہوں نے اپنی لغزش کے دفاع میں دلائل نہیں تراشے۔ انہوں نے اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا۔ قرآن کریم ان کی دعا نقل کرتا ہے:

﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾

اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم یقیناً خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔

یہ الفاظ صرف ایک دعا نہیں، بلکہ توبہ کا پورا مزاج ہیں۔

"ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا"—یعنی ذمہ داری قبول کرنا۔

"اگر تو نے ہمیں نہ بخشا"—یعنی اللہ کی رحمت کی طرف امید رکھنا۔

"اور ہم پر رحم نہ فرمایا"—یعنی اپنی بے بسی کا اعتراف کرنا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں گناہ گار انسان اللہ کا مقبول بندہ بننے کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔

ابلیس کی تباہی: گناہ کے بعد تکبر

ابلیس کا المیہ صرف یہ نہیں تھا کہ اس نے حکم کی خلاف ورزی کی؛ اس سے بھی بڑا المیہ یہ تھا کہ اس نے اپنی غلطی کو غلط ماننے سے انکار کردیا۔

اس نے کہا:

﴿أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ﴾

"میں اس سے بہتر ہوں۔"

پھر اس نے اپنے جرم کے لیے ایسا استدلال پیش کیا جس میں اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے تقدیر کو حجت بنانے کی کوشش تھی۔

یہاں انسان کے لیے ایک نہایت اہم سبق پوشیدہ ہے:

شیطان کی راہ یہ نہیں کہ انسان سے کبھی گناہ نہ ہو؛ بلکہ یہ ہے کہ گناہ کے بعد انسان اپنی انا کو بچانے کے لیے حق کا انکار شروع کردے۔

گناہ کے بعد "میں غلط تھا" کہنا آدمؑ کا راستہ ہے، جبکہ "میں غلط نہیں تھا، حالات ایسے تھے، تقدیر ایسی تھی، سب یہی کرتے ہیں" کہنا انسان کو ابلیسی مزاج کے قریب لے جاتا ہے۔

تقدیر ایمان ہے، گناہ کا جواز نہیں

تقدیر پر ایمان اہلِ ایمان کے عقیدے کا بنیادی حصہ ہے، لیکن تقدیر کا صحیح مفہوم یہ نہیں کہ انسان اپنے اختیاری اعمال کی ذمہ داری سے آزاد ہوجائے۔

اگر تقدیر کو ہر گناہ کا جواز بنا دیا جائے تو پھر توبہ، شریعت، امر و نہی، جزا و سزا اور اخلاقی ذمہ داری—سب بے معنی ہوجائیں گے۔

کوئی شخص چوری کرے اور کہے "یہ تقدیر میں تھا"، کوئی ظلم کرے اور کہے "اللہ نے چاہا تھا"، کوئی اپنی بداعمالی پر اصرار کرے اور کہے "میری قسمت ہی ایسی تھی"—تو یہ تقدیر پر ایمان نہیں، بلکہ اپنی خواہش اور جرم کو تقدیر کے پردے میں چھپانے کی کوشش ہے۔

تقدیر کا علم اللہ کے پاس ہے؛ انسان کا فریضہ یہ ہے کہ اسے جو اختیار، عقل اور ارادہ دیا گیا ہے، اسے اللہ کی اطاعت میں استعمال کرے۔

ہماری روزمرہ زندگی میں ابلیسی عذر

یہ مضمون صرف ایک تاریخی واقعے کی تشریح نہیں۔ اگر ہم اپنے دلوں کا جائزہ لیں تو شاید ہمیں محسوس ہو کہ ابلیس کا یہ اندازِ استدلال آج بھی مختلف شکلوں میں ہماری زندگی میں موجود ہے۔

غلطی ہوئی تو ہم کہتے ہیں:

"مجبوری تھی۔"

حق بات سامنے آئی تو کہتے ہیں:

"زمانہ ہی ایسا ہے۔"

گناہ کی عادت چھوڑی نہیں تو کہتے ہیں:

"کیا کریں، طبیعت ہی ایسی ہے۔"

کسی کا حق مارا تو کہتے ہیں:

"سب لوگ یہی کرتے ہیں۔"

رشتوں میں ناانصافی کی توجیہ کی، معاملات میں خیانت کی، زبان سے کسی کی عزت مجروح کی، پھر کہا:

"دل سے تو میرا ارادہ برا نہیں تھا۔"

یہ سب وہ راستے ہیں جن سے انسان اپنے ضمیر کو خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

حالانکہ مومن کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنی غلطی کو چھپانے کے بجائے اسے پہچانے، تسلیم کرے، اصلاح کرے اور اللہ کی طرف پلٹ آئے۔

توبہ کمزوری نہیں، زندہ دل ہونے کی علامت ہے

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غلطی تسلیم کرنا اپنی شکست تسلیم کرنا ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

اپنی غلطی تسلیم کرنے کے لیے کردار چاہیے، توبہ کرنے کے لیے ایمان چاہیے اور اپنے نفس کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے حوصلہ چاہیے۔

جو شخص کہتا ہے، "میں غلط تھا"، وہ دراصل اپنی اصلاح کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

جو شخص کہتا ہے، "مجھ سے غلطی ہوئی، میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں"، وہ اپنے ماضی کا قیدی نہیں رہتا۔

اور جو شخص گناہ کے بعد بھی اپنے رب کی طرف پلٹ آتا ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا اور اپنی زندگی بدلنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے لیے ماضی انجام نہیں رہتا؛ بلکہ سبق بن جاتا ہے۔

دوسروں کی غلطیوں سے پہلے اپنے دل کو دیکھیں

اس اقتباس کا ایک اہم اخلاقی پہلو یہ بھی ہے کہ ہمیں دوسروں کے گناہوں پر فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اپنے دل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

ہم دوسروں کی لغزش دیکھ کر فوراً انہیں برا سمجھ لیتے ہیں، لیکن اپنے لیے سو عذر تلاش کرلیتے ہیں۔

دوسروں کی غلطی کو "کردار" کہتے ہیں اور اپنی غلطی کو "مجبوری"۔

دوسروں کے گناہ کو "بداعمالی" کہتے ہیں اور اپنے گناہ کو "حالات کا نتیجہ"۔

یہ دوہرا معیار اصلاح کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

آدمؑ کا راستہ یہ ہے کہ انسان پہلے اپنے نفس کو کٹہرے میں کھڑا کرے۔

میں کہاں غلط تھا؟
مجھ سے کہاں کوتاہی ہوئی؟
مجھے کیا بدلنا ہے؟
اور مجھے اپنے رب سے کس طرح تعلق مضبوط کرنا ہے؟

یہ سوالات انسان کو زندہ رکھتے ہیں۔

اصل کامیابی بےخطائی نہیں، توبہ کے ساتھ زندگی ہے

انسان فرشتہ نہیں۔ اس سے لغزش ہوسکتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ اس لیے کسی گناہ کے بعد یہ سوچ لینا کہ "اب میں بہت دور نکل گیا ہوں، میری واپسی ممکن نہیں" بھی شیطان کا ایک خطرناک دھوکا ہے۔

شیطان پہلے گناہ کی طرف لے جاتا ہے، پھر گناہ کے بعد انسان کو مایوسی میں مبتلا کرتا ہے۔

وہ کہتا ہے:

"اب تم کیسے نیک بن سکتے ہو؟"

"تمہاری اتنی غلطیاں ہیں، اب توبہ کا کیا فائدہ؟"

"تم بار بار گناہ کرتے ہو، توبہ کا کیا مطلب؟"

لیکن مومن جانتا ہے کہ اللہ کی رحمت انسان کے گناہوں سے بڑی ہے۔

شرط یہ ہے کہ توبہ محض زبان کا لفظ نہ ہو، بلکہ دل کا رجوع اور عمل کی اصلاح بھی ہو۔

آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے

آدمؑ اور ابلیس کا یہ تقابل دراصل ہر انسان کے سامنے ایک آئینہ رکھتا ہے۔

ہم سے غلطی ہوئی تو ہم کیا کریں گے؟

کیا ہم اپنی انا کی حفاظت کریں گے یا اپنے ایمان کی؟

کیا ہم عذر تراشیں گے یا اعتراف کریں گے؟

کیا ہم تقدیر کو اپنے گناہ کی ڈھال بنائیں گے یا اپنے نفس کا محاسبہ کریں گے؟

کیا ہم اپنی غلطی پر اصرار کریں گے یا اللہ کے سامنے جھک جائیں گے؟

یہ فیصلہ ہماری زندگی کا رخ متعین کرتا ہے۔

گناہ کے بعد دو دروازے کھلتے ہیں: ایک توبہ کا، دوسرا اصرار کا۔

پہلا دروازہ انسان کو آدمؑ کے راستے کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا اسے ابلیسی مزاج کے قریب کرتا ہے۔

اس لیے جب بھی زندگی میں کوئی لغزش ہو، جب بھی نفس شکست کھائے، جب بھی قدم پھسل جائے، تو مایوس ہوکر بیٹھ جانے کے بجائے فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

اپنی غلطی کو تسلیم کرنا چاہیے۔

معافی مانگنی چاہیے۔

جس کا حق مارا ہو، اسے واپس کرنا چاہیے۔

جس دل کو دکھایا ہو، اس کی تلافی کرنی چاہیے۔

اور پھر دوبارہ اٹھ کر نیکی کی طرف چل پڑنا چاہیے۔

کیونکہ مومن کی پہچان یہ نہیں کہ وہ کبھی نہیں گرتا؛ مومن کی پہچان یہ ہے کہ گرنے کے بعد کس کے سامنے جھکتا ہے۔

آدمؑ نے جھک کر عزت پائی، اور ابلیس نے اکڑ کر ہلاکت کا راستہ اختیار کیا۔

لہٰذا ہر لغزش کے بعد خود سے صرف ایک سوال کیجیے:

"میں آدمؑ کا راستہ اختیار کروں گا یا ابلیس کا؟"

شاید یہی ایک سوال ہماری پوری زندگی بدلنے کے لیے کافی ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی لغزشوں کا اعتراف کرنے، سچی توبہ کرنے، تقدیر کے نام پر گناہ کا جواز نہ بنانے، اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور ہمیشہ اپنی رحمت کی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔