بزمِ ابر سنبھل اور بزمِ شعر و سخن کے زیرِ اہتمام پانچواں طرحی مشاعرہ منعقد


بلاری کے محلہ ٹھاکران میں واقع ڈاکٹر نفیس احمد نفیس کے دولت کدے پر بزمِ ابر سنبھل اور بزمِ شعر و سخن بلاری کے زیرِ اہتمام پانچواں طرحی مشاعرہ نہایت ادبی و شعری ماحول میں منعقد ہوا۔ مشاعرے کی صدارت و دیگر تفصیلات کے ساتھ شعراء نے اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرے میں سنبھل اور بلاری کے علاوہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شعراء نے شرکت کی اور مقررہ مصرعِ طرح پر اپنے اپنے اشعار پیش کیے۔
اس موقع پر طرحی مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ہم تو مر مر کے بھی جی لیں گے ہمارا کیا ہے" مقرر کیا گیا تھا۔ شعراء نے اسی مصرعِ طرح کو بنیاد بنا کر مختلف رنگ و آہنگ میں غزلیں پیش کیں۔ کسی شاعر نے زندگی کی تلخیوں اور مشکلات کو موضوع بنایا تو کسی نے عشق، انسانی جذبات، معاشرتی حالات اور بدلتے ہوئے زمانے کے حوالے سے اپنے احساسات کا اظہار کیا۔ شعراء کے کلام پر سامعین نے داد و تحسین سے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
مشاعرے میں سنبھل کے کہنہ مشق اور سینئر استاد شاعر سید حسین افسر نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی نوجوان شاعر نظام نوشاہی نے نظامت کا فریضہ ادا کیا 
ان کی موجودگی نے مشاعرے کی ادبی اہمیت میں اضافہ کیا۔ انہوں نے شعراء کے کلام کو سنا اور اپنی گفتگو کے دوران طرحی مشاعروں کی ادبی روایت، شعری تربیت اور زبان و بیان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
پروگرام کا آغاز نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے کیا گیا۔ نعتِ پاک کے بعد باقاعدہ شعری نشست کا آغاز ہوا۔ شعراء نے یکے بعد دیگرے اپنا کلام پیش کیا اور محفل میں شعر و سخن کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ مشاعرے کے دوران سامعین نے اچھے اشعار پر بھرپور داد دی، جس سے شعری محفل میں خوبصورت اور پرجوش ماحول قائم رہا۔
واضح رہے کہ بزمِ ابر کی جانب سے سلسلہ وار طرحی مشاعروں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ تنظیم کے اس ادبی سلسلے کے تحت مجموعی طور پر بارہ طرحی مشاعرے منعقد کیے جانے کا منصوبہ ہے۔ ان تمام مشاعروں میں پیش کیے جانے والے منتخب کلام کو بعد ازاں یکجا کرکے ایک کتاب کی صورت میں مرتب کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جس کے ذریعے ان مشاعروں کی ادبی سرگرمیوں اور شعراء کے کلام کو محفوظ کیا جائے گا۔
مشاعرے میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان میں نظام نوشاہی، نازک سنبھلی، ڈاکٹر منور تابش، عبدالقدوس، علی جمال، گوہر بلاروی، شکیل صابری، ڈاکٹر نفیس بلاروی، عتیق منظر، راشد راحت، ڈاکٹر ناظم کندرکوی، حکیم عبدالماجد، رئیس احمد رئیس اور ضمیر سالکی ادیبی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
شرکائے مشاعرہ نے بزمِ ابر اور بزمِ شعر و سخن کی جانب سے طرحی مشاعروں کے اس سلسلے کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک اہم ادبی سرگرمی قرار دیتے ہوئے منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔ محفل میں موجود شعراء اور سامعین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادبی و شعری محافل کا یہ سلسلہ آئندہ بھی اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہیے تاکہ نئی نسل کو اردو شعر و ادب سے جوڑا جا سکے اور مقامی سطح پر ادبی سرگرمیوں کو مزید فروغ حاصل ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔