سخن ورو ں کے بھی سر جھکے - محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکل کواں


سخن ورو ں کے بھی سر جھکے - 
محمد ناظم ملی تونڈاپوری جامعہ اکل کواں

سخن وروں کے بھی سر جھکے 
تیرے اگے کس کی نظر اٹھے 
تیرا لفظ لفظ۔ ہے اگہی 
تیرے سامنے ہیں زبانیں گنگ 
تیری حکمتیں ہیں عظیم تر 
جو مسرتوں کی امین ہیں 
تیری بات بات میں رس ملا 
تیری بات ہے سچ کا ائینہ 
تو سخن وروں کا امام ہے توسخن وروں کا امام ہے

یہ نعتیہ اشعار کس کے ہیں میرے علم میں نہیں۔تاہم یہ کلمات عظیمہ جو حضور صاحب کوثر تاجدار ختم نبوت کی شان اعلی و بالا اور تقدس کی ایک ادنی سی جھلک ہے ورنہ حضور مدنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سراپا اس سے بہت بلند ہے نہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی تصویر کا عکس پیش کیا جا سکتا ہے نا ہی اج تک کسی نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے کسی ایک گوشے کو بھی مکمل پیش کیا۔ ع
ہے سرکار دو عالم کی ثنا اب بھی ادھوری 
صدیوں سے ادیبوں کے قلم ٹوٹ رہے ہیں 
قلم کاروں نے لکھااور خوب لکھا سخن وروں نے کہا اور خوب کہا قلم کو جنبشیں دیں لبوں کو حرکتیں دیں اور نبی کی فراست فطانت فقاہت بلاغت امانت دیانت سخاوت ریاضت شجاعت امامت خطابت اور نبی کی عدالت صداقت شرافت ان کے اعمال و اقوال افعال و کردار نبی کی گفتار اور نبی کے انداز تخاطب کی تجلیات و تفردات زیر قرطاس کرتے رہے تاہم اخر میں یہی کہہ گئے۔ ع
ورق تمام ہوئے اور مدح ابھی باقی ہے 
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے
کسی مداح رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا حضور صاحب قاب قوسین سب سے اعلی و بالا سب سے احسن و اجمل سب سے اعقل و ابلغ اور سب سے زیادہ فصیح اللسان تھے جس طرح اپ کا کلام شستہ صاف ستھرا اور رس بھرا ہوتا تھا بعینہ ٹھیک اسی طرح اپ کا کردار اپ کی گفتار سے مکمل ہم اہنگ ہوتا تھا کبھی کسی نے اپ کے کردار و گفتار میں تضاد اور تفاوت اور غیر ہم اہنگی نہیں محسوس کی 
یہ بات ذہن نشین رہے انسانی طرز تکلم اور اس کا طرز گفتگو اس کی ذات اور اس کے کردار و مزاج کا ائینہ دار ہوتا ہے متکلم کے خلق کا ترجمان ہوتا ہے انسانی طرز تکلم سامع پر بہتر یا ابتر تاثرات قائم کرتا ہے طرز تکلم اور انداز گویائی انسان کی شرافت نجابت حذاقت اور مقام و مرتبے اور اس کے لیاقت و صلاحیت اور اس کی ایبلٹی کو ایبلٹی پوری طرح واضح کرتا ہے موضوع اور لفظوں کا انتخاب جملوں اور فقروں کی ساخت اور اس کا جمال اواز کا زیر و بم لہجے کا اسلوب یہ وہ ہیرے اور جواہرات ہیں جو واضح کر دیتے ہیں کہ متکلم کس تاؤ بھاؤ اور کس مقام و مرتبے کا ادمی اور قابل قدر شخصیت ہے تقریبا ایک ہزار سال پہلے کی ایک بہت مشہور و معروف ایک عظیم فہم و زکاوت کی اعلی میں یار علم و عمل تقوی وہ طہارت کی مالک شخصیت جن کے خانے علوم و معرفت سے دنیا اج تک سیراب ہو رہی ہیں گلستاں بوستا اور کریمہ جیسی ایسی بہت سی فنی کتابوں کے مصنف جن کی کتابوں میں درد کا درماں اور زخم کا مرہم ہیں جو قدیم زمانے سے اج تک پڑھنے والے محسوس کر رہے ہیں علمی دنیا میں شیخ سعدی شیرازی رحمت اللہ علیہ کے نام سے جانے جاتے ہیں انہوں نے کہا ہے 
تا مرد سخن نہ گفتہ باشد 
عیب و ہنر ش نہفتہ باشد 

خیر میں نے گفتگو کا اغاز کیا تھا اقائے مدنی سرور سروراں تاجدار ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز گفتگو سے درمیان میں اقا کے ہی ایک غلام کی بات اگئی۔ تو یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم جوامع الکلم تھے. ( اوتيت جوامع الكلم ), یعنی حضور صاحب کوثر صلی اللہ علیہ وسلم زبان مبارک سے الفاظ کے جو موتی رولتے تھے وہ بڑے ہی مختصر مہجبیں اور دل نشین ہوا کرتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس میں علوم و معارف اور اسرار و حکم کا ایک دریا موجزن ہوتا گویا حضرت مدنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام دریابکوزہ کا صحیح مصداق تھا 
پھر نبی امی کا کمال دیکھئے کہ ہر قبیلے کی زبان میں اپ ان سے کلام فرماتے یقینا ہر قبیلے سے اس کی اپنی زبان میں کلام اور گفتگو کرنا شہریوں اور بدوؤں کی شستگی ان کی شائستگی اور شگفتگی میں بیان و کلام کرنا یہ مخصوص عطیہ خداوندی تھا کہ اپ کی ذات اقدس ہی خاصہ خاصان خدا تھی قران کریم نے اپ کی جس طرح وضاحت کی منقبت اور ثنا و توصیف بیان فرمای ہے وہ سطور بالا میں کہی گئی باتوں کی شاہد عدل ہیں قران مجیدکا انداز تخاطب تو دیکھیے اور کیوں نہ ہو کہ كلام الملوك ملوك الكلام۔ ہوتا ہے قران مجید کہتا ہے 
يا ايها النبي انا ارسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا وداعيا الى الله باذنه سراجا منيرا 
کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم تو شاہد بھی تھے مبشر بھی تھےنذیراور داعی بھی تھے اور اپ کی ذات سراپا روشن چراغ بھی تھی اب اپ اندازہ کیجئے اس شان کے اور اس صفات کے حامل انسان کے لیے زبان کا دھنی ہونا فصیح اور بلیغ ہونا کہ ہر ایک تک اس کی بات اسانی سے اسی کی زبان میں کرسکیں اور سمجھا سکیں کتنا ضروری اور لابدی تھا چنانچہ حکیمانہ و معجزانہ طور پر رب ذوالجلال نے اپنے عظیم پیغمبر کو زبان کے ہر طرح کے حسن کا شعور مقدر فرما دیا تھا زبان کی سلاست اور باریکیوں اور نطق و تکلم کے جملہ رموز سے اشنا کر دیا تھا یہی وجہ تھی کہ اپ گوہ جیسے رینگنے والے جانور کی بات بھی سمجھ رہے تھے ابو جہل کے ہاتھوں کی کنکریوں کی تب و تاب اور ان کی سچائی کا اظہار بھی اپ سمجھ رہے تھے کئی مرتبہ اونٹوں سے اپ کا تکلم ثابت ہے ہرن سے ثابت ہے پرندوں چرندوں سے تک ثابت ہے چہ جائے کہ قبائل عرب سے۔ جاری

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔