اقبال فہمی - (قسمت پانزدهم) - ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔


اقبال فہمی - 
(قسمت پانزدهم) - 
ازقلم : ابرارالحق مظہرؔ حسناتی۔

عہد طفلی کے اختتام کے بعد اقبال کی فکر اب ایک ایسے مقام پر داخل ہوتی ہے جہاں وہ اپنے شعری پیش روؤں میں سے ایک ایسی شخصیت کو سامنے لاتے ہیں جس نے اردو شاعری کو محض الفاظ کی صنعت نہیں رہنے دیا بلکہ انسانی فکر کے پیچیدہ ترین سوالات کو شعر کا موضوع بنایا۔ یہ شخصیت مرزا اسد اللہ خاں غالب ہیں۔ اقبال کے نزدیک غالب کی اہمیت صرف یہ نہیں کہ وہ بڑے شاعر تھے بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ ان کے ہاں انسانی فکر نے ایک ایسی وسعت حاصل کی جس میں سوال بھی ہے حیرت بھی ہے خود آگہی بھی ہے اور کائنات کے اسرار تک پہنچنے کی ایک مسلسل بے قراری بھی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال غالب کو اپنے فکری سلسلے میں دیکھتے ہیں۔ اقبال غالب کے الفاظ کی محض تعریف نہیں کرتے بلکہ ان کی شاعرانہ شخصیت کے اندر چھپی ہوئی اس فکری قوت کو دریافت کرتے ہیں جس نے انسانی تخیل کے لیے نئے افق کھول دیے۔

فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغِ تخیل کی رسائی تا کجا

غالب کی ہستی نے انسانی فکر کے سامنے یہ حقیقت روشن کردی کہ انسانی تخیل کی پرواز کی کوئی معمولی اور محدود حد نہیں۔ اقبال یہاں غالب کی شاعری کے کسی ایک شعر یا ایک خیال کی تعریف نہیں کررہے بلکہ غالب کی پوری فکری شخصیت کو سامنے رکھ کر بات کرتے ہیں۔ غالب کا امتیاز یہی ہے کہ وہ کسی معلوم حقیقت کو صرف قبول کرکے آگے نہیں بڑھ جاتے بلکہ اس کے اندر سے ایک نیا سوال پیدا کرتے ہیں۔ ان کے ہاں کائنات محض ایک سامنے رکھی ہوئی حقیقت نہیں بلکہ ایک ایسا معمّا ہے جس کے اندر انسان کی عقل بار بار داخل ہونا چاہتی ہے۔
مرغ تخیل کی ترکیب اسی لیے اس شعر کی جان ہے۔ اقبال انسانی تخیل کو ایک ایسے پرندے سے تشبیہ دیتے ہیں جو پرواز کرتا ہے اور اپنے سامنے پھیلی ہوئی حدود سے آگے نکل جاتا ہے۔ غالب کی شاعری میں یہی پرواز نمایاں ہے۔ وہ ایک معمولی سے واقعے کو دیکھتے ہیں تو اس کے اندر ایک وسیع فکری سوال پیدا ہوجاتا ہے۔ وہ عشق کو بیان کرتے ہیں تو صرف عاشق و معشوق کے تعلق تک محدود نہیں رہتے۔ وہ زندگی کی بات کرتے ہیں تو وجود کے مسئلے تک پہنچ جاتے ہیں۔ وہ کائنات کو دیکھتے ہیں تو انسان کے مقام پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کو صرف غزل کا شاعر سمجھنا ان کی فکری وسعت کو محدود کردینا ہے۔
اقبال کے اپنے فکری منہج میں بھی یہی بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ انسان کو اپنے ذہن کی مقررہ حدود کا اسیر نہیں ہونا چاہیے۔ خودی کا شعور انسان کو جمود سے نکالتا ہے اور اسے حرکت فکر اور تلاش کی طرف لے جاتا ہے۔ اس اعتبار سے غالب اقبال کے لیے ایک ایسی مثال بن جاتے ہیں جس میں شاعری اور فکر ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ غالب کا تخیل محض خیال آفرینی نہیں بلکہ انسانی شعور کی وسعت کا مظہر ہے اور اقبال اسی وسعت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ تیری ہستی سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی تخیل کی رسائی کہاں تک ہوسکتی ہے۔
یہاں اقبال کا غالب فہمی کا زاویہ سامنے آتا ہے۔ وہ غالب کو صرف اس لیے اہم نہیں سمجھتے کہ ان کے اشعار مشکل ہیں یا ان میں نادر تشبیہیں اور پیچیدہ خیالات ملتے ہیں بلکہ وہ اس ذہنی قوت کو دیکھتے ہیں جو ان پیچیدگیوں کے پیچھے کارفرما ہے۔ اقبال کے نزدیک بڑا شاعر وہ ہے جو انسان کے اندر سوئی ہوئی فکر کو جگا دے اور غالب کی شاعری میں یہی بیداری موجود ہے۔ وہ قاری کو تیار شدہ جواب نہیں دیتے بلکہ اسے سوال کے سامنے کھڑا کردیتے ہیں اور سوال کے سامنے کھڑا انسان ہی آگے بڑھ کر حقیقت کی تلاش کرتا ہے۔

تھا سراپا روح تو بزمِ سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا

اب اقبال غالب کی شاعری کی ایک دوسری خصوصیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ غالب کی شخصیت اور شاعری میں ایک ایسا باطنی جوہر ہے جسے صرف الفاظ کے ظاہری حسن سے نہیں پکڑا جاسکتا۔ اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ تو سراپا روح تھا مگر بزم سخن میں تیرا پیکر موجود تھا۔ یعنی غالب کا ظاہر شعر ہے مگر اس شعر کے اندر جو اصل حقیقت سانس لے رہی ہے وہ روح ہے۔
یہاں پیکر اور روح کا تقابل غالب کی شاعری کو سمجھنے کی ایک بنیادی کنجی ہے۔ شعر کا پیکر لفظوں میں ظاہر ہوتا ہے مگر شعر کی روح اس احساس اور فکر میں ہوتی ہے جو ان لفظوں کے پیچھے کام کررہی ہوتی ہے۔ غالب کے اشعار کو اگر صرف مشکل الفاظ اور نادر ترکیبوں کے مجموعے کے طور پر پڑھا جائے تو غالب کا اصل مقام سامنے نہیں آسکتا۔ ان کے الفاظ کے پیچھے ایک ایسا ذہن ہے جو وجود انسان عشق عقل تقدیر اور کائنات کے سوالات سے مسلسل برسر گفتگو ہے۔
اسی لیے اقبال کہتے ہیں کہ غالب زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا ۔ غالب اردو شاعری کی محفل میں نمایاں بھی ہیں اور اپنی اصل فکری گہرائی کے اعتبار سے پوشیدہ بھی۔ ان کا کلام ہمارے سامنے ہے مگر اس کے اندر چھپی ہوئی دنیا ہر قاری پر یکساں نہیں کھلتی۔ شعر پڑھ لینا اور شاعر کے فکری منہج تک پہنچ جانا دو الگ چیزیں ہیں۔ غالب کا ظاہری کلام سب کے سامنے ہے مگر اس کلام کی تہہ میں جو فکری کشمکش ہے وہ صاحب نظر قاری ہی محسوس کرسکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال خود بھی غالب کے قریب محسوس ہوتے ہیں۔ دونوں کے ہاں انسان محض حالات کا شکار بن کر نہیں رہتا بلکہ سوال اٹھاتا ہے اپنے وجود کو دیکھتا ہے کائنات سے مخاطب ہوتا ہے اور حقیقت کے پردے اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ غالب کا فکری تجربہ اپنی مخصوص تہذیبی اور شعری فضا میں ظاہر ہوتا ہے جبکہ اقبال اسی انسانی فکر کو آگے لے جاکر خودی عمل عشق اور روحانی بیداری کے ایک وسیع تر تصور سے جوڑتے ہیں۔ اس لیے اقبال کے ہاں غالب کی عظمت کا اعتراف دراصل اس فکری سلسلے کی نشان دہی بھی ہے جس سے اقبال خود فیض یاب ہوئے۔

دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے

اب اقبال غالب کی نگاہ کی طرف آتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں اس غزل کا فکری مرکز زیادہ واضح ہوجاتا ہے۔ غالب کی آنکھ اس حسن کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو ہر چیز کے اندر پوشیدہ ہے مگر عام نگاہ پر ظاہر نہیں ہوتا۔ یہاں حسن سے مراد صرف ظاہری خوبصورتی نہیں بلکہ وہ باطنی حقیقت ہے جو کائنات کی ہر شے کو معنی عطا کرتی ہے۔
بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے میں اقبال نے غالب کی نگاہ کا اصل کمال بیان کردیا۔ زندگی کا سوز ہر شے میں پوشیدہ ہے یعنی وجود کی ہر سطح پر حرکت ہے طلب ہے کشمکش ہے اور ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو ظاہری صورت کے پیچھے موجود حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ غالب کی شاعری میں یہی سوز مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کبھی عشق کی بے قراری میں کبھی زندگی کے سوال میں کبھی انسان کی بے بسی میں اور کبھی اس حیرت میں جو کائنات کے سامنے کھڑے ہوکر انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔
یہاں اقبال کا اپنا فکری منہج بھی غالب کی تفہیم میں شامل ہوجاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک کائنات بے معنی اور بے روح منظر نہیں۔ اس کے اندر حرکت ہے اور حرکت کے اندر زندگی کا سوز ہے۔ انسان اگر صرف ظاہری شکل دیکھ کر رک جائے تو وہ حقیقت کے ایک محدود حصے تک پہنچتا ہے لیکن اگر اس کی نگاہ ظاہر کے اندر باطن کو تلاش کرے تو وہ کائنات کو ایک زندہ کتاب کی طرح پڑھنے لگتا ہے۔ غالب کی عظمت اقبال کے نزدیک اسی نظر میں ہے کہ انہوں نے اشیا کو محض اشیا کی طرح نہیں دیکھا بلکہ ان کے اندر انسانی فکر کے لیے سوال اور معنی تلاش کیے۔
یہاں دید کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ اقبال "دیکھنے" کی بات نہیں کرتے بلکہ "دید" کی بات کرتے ہیں۔ دیکھنا آنکھ کا عمل ہے مگر دید ایک کیفیت ہے۔ ہر شخص دیکھ سکتا ہے مگر ہر شخص حقیقت کو نہیں دیکھ سکتا۔ آنکھ سامنے موجود صورت کو دیکھتی ہے لیکن دید اس صورت کے اندر پوشیدہ معنی تک پہنچتی ہے۔ غالب کی شاعری کی اصل قوت اسی دید میں ہے اور اقبال اسی لیے ان کی آنکھ کو اس حسن کے لیے منظور قرار دیتے ہیں جو زندگی کے سوز کی صورت میں ہر شے کے اندر چھپا ہوا ہے۔
یوں اس غزل کے ان ابتدائی اشعار میں اقبال نے غالب کی عظمت کا کوئی سطحی تعارف پیش نہیں کیا بلکہ غالب کی شاعرانہ شخصیت کے تین بنیادی پہلو سامنے رکھ دیے ہیں۔ پہلا یہ کہ ان کی ہستی نے انسانی فکر اور تخیل کی وسعت کو نمایاں کیا۔ دوسرا یہ کہ ان کی شاعری کا ظاہر ایک پیکر ہے مگر اس کے اندر ایک گہری روح پوشیدہ ہے۔ تیسرا یہ کہ ان کی نگاہ ظاہری حسن سے آگے بڑھ کر اس سوز زندگی کو محسوس کرتی ہے جو کائنات کی ہر شے کے اندر مستور ہے۔
اور یہی اقبال فہمی کا اصل راستہ بھی ہے کہ اقبال کے شعر کو صرف لفظ کے معنی تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس کے پیچھے موجود فکری نسبت کو تلاش کیا جائے۔ اقبال جب غالب کو یاد کرتے ہیں تو وہ صرف ایک بڑے شاعر کو خراج تحسین نہیں پیش کررہے بلکہ اردو شاعری کی اس فکری روایت کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس میں انسان سوال کرتا ہے اپنی حدود کو پہچانتا ہے تخیل کو پرواز دیتا ہے اور ظاہر کے اندر پوشیدہ حقیقت کی جستجو کرتا ہے۔ غالب اس روایت کا ایک بلند مقام ہیں اور اقبال اسی مقام کو اپنی مخصوص فکری نگاہ سے دیکھ کر ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک شاعر کی اصل عظمت اس کے الفاظ کی چمک میں نہیں بلکہ اس قوت میں ہوتی ہے جو انسان کے اندر نئی فکر نئی حیرت اور نئی طلب پیدا کردے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔