مسلمان صرف رکشہ چلانے والا نہیں، خلا تک پہنچانے والا بھی ہے!گاؤں سے خلا تک ڈاکٹر امتیاز احمد کا سفر — ایک مسلمان سائنس دان کی روشن داستان - سید فاروق احمد قادری


مسلمان صرف رکشہ چلانے والا نہیں، خلا تک پہنچانے والا بھی ہے!
گاؤں سے خلا تک ڈاکٹر امتیاز احمد کا سفر — ایک مسلمان سائنس دان کی روشن داستان - 
سید فاروق احمد قادری

آج کے دور میں کبھی کبھی مسلمانوں کے بارے میں ایسی تصویر پیش کی جاتی ہے جیسے مسلمان صرف معمولی روزگار کرنے والا، پسماندہ یا ترقی سے دور انسان ہے۔
کسی کو رکشہ چلانے والے کی مثال دے دی جاتی ہے، کسی کو مزدوری کرنے والے کی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان کا مسلمان صرف یہی ہے؟
گزشتہ چند برسوں کی طرف نظر ڈالیں تو حقیقت اس کے برعکس بہت وسیع نظر آتی ہے۔
مسلمان ڈاکٹر ہیں، انجینئر ہیں، استاد ہیں، سائنس دان ہیں، محقق ہیں، فوج اور انتظامیہ میں خدمات انجام دینے والے افراد ہیں۔ ملک کی صنعت، طب، تعلیم، تحقیق اور سائنس میں مسلمان اپنے حصے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سائنسی میدان میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ 2024 کے قومی سائنس ایوارڈ میں پروفیسر سید وجیہ احمد نقوی کو ارضی علوم کے شعبے میں ’’سائنس شری‘‘ اعزاز دیا گیا۔
اور اب ہمارے سامنے ایک اور روشن نام آیا ہے:
ڈاکٹر امتیاز احمد۔
یہ وہی امتیاز احمد ہیں جن کا تعلق بہار کے دربھنگہ علاقے کے ایک گاؤں سے بتایا جاتا ہے اور جو ہندوستانی خلائی تحقیق کے ادارے میں ایک اہم خلائی منصوبے کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔
خواب آسمان کا تھا، منزل خلا بن گئی
بچپن میں آسمان کی طرف دیکھنے والا ایک بچہ شاید یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک دن وہ ہندوستان کے خلائی پروگرام کا حصہ بنے گا۔
مگر تعلیم، محنت اور مسلسل جدوجہد نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔
امتیاز احمد نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے سے حاصل کی، آگے چل کر پٹنہ سائنس کالج سے تعلیم حاصل کی اور پھر بی آئی ٹی سندری سے برقی و مواصلاتی انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔
بعد میں وہ ہندوستانی خلائی تحقیق کے ادارے اسرو سے وابستہ ہوئے اور مختلف خلائی منصوبوں میں کام کرتے ہوئے آج ایک اہم ذمہ داری تک پہنچے۔
خلائی منصوبے کی قیادت
4 ستمبر 2026 کو ہندوستان نے جی ایس ایل وی۔ایف 17 راکٹ کے ذریعے ای او ایس۔05 سیارچے کو خلا میں روانہ کیا۔
ہندوستانی خلائی تحقیق کے ادارے کے مطابق ای او ایس۔05 زمین کے مشاہدے کے لیے تیار کیا گیا جدید سیارچہ ہے اور یہ ہندوستان کا جغرافیائی ہم مدار سے زمین کی تصویری نگرانی کرنے والا پہلا سیارچہ ہے۔
اس منصوبے میں ڈاکٹر امتیاز احمد کو منصوبہ ڈائریکٹر کی ذمہ داری دی گئی۔
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے:
امتیاز احمد نے میزائل نہیں بنایا؛ ان کی موجودہ نمایاں ذمہ داری ای او ایس۔05 سیارچے کے خلائی منصوبے کی قیادت ہے۔
سیارچے کو خلا تک پہنچانے کا کام جی ایس ایل وی۔ایف 17 راکٹ نے کیا۔
یہ کامیابی ملک کے لیے کیوں اہم ہے؟
زمین کے مشاہدے والے سیارچے صرف خلا میں تصویریں لینے کے لیے نہیں ہوتے۔
ان سے حاصل ہونے والی معلومات زمین، موسم، ماحول، قدرتی وسائل اور مختلف قومی ضروریات کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
ای او ایس۔05 کو کامیابی سے مطلوبہ مدار تک پہنچانے کے بعد اس کے مدار کو مزید درست کرنے کے مراحل بھی کامیابی سے مکمل کیے گئے اور اسرو نے سیارچے کی صحت معمول کے مطابق قرار دی۔
عبدالکلام کی یاد آتی ہے، مگر ہر سائنس دان اپنی جگہ منفرد ہے
جب بھی کسی مسلمان سائنس دان کا نام ہندوستان کی خلائی تحقیق میں سامنے آتا ہے تو قدرتی طور پر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی یاد آتی ہے۔
ڈاکٹر عبدالکلام نے ہندوستان کے خلائی اور میزائل پروگرام میں تاریخی خدمات انجام دیں۔
لیکن ڈاکٹر امتیاز احمد کو ’’دوسرا عبدالکلام‘‘ کہنا ایک عوامی اور تعریفی اندازِ بیان ہے۔ دونوں سائنس دانوں کی اپنی اپنی علمی زندگی، ذمہ داریاں اور خدمات ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ ڈاکٹر امتیاز احمد نے اپنی محنت سے اپنا مقام بنایا ہے۔
مسلمانوں کے بارے میں سوچ بدلنے کی ضرورت
کسی بھی قوم کو اس کے چند افراد کے پیشے یا حالات سے نہیں پرکھا جا سکتا۔
اگر ایک مسلمان رکشہ چلا رہا ہے تو وہ بھی اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا ہے۔
اگر دوسرا مسلمان مزدوری کر رہا ہے تو وہ بھی ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔
اور اگر تیسرا مسلمان خلائی تحقیق میں کام کر رہا ہے تو وہ بھی اسی ملک کی سائنسی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔
یہ سب ہندوستان کے شہری ہیں اور سب کی محنت ہندوستان کی ترقی کا حصہ ہے۔
اس لیے ہمیں مسلمانوں کو صرف غربت، پسماندگی یا معمولی روزگار کی عینک سے دیکھنے کے بجائے ان کے تعلیمی، سائنسی، طبی، صنعتی اور قومی خدمات کے پہلو کو بھی سامنے لانا چاہیے۔
نئی نسل کے لیے سب سے بڑا سبق
ڈاکٹر امتیاز احمد کی داستان کا اصل پیغام کسی مذہب یا طبقے کی تعریف سے بھی آگے ہے۔
پیغام یہ ہے کہ:
گاؤں کا بچہ بھی سائنس دان بن سکتا ہے۔
کم وسائل والا طالب علم بھی بڑی منزل حاصل کر سکتا ہے۔
تعلیم انسان کی زندگی بدل سکتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر:
خواب اگر علم، محنت اور عزم کے ساتھ دیکھا جائے تو آسمان بھی آخری منزل نہیں رہتا۔
ڈاکٹر امتیاز احمد کی کامیابی بہار کے ایک علاقے کے لیے فخر ہے، ہندوستانی مسلمانوں کے لیے حوصلے کی مثال ہے اور پورے ملک کے نوجوانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ اپنی پہچان محنت سے بنائی جاتی ہے، شور سے نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ہاتھ میں صرف روزگار کی فکر نہ دیں، بلکہ کتاب، قلم، سائنس اور تحقیق کا راستہ بھی دیں۔
کیونکہ جس قوم کے بچے آسمان کو دیکھ کر صرف پرندے نہیں بلکہ سیارے اور ستارے بھی دیکھنے لگیں، اس قوم کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔