زمِ نو، روشن مستقبل: عمرکھیڑ کی بیٹی الینہ خطیب کا خواب اور قوم کے لیے مشعلِ راہ - از قلم : عثمان احمد جماعت مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمر کھیڑ ضلع ایوت محل
زمِ نو، روشن مستقبل: عمرکھیڑ کی بیٹی الینہ خطیب کا خواب اور قوم کے لیے مشعلِ راہ -
از قلم : عثمان احمد جماعت مدرس ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول عمر کھیڑ ضلع ایوت محل
ہمارے معاشرے کی حقیقی ترقی اور قوم کا درخشاں مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہماری نئی نسل، بالخصوص ہماری بیٹیاں، کس طرح کے خواب دیکھتی ہیں اور انہیں پورا کرنے کے لیے کیا عزم رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر اقبال نگر پریشد اردو گرلز مڈل اسکول، عمرکھیڑ کی ساتویں جماعت کی طالبہ الینہ مجاہد الدین خطیب کی لکھی ہوئی مختصر مگر پرعزم تحریر اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری اردو میڈیم اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کے خواب اتنے ہی اونچے ہیں جتنا کہ خود آسمان۔
خواب سے منزل تک کا واضح روڈ میپ
الینہ کا مقصدِ حیات خلائی سائنسدان (Space Scientist) بننا اور بھارت کے معروف خلائی ادارے اسرو (ISRO) کے لیے کام کرنا ہے۔ اس معصوم عمر میں جہاں بچے اکثر اپنے مستقبل کے مقاصد کو لے کر غیر یقینی کا شکار ہوتے ہیں، وہاں الینہ کا اپنے مقصد کے لیے سوچ اور عمل کا منصوبہ (Roadmap) بالکل واضح ہے:
بنیادی تعلیم: دسویں کے بعد فزکس، کیمسٹری اور میتھس (PCM) کے مضامین کا انتخاب۔
اعلیٰ مقابلہ جاتی امتحان: بارہویں کے بعد JEE Advanced امتحان کی تیاری۔
معیاری ادارے کا انتخاب: بھارت کے برتر خلائی تعلیمی ادارے IIST (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، تریواننت پورم) میں B.Tech میں داخلہ۔
حتمی مقصد: اسرو میں بطور سائنسدان خدمات انجام دے کر اپنے والدین، اسکول اور قوم کا نام روشن کرنا۔
قوم و ملت کے لیے پیغام
الینہ کی یہ تحریر صرف ایک بچی کی ذاتی خواہش نہیں، بلکہ پوری ملت کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہے:
دخترانِ ملّت کا بلند عزم: یہ تحریر ان تمام تصورات کو مسترد کرتی ہے کہ اردو میڈیم یا سرکاری اسکولوں کی طالبات سائنس اور جدید علوم میں آگے نہیں بڑھ سکتیں۔ ہماری بیٹیاں ستاروں پر کمند ڈالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
عصری اور سائنسی علوم کی اہمیت: الینہ کا خواب اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ قوم کی حقیقی پیش رفت سائنسی تحقیقات، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم سے وابستہ ہے۔
رہنمائی اور سرپرستی کا کردار: الینہ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ اساتذہ کی ذرا سی ترغیب بچوں کے اندر چھپے ہوئے عظیم خوابوں کو بیدار کر سکتی ہے۔ ہمارے اساتذہ اور والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو صرف خواب دیکھنا نہ سکھائیں بلکہ انہیں ان خوابوں کو حاصل کرنے کے لیے صحیح سمت بھی دیں۔
ہمارا اجتماعی فرض
آج قوم و ملت کو الینہ خطیب جیسے بیش قیمت ہیروں کی سرپرستی، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے اسکولوں کے بچوں کو علمی سہولیات، سائنسی ماحول اور درست رہنمائی فراہم کریں، تو وہ دن دور نہیں جب عمرکھیڑ جیسی بستیوں سے نکلنے والے بچے دنیا بھر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں قوم کا پرچم بلند کریں گے۔
الینہ کا یہ عزم پوری قوم کے لیے ایک پیغام ہے کہ خواب کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، اگر نیت سچی ہو اور راستہ معلوم ہو، تو ستاروں تک پہنچنا ناممکن نہیں!
آئیے ہم اپنے قوم کے بچوں کو ابھی سے وہ خواب دکھائیں جو ان کے ذہنوں کو ایک نئی سوچ بخشے! جس قوم کے خواب نہ ہو وہ قوم کا روشن مستقبل نہیں ہو سکتا!! اللہ تعالیٰ ہمارے حوصلوں کو تقویت بخشے آمین یارب العالمین
Comments
Post a Comment