مستقبل قریب میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا اندیشہ - تمباکو نوشی والکحل سے پرہیز، ورزش اور طرز زندگی میں تبدیلی ضروری - احاطہ مسجد سیدہ زاہدہ احمد میں مفت میڈیکل کیمپ - سینکڑوں افراد نے استفادہ کیا -کینسر سے متعلق پروفیسر مسعود احمد کالکچر۔
حیدرآباد 28 ستمبر( پریس نوٹ) پروفیسر محمد مسعود احمد ہاسپٹل چیف آپریٹنگ آفیسر رینو وا بی بی کینسر ہاسپٹل ملک پیٹ نے کہا کہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے روزانہ باقاعدہ ورزش کا اہتمام ضروری ہے اس کے علاوہ دنیا میں بڑھتے ہوئے کینسر جیسے مہلک مرض سے بچنے کے لیے کھانے' پینے 'سونے کا وقت کے علاوہ ہر انسان کو اپنے طرز زندگی میں بدلاؤ لانا ضروری ہے دماغی تناؤ اور غیر ضروری الجھنیں انسان کا نہ صرف سکون برباد کر دیتی ہیں بلکہ انسان کئی امراض کا شکار ہو جاتا ہے جس میں کینسر جیسا مہلک مرض بھی شامل ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے رینووا بی بی کینسر ہاسپٹل کے تعاون سے احاطہ مسجد سیدہ زاہدہ احمد ہاشم آباد بندلہ گوڑہ میں اپنے سولہویں لکچر سے خطاب کے دوران کیا جو سو لکچرس سیریزکے تحت منعقد کیا گیا لکچر سے قبل کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسمبلی حلقہ یا قوت پورہ جناب جعفر حسین معراج نے مفت میڈیکل کیمپ کا افتتاح کیا اور اس کیمپ کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیااس کیمپ کی نگرانی صدر انتظامی کمیٹی مسجد زاہدہ احمد جناب منور حسین صدر بزم حسین نے کی اس موقع پر جناب مشتاق حسین پریوار گروپ 'جناب ممتاز حسین کابل دربار 'جناب رفیع ڈھاکلی 'جناب اعظم خان' جناب محمد فاروق (اعظم فنکشن ہال)'جناب ظفر فاروقی' جناب جہانگیر قیاس اور دیگر موجود تھے پروفیسر محمد مسعود احمد نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق مستقبل قریب میں ہر 5 میں سے ایک شخص کو کینسر لاحق ہونے کا امکان موجود ہےتقریبا 80 فیصد کینسر کےمریض بیماری کے آخری مرحلے میں اسپتال پہنچتے ہیں سروائیکل (بچے دانی کے منہ کا) 'پتے gall bladder)'اور حلق (pharynx ) کے کینسر کی شرح دنیا بھر میں ہندوستان میں سب سے زیادہ دیکھی گئی ہے کینسر کے امراض میں 80 سے 90 فیصد کیسیس کار سینو نما ہی کے ہوتے ہیں کینسر کی جلد تشخیص نہ صرف علاج کی افادیت میں اضافہ کرتی ہے بلکہ شرح اموات کو بھی کم کرتی ہے اور یہ ایک کم خرچ ( قابل استطاعت ) طریقے کار ہے انہوں نے کہا کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے عوامی شعور بیداری مہم کے تحت 100 لیکچرز کے اہتمام کا منصوبہ بنایا گیا ہے اسی منصوبے کے تحت یہ سولہواں لکچر ہے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر ممالک میں بھی یہ لکچرس ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کینسر کے مرض کے خلاف کی جانے عوامی شعور بیداری مہم میں طلبہ اپنا اہم رول ادا کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ لڑکے اور لڑکیوں کے علاوہ بوڑھے اور جوان لوگوں میں جو بھی جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں اس پر اپنے ذمہ داروں سے فوری مشاورت کرنا چاہیے مرض کو چھپانے سے مرض کافی بڑھتا ہے اور اس سلسلے میں ڈاکٹر سے بھی رجوع ہونا وقت کا تقاضہ ہے انہوں نے کہا کہ جسمانی محنت و مشقت تو ہم کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ورزش کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے ہمارے جسم کو متحرک رکھنا ضروری ہے اور ہمیں ہر قسم کے انفکشن سے بچنا چاہیے جب ہم اپنی صحت پر مکمل توجہ دیتے ہیں تبھی ہم دیگر بیماریوں کے علاوہ کینسر جیسے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ کینسر کے مریضوں کو بچانے کی ڈاکٹرس ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن صحت کا دینا صرف اور صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اس بات کو انہوں نےاپنے مشہور شعر سے کیا
امراض ہیں جتنے دنیامیں' ہے ان کی دوا بھی دنیا میں
ملتی ہے دوا سے تب ہی شفا'جب رب کی اجازت ہو تی ہے
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کینسر کے مریضوں کے علاج کے وقت مریض میں قوت مدافعت میں اضافے کی کوششیں کی جاتی ہیں تاکہ کینسر کے خلیوں کو مریض کا جسم برداشت کر سکے یہ کام بھی ایک محدود وقت کے لیے کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کینسر جیسے مرض سے اللہ رب العزت سب کو محفوظ رکھے کیونکہ اس مرض کے علاج کے لیے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر ہم زندگی کے طور طریقے میں تبدیلی لائیں' ورزش کریں' تمباکو نوشی سے پرہیز کریں' الکحل سے پرہیز کریں تو ہم کینسر جیسے مرض سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ کینسر کا علاج بعض اوقات سرجری کے ذریعے اور بعض اوقات کیموتھراپی اور ریڈییشن سے کیا جا سکتا ہے چوتھے اسٹیج میں مریض کی قوت مدافعت میں اضافے کے لیے ڈاکٹرز بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ مریض میں موجود کینسر کے خلیوں میں کمی لائی جا سکے؛پروفیسر مسعود نے عوام میں شعور بیدار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اپنی صحت پر توجہ نہیں دی اور کھانے پینے کی غیر ضروری عادتوں پر قابو نہیں پایا تو آئندہ برسوں میں کینسر کے مرض کے بڑھنے کے کافی اندیشے ہیں اور اس سے صحت عامہ متاثر ہونے کے کافی خطرات پائے جاتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ موقع بہ موقع اپنا میڈیکل چیک اپ کرواتے رہیں تاکہ کسی بھی مرض کا بروقت پتہ چل سکے اور علاج کامیابی سے ہو سکے ڈاکٹر محمد عبدالمجیب افضل انڈو کرانا لوجسٹ ماہر امراض شوگر اور تھائیرائڈ کے علاوہ ڈاکٹر محمد سہیل احمد جنرل فزیشین، ڈاکٹر روحی سلطانہ ریڈییشن آنکالوجسٹ' ڈاکٹر وقار فاطمہ نے مریضوں کی مفت تشخیص کی اور کیمپ کو آنے والے تمام افراد کا شوگر' بی پی اور تھائیرائیڈ مکمل مفت چیک کیا گیا اس کیمپ میں موجود رہنے والوں میں محمد شفیع الدین' محمد اکبر علی ایم او ڈی 'محمد یوسف علی لیب انچارج' محترمہ بی جھانسی نرسنگ سپرنٹنڈنٹ رینووابی بی کینسر ہاسپٹل' جوہرہ مبین کے علاوہ محترمہ صبا پروین' سوپنا داس' محترمہ ثانیہ مرزا "محترمہ شبنم' محترمہ ریشماں معراج' محترمہ روہت مجھی' محترمہ پرشانتی تھاپا' جنیشا تمنگ اور
پائل کمار کے علاوہ جناب مشتاق حسین پریوار گروپ' جناب ممتاز حسین کابل دربار' جناب ر فیع ڈھاکلی' جناب اعظم خان 'جناب محمد فاروق( اعظم فنکشن ہال مغل پورہ )جناب ظفر فاروقی' جناب جہانگیر قیاس و دیگر موجود تھے پروفیسر مسعود احمد نے مسجد زاہدہ احمد کی انتظامی کمیٹی بالخصوص صدر انتظامی کمیٹی جناب منور حسین سے اظہار تشکر کیا کہ ان کی خصوصی دلچسپی سے اس مسجد کے احاطے میں ایک مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد عمل میں آیا اور کینسر سے بچاؤ کے لیے عوام کو معلومات حاصل کرنے میں بڑی مدد ملی جناب منور حسین نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عوام میں مختلف شعور بیداری پروگرام کے تحت لیکچرس بھی دیتے ہیں جس سے عوام کو بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے پروفیسر مسعود احمد کی ادبی خدمات اظہر من الشمس ہیں انہوں نے عوامی فلاحی بہبود کے کاموں کے لیے بھی اپنےآپ کو ہر وقت مصروف کر رکھا ہے کینسر سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات کس طرح کیے جائیں اس موضوع سے متعلق پروفیسر مسعود کے لیکچر سے کافی اہم باتیں معلوم ہوئی ہیں اس پر انہوں نے رینووا بی بی کینسر ہاسپٹل کے ذمہ داران سے بھی اظہار تشکر کیا
Comments
Post a Comment