میرے فرمانبردار بیٹے واسق الاسلام قادری کی یاد میں - ایک سال گزر گیا، مگر واسق کی یاد آج بھی دل میں زندہ ہے - سید فاروق احمد قادری۔
میرے فرمانبردار بیٹے واسق الاسلام قادری کی یاد میں -
ایک سال گزر گیا، مگر واسق کی یاد آج بھی دل میں زندہ ہے -
سید فاروق احمد قادری۔
زندگی میں بعض صدمے ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان چاہ کر بھی بھلا نہیں سکتا۔ میرے لیے گزشتہ چند برسوں میں دو ایسے بڑے حادثے ہوئے جنہوں نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔
پہلا صدمہ 17 فروری 2021ء کو میری شریکِ حیات اور میرے بچوں کی والدہ کے انتقال کا تھا۔ وہ 52 سال تک میرے ساتھ زندگی کے نشیب و فراز میں شریک رہیں۔ بیماری کے دنوں میں میرے سب سے چھوٹے بیٹے سید واسق الاسلام قادری نے اپنی والدہ کی بہت خدمت کی۔ وہ ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتا، ان کے ساتھ رہتا اور اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن خدمت انجام دیتا تھا۔ اس کی ماں سے محبت اور فرمانبرداری آج بھی میرے دل میں ایک روشن یاد ہے۔
ابھی اس صدمے سے دل پوری طرح سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ 24 ستمبر 2025ء کو میرا پیارا بیٹا واسق الاسلام بھی اپنے حقیقی مالک سے جا ملا۔
یوں ایک باپ نے پہلے اپنی شریکِ حیات اور پھر اپنے فرمانبردار بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت کیا۔
پانچ بیٹوں میں سب سے چھوٹا
میرے پانچ بیٹوں میں واسق الاسلام سب سے چھوٹا تھا۔ وہ انتہائی فرمانبردار، ذہین، محنتی اور ہونہار تھا۔ اس نے اپنی زندگی بڑی محنت اور لگن سے بنائی۔ اپنی محنت سے اس نے دو منزلہ مکان بھی تعمیر کیا۔
مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ گھر کی دوسری منزل کی سیڑھیوں سے پاؤں پھسلنے کے باعث وہ سر کے بل گر پڑا اور شدید چوٹ کے نتیجے میں ہمیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا۔
ایک باپ کے لیے اپنے بیٹے کی اچانک جدائی کا صدمہ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔
الہدیٰ پرائمری اسکول کا محبوب استاد
واسق الاسلام الہدیٰ پرائمری اسکول، شہنشاہ نگر میں استاد تھا۔ وہ اپنے طلبہ اور ساتھی اساتذہ میں محبت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
آج ایک سال گزر جانے کے باوجود اسکول کے اساتذہ اور طلبہ اسے یاد کرتے ہیں۔ کبھی کوئی طالب علم راستے میں مل جاتا ہے، کبھی رکشے میں بیٹھا کوئی طالب علم اس کا ذکر کر دیتا ہے، تو اچانک واسق کی یاد تازہ ہوجاتی ہے اور دل بھر آتا ہے۔
یہ اس بات کی گواہی ہے کہ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کے اچھے اخلاق اور محبت لوگوں کے دلوں میں باقی رہتے ہیں۔
علم کا غیر معمولی شوق
واسق الاسلام کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔ خاص طور پر دینی کتابوں کے مطالعے سے اسے بے حد دلچسپی تھی۔ اس کے پاس قرآن، حدیث، تفسیر اور مختلف دینی موضوعات پر بہت سی کتابیں موجود تھیں۔
اس کے ذاتی ذخیرۂ کتب میں صحیح بخاری، جامع ترمذی اور دیگر کتبِ حدیث شامل تھیں۔ قرآنِ کریم کی تفاسیر میں مختلف علماء کی کتابیں بھی اس کے مطالعے کا حصہ تھیں۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تفہیم القرآن اور مولانا ابوالکلام آزادؒ کی ترجمان القرآن بھی اس کے پاس تھیں۔
اس کے مطالعے میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ علماء اور مفکرین کی کتابیں بھی شامل تھیں۔ وہ مختلف مکاتبِ فکر کے اہلِ علم کی کتابیں پڑھتا، ان سے استفادہ کرتا اور دینی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کا مطالعہ کسی ایک شخصیت یا ایک مکتبِ فکر تک محدود نہیں تھا۔
اسے انگریزی، مراٹھی، اردو اور خصوصاً عربی زبان پر خاص مہارت حاصل تھی۔ قرآنِ کریم کی بہت سی آیات اور احادیث اسے زبانی یاد تھیں اور وہ ان کا ترجمہ بھی روانی کے ساتھ بیان کر دیتا تھا۔
میرے لیے بیٹا ہی نہیں، علمی ساتھی بھی تھا
میرے اور واسق کے درمیان ایک خاص تعلق یہ بھی تھا کہ جب میں اپنے مضامین لکھتا تھا، خصوصاً سیاست اور معاشرتی مسائل پر، تو وہ انہیں ضرور پڑھتا تھا۔
اسے سیاسی معاملات کی بھی اچھی سمجھ تھی۔ میرے مضمون میں اگر اسے کوئی غلطی یا کمزوری نظر آتی تو فوراً کہتا:
"پاپا، یہاں ایسا نہیں، ایسا لکھنا چاہیے۔"
وہ میری تحریر کی غلطیاں نکالتا، جملوں کی اصلاح کرتا اور اپنی رائے بھی دیتا تھا۔ مجھے خوشی ہوتی تھی کہ میرا بیٹا صرف میرا بیٹا نہیں بلکہ میرے قلم کے سفر میں میرا علمی ساتھی اور مخلص اصلاح کرنے والا بھی تھا۔
آج جب میں کوئی مضمون لکھنے بیٹھتا ہوں تو کبھی کبھی بے اختیار خیال آتا ہے اس کا معصوم چہرہ میری نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے
"اگر واسق آج ہوتا تو شاید میری تحریر پڑھ کر کہتا—پاپا، یہاں یہ بات اس طرح نہیں، اس طرح لکھیں۔"
یہ خیال دل کو مسرور بھی کرتا ہے کہ میرا بیٹا علم سے اتنا قریب تھا، اور اسی وقت اس کی کمی کا احساس دل کو مزید اداس کر دیتا ہے۔
ایک سال بعد بھی یادیں زندہ ہیں
واسق الاسلام کی زندگی مختصر تھی، مگر اس نے اپنے پیچھے فرمانبرداری، علم، محنت، اچھے اخلاق، تدریس اور محبت کی ایسی یادیں چھوڑی ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتیں۔
وہ اپنی والدہ کا خدمت گزار بیٹا تھا، اپنے والد کا فرمانبردار فرزند تھا، اپنے طلبہ کا استاد تھا اور اپنے والد کے قلم کا ایک مخلص ناقد بھی تھا۔
آج اسے ہم سے جدا ہوئے ایک سال ہوگیا ہے، مگر میرے لیے وہ آج بھی میری یادوں میں زندہ ہے۔ اس کے شاگردوں کی باتوں میں، اس کے ساتھی اساتذہ کی یادوں میں، اس کی کتابوں میں اور میرے لکھے ہوئے ان مضامین میں جنہیں پڑھ کر وہ کبھی میری اصلاح کیا کرتا تھا۔
ماں بھی چلی گئی، بیٹا بھی چلا گیا،
مگر دونوں کی یادیں آج بھی میرے دل میں زندہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ میرے پیارے بیٹے سید واسق الاسلام قادری کی کامل مغفرت فرمائے، اس کی قبر کو نور سے بھر دے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اس کے علم، تدریس اور نیک اعمال کو اس کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
اللہ تعالیٰ اس کی والدہ اور ہمارے تمام مرحومین کی بھی مغفرت فرمائے اور ہمیں صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment