اعزاز قابلیت کا اعتراف ہے، خرید و فروخت کی چیز نہیںحقیقی فنکاروں، مصنفوں اور قلم کاروں کے حق میں ایک اہم سوال - سید فاروق احمد قادری


اعزاز قابلیت کا اعتراف ہے، خرید و فروخت کی چیز نہیں
حقیقی فنکاروں، مصنفوں اور قلم کاروں کے حق میں ایک اہم سوال - 
سید فاروق احمد قادری

اعزاز کسی فنکار، مصنف، شاعر، صحافی، اداکار یا قلم کار کے لیے محض ایک ٹرافی نہیں ہوتا۔ یہ اس کی برسوں کی محنت، صلاحیت، تخلیق اور خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔ کسی مستحق شخص کو ملنے والا اعزاز نہ صرف اس کے حوصلے میں اضافہ کرتا ہے بلکہ اعزاز دینے والے ادارے کے وقار میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
لیکن آج معاشرے میں ایک سوال بار بار سنائی دیتا ہے کہ کیا ہر اعزاز واقعی قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر دیا جاتا ہے؟
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ہر اعزاز کو خرید و فروخت سے جوڑنا درست نہیں اور نہ ہی ہر ادارے پر الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مختلف اوقات میں بعض اعزازات کے بارے میں رقم، سفارش، تعلقات اور انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق سوالات ضرور اٹھتے رہے ہیں۔ بعض اخبارات اور تحقیقاتی رپورٹس میں ایسے واقعات کا بھی ذکر ہوا ہے جہاں رقم کے عوض اعزاز دلانے کی پیشکش کی گئی۔
رشی کپور کا واقعہ
فلمی دنیا کا ایک معروف واقعہ اداکار رشی کپور کی خودنوشت ’’کھلّم کھلّا‘‘ سے سامنے آیا۔ رشی کپور نے اپنی کتاب میں بتایا کہ فلم ’’بوبی‘‘ کی کامیابی کے بعد ایک شخص نے انہیں اعزاز دلانے کے لیے تیس ہزار روپے دینے کی بات کی، اور انہوں نے یہ رقم ادا کردی۔
رشی کپور نے بعد میں یہ بھی بتایا کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ رقم واقعی اعزاز دینے والوں تک پہنچی یا درمیان میں موجود شخص نے انہیں دھوکا دیا۔ انہوں نے اس واقعے پر افسوس بھی ظاہر کیا۔
یہاں مقصد رشی کپور کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ اس واقعے سے پیدا ہونے والے بنیادی سوال کو سامنے رکھنا ہے:
اگر کسی فنکار کو یہ یقین دلایا جا سکتا ہے کہ رقم دے کر اعزاز حاصل کیا جا سکتا ہے تو پھر ان بے شمار فنکاروں، مصنفوں اور قلم کاروں کا کیا ہوگا جو صرف اپنی قابلیت اور محنت کے بھروسے پر زندگی بھر کام کرتے رہتے ہیں؟
خاموش محنت کرنے والوں کا حق
ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار مصنف، شاعر، صحافی، قلم کار، اداکار اور فنکار موجود ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنے شعبے کی خدمت میں گزار دی۔ کسی نے درجنوں کتابیں لکھیں، کسی نے سینکڑوں مضامین تحریر کیے، کسی نے اپنی آواز سے نسلوں کو متاثر کیا، کسی نے اداکاری کے ذریعے کرداروں کو امر کردیا اور کسی نے معاشرے کے مسائل کو اپنے فن کے ذریعے لوگوں تک پہنچایا۔
مگر ان میں سے بہت سے لوگ بڑے اعزازات سے محروم رہ جاتے ہیں۔
یہ محرومی اس وقت زیادہ تکلیف دہ بن جاتی ہے جب کسی حقیقی حقدار کو یہ محسوس ہو کہ اس کی قابلیت کے بجائے کسی اور چیز کو زیادہ اہمیت دی گئی۔
محمد رفیع کی مثال
ہندوستانی فلمی دنیا میں محمد رفیع کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے اپنی آواز کے ذریعے ہندوستانی موسیقی کو ایسی بلندی دی جسے کئی نسلیں آج بھی یاد کرتی ہیں۔
حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری سے نوازا اور انہیں قومی فلم اعزاز بھی ملا، لیکن بھارت رتن آج تک انہیں نہیں ملا۔ ان کے لیے بھارت رتن دینے کا مطالبہ مختلف اوقات میں سامنے آتا رہا ہے۔
محمد رفیع کی عظمت کسی ایک اعزاز کی محتاج نہیں۔ ان کی اصل پہچان ان کا فن اور وہ آواز ہے جو آج بھی کروڑوں دلوں میں زندہ ہے۔
یہی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کسی فنکار کی عظمت کا پیمانہ صرف اس کے اعزازات کی تعداد نہیں بلکہ اس کا وہ کام بھی ہے جو وقت گزرنے کے باوجود زندہ رہتا ہے۔
گنگا جمنا سے لگان تک
ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں ’’گنگا جمنا‘‘ جیسی فلمیں آج بھی یاد کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ’’لگان‘‘ نے ہندوستانی سنیما کو عالمی سطح پر نمایاں کیا اور غیر ملکی زبان کی فلم کے طور پر آسکر کی نامزدگی حاصل کی۔
غربت اور سماجی حالات کے پس منظر میں بننے والی ’’سلم ڈاگ ملینیئر‘‘ نے بھی عالمی سطح پر بڑی کامیابی حاصل کی اور اے۔ آر۔ رحمان کی موسیقی نے ہندوستانی صلاحیت کو دنیا بھر میں نمایاں کیا۔
ان مثالوں کا مقصد کسی ایک فنکار یا فلم کو دوسرے سے بڑا ثابت کرنا نہیں، بلکہ یہ یاد دلانا ہے کہ حقیقی فن وقت گزرنے کے بعد بھی اپنی شناخت برقرار رکھتا ہے۔
سوال اعزاز کا نہیں، معیار کا ہے
ہمیں اعزازات کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس ہمیں ایسے اعزازات کی ضرورت ہے جو حقیقی صلاحیت رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انتخاب کا طریقۂ کار واضح اور شفاف ہو، نامزدگی کے اصول سامنے ہوں، فیصلہ کرنے والوں کا انتخاب غیر جانب دارانہ ہو اور عوام کو یہ اعتماد حاصل ہو کہ فیصلہ حقیقی کام، قابلیت اور خدمات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اگر کسی اعزاز کے ساتھ یہ سوال پیدا ہوجائے کہ ’’یہ کس بنیاد پر دیا گیا؟‘‘ تو اس سوال کا جواب خود اعزاز سے زیادہ اہم ہوجاتا ہے۔
کیونکہ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو برسوں خاموشی سے قلم چلاتے ہیں، کتابیں لکھتے ہیں، فن کی خدمت کرتے ہیں اور معاشرے کے لیے اپنا وقت صرف کرتے ہیں؛ دوسری طرف اگر انہیں مسلسل نظرانداز کیا جائے تو نئی نسل کے سامنے بھی یہ سوال کھڑا ہوگا کہ آخر محنت اور قابلیت کی قدر کہاں ہے؟
اس لیے اعزاز دینے والے تمام اداروں سے ایک مثبت توقع ہونی چاہیے:
قابلیت کو ترجیح دی جائے، شفافیت کو مضبوط کیا جائے اور حقیقی حقدار کو اس کا حق دیا جائے۔
یہ مضمون کسی فرد، خاندان یا مخصوص ادارے کے خلاف نہیں۔ یہ صرف ایک اصولی سوال ہے جو پورے معاشرے کے سامنے رکھا جا رہا ہے:
کیا ہمارے اعزاز حقیقی قابلیت، محنت اور خدمات کا اعتراف بن رہے ہیں؟
اگر کہیں نظام میں خامی ہے تو اس کی نشاندہی کسی کی مخالفت نہیں بلکہ اصلاح کی کوشش ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا کافی ہے:
اعزاز فنکار کو بڑا نہیں بناتا، فنکار اپنے فن سے اعزاز کو بڑا بناتا ہے۔
اس لیے اعزاز کی اصل قیمت اس کی ٹرافی، رقم یا تقریب کی چمک میں نہیں، بلکہ اس اہلیت اور میرٹ میں ہے جس کی بنیاد پر وہ کسی کو دیا گیا ہو۔
حقیقی فنکاروں، قلم کاروں اور مصنفوں کی قدر کیجیے، خاموش محنت کرنے والوں کو پہچانیے اور اعزاز کے وقار کو ہمیشہ قابلیت، شفافیت اور انصاف سے وابستہ رکھیے۔
کیونکہ جب اعزاز معتبر ہوتا ہے تو صرف ایک فنکار نہیں، پورا فن معتبر ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔