افسانچہ - بدلتے رنگ - ازقلم : ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،صدر شعبہ اردو،انجمن ڈگری کالج دھارواڑ کرناٹک۔


افسانچہ - بدلتے رنگ - 
ازقلم : ڈاکٹر بی بی عائشہ چکولی،صدر شعبہ اردو،انجمن ڈگری کالج دھارواڑ کرناٹک۔

ہر شام کی طرح میں پارک میں چہل قدمی کے لیے نکلی مگر آج میرے ساتھ صدف بھی تھی۔ چھ مہینے بعد ہم دونوں پہلی بار یوں اکٹھے چلے تھے۔ پہلے جب بھی وہ میرے ساتھ چلتی اس کے لبوں پر کالج کی باتیں ہوتیں،دوستوں کی شرارتیں،ہم جماعتوں کے دلچسپ قصے، سیمینارز کی تیاریاں اور امتحانات کی پریشانیاں۔ میں اسے سنتی، ہنستی، اور اس کی بے فکری پر رشک کرتی۔
مگر آج کی شام مختلف تھی۔ وہی راستہ، وہی پارک، وہی درخت مگر گفتگو کا رنگ بدل چکا تھا۔ آج اس کے ہونٹوں سے کالج کے خوشنما قصے نہیں نکل رہے تھے بلکہ سسرال کی تلخ حقیقتیں ظاہرہو رہی تھیں۔ کبھی شوہر کی بے توجہی کا گلہ کرتی تو کبھی ساس کی تلخ باتوں کا شکوہ۔
میں نے پارک کے اس پرانے بنچ کی طرف دیکھا جہاں کبھی ہم بیٹھ کر آسمان میں اڑتے پرندوں کو دیکھا کرتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ زندگی کے رنگ بھی موسموں کی طرح بدلتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہ لمحے خوشبوؤں سے بھرے ہوتے تھے مگر آج ان میں اداسی کی ہلکی سی دھند چھا گئی تھی۔
"زندگی عجیب ہے نا ؟" وہ کسی سوچ میں گم بولی، "پہلے لگتا تھا کہ شادی ایک نئی کہانی کا آغاز ہوگی مگر یہ تو........... پتہ نہیں۔۔ شاید ایک نیا امتحان ہے۔"
میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور دھیرے سے مسکرا دی۔ "زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر بدلتا رنگ ہمیشہ دھندلا نہیں ہوتا۔ وقت کے ساتھ شاید یہ تلخیاں بھی کسی خوبصورت رنگ میں ڈھل جائیں۔"
وہ چپ چاپ مجھے دیکھتی رہی شاید اس امید کے ساتھ کہ کسی دن کسی شام وہ پھر اسی پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے اپنی زندگی کے خوشنما قصے سنائے گی.....

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔