آج چاند کے نیچے ستارہ دیکھا - تحریر : ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،انجمن ڈگری کالج دھارواڑ،کرناٹک۔
آج چاند کے نیچے ستارہ دیکھا -
تحریر : ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،
انجمن ڈگری کالج دھارواڑ،کرناٹک۔
آج بادلوں سے جھانکتے ہوئے چاند کے نیچے ایک ستارہ نظر آیا تو بے اختیار دل نے کہا: سبحان اللہ! ماشاءاللہ! یہ بھی تو خدا کی قدرت ہے۔
بچپن میں ہم پہلے ستارہ تلاش کیا کرتے تھے، پھر اسی کے قریب کہیں چاند دکھائی دیتا تھا۔ والد بھی مسکرا کر کہا کرتے تھے، “چاند دیکھنا ہو تو پہلے ستارہ ڈھونڈو، پھر اس کے قریب چاند ہوگا۔” ان کی یہ بات اس وقت ایک سادہ سی بات لگتی تھی، مگر آج برسوں بعد چاند کے نیچے ستارہ دیکھا تو وہی جملہ اچانک ایک گہری یاد بن کر دل میں اتر گیا۔
آسمان تو وہی ہے، چاند بھی وہی ہے، ستارے بھی وہی ہیں؛ مگر دیکھنے والی آنکھ بدل گئی ہے۔ کبھی ہم آسمان کو حیرت سے دیکھا کرتے تھے، آج اسی آسمان کو دیکھتے ہیں تو اس میں گزرے ہوئے لوگ، بچپن کی باتیں اور اپنی زندگی کے کئی سوال دکھائی دیتے ہیں۔
آج چاند کے نیچے ستارہ دیکھ کر دل میں ایک عجیب سا سوال اٹھا—کیا واقعی ترتیب بدلی ہے، یا ہماری نگاہ کا زاویہ بدل گیا ہے؟
شاید کائنات ہمیں ہمیشہ جواب نہیں دیتی؛ کبھی کبھی وہ صرف اتنا کرتی ہے کہ ہمیں اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
آج کا یہ چاند اور ستارہ میرے لیے صرف آسمان کا ایک خوبصورت منظر نہیں، بلکہ والد کی ایک یاد، خدا کی قدرت اور زندگی کا ایک خاموش سوال بن گیا ہے۔
سبحان اللہ… آسمان کبھی کبھی خاموش رہ کر بھی بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment