امیرِ شریعت، شیخ الحدیث، حضرت مولانا مفتی محمد اشرف علی باقویؒ — ایک عہد کا اختتام - جمیل احمد ملنسار - بنگلور
امیرِ شریعت، شیخ الحدیث، حضرت مولانا مفتی محمد اشرف علی باقویؒ — ایک عہد کا اختتام -
جمیل احمد ملنسار - بنگلور
9845498354
آج، آٹھ برس بعد، جب 8 ستمبر 2017ء کے اُس غم انگیز دن کو یاد کرتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بنگلور کی علمی و دینی فضا سے ایک چراغ ضرور اوجھل ہوا تھا، مگر اس کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوئی۔
حضرت مفتی محمد اشرف علی باقویؒ محض ایک عالمِ دین، شیخ الحدیث یا امیرِ شریعت نہیں تھے؛ وہ ایک ادارہ، ایک روایت اور ایک عہد کا نام تھے۔ حضرت کی زندگی علم و عمل، تقویٰ و بصیرت اور دینی حمیت و ملی درد کا ایسا امتزاج تھی جس نے نہ جانے کتنے دلوں کو روشنی بخشی اور کتنے تشنہ ذہنوں کو علم کی دولت سے سیراب کیا۔
چراغِ علم کی یہی تو خوبی ہے کہ جسم رخصت ہو جاتا ہے، مگر روشنی باقی رہتی ہے۔
آج بھی ان کے شاگردوں، تلامذہ اور ان سے فیض یافتہ علماء کی صورت میں ان کی علمی میراث منبر و محراب، درس و تدریس اور دعوت و اصلاح کے میدانوں میں سانس لے رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ حضرت کا وصال اختتام نہیں، بلکہ ان کے فیض کے ایک نئے سفر کا آغاز تھا۔
اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجاتِ عالیہ بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور ان کے علم و فیض کے چشمے کو قیامت تک جاری و ساری رکھے۔
آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment