بنگلورو میں افسانچہ نگاری پر ادبی مجلس کا انعقاد - ہندوستانی اردو منچ کے زیرِ اہتمام ’’افسانچوں کی شام‘‘ — کئی افسانچہ نگاروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں


بنگلورو: ہندوستانی اردو منچ کے زیرِ اہتمام ’’افسانچوں کی شام‘‘کے عنوان سے افسانچہ نگاری کے موضوع پر ایک پُروقار ادبی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں بنگلورو کے علاوہ بیرونی شہروں سے بھی بڑی تعداد میں ادب نواز افراد اور صاحبانِ ذوق نے شرکت کی۔ نشست کے دوران مختلف افسانچہ نگاروں نے اپنے افسانچے پیش کیے، جن میں انسانی جذبات، سماجی مسائل اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی گئی۔
مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک اردو اکیڈمی کے چیئرمین اور آئی اے ایس افسر عزیزاللہ بیگ نے کہا کہ افسانچہ نگاری ادبی دنیا کا ایک اہم فن ہے اور ادب میں اس قسم کے تجربے ہمیشہ سے ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ کا مطالعہ اس بات کا گواہ ہے کہ کہانی سننا اور سنانا انسانی فطرت کا حصہ رہا ہے اور یہ روایت صدیوں سے جاری ہے۔
عزیزاللہ بیگ نے مزید کہا کہ افسانچہ نگاری باقاعدہ ایک فن ہے، جسے مطالعہ، مشاہدہ اور مسلسل مشق کے ذریعے مزید نکھارا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی اردو منچ اور تمام افسانچہ نگاروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان و ادب کی ترقی اور فروغ کے لیے اس طرح کی ادبی نشستوں کا انعقاد نہایت اہم ہے۔
مجلس کی صدارت ہندوستانی اردو منچ کے اعجاز علی جوہری نے فرمائی۔ نشست میں فیاض قریشی، ملنسار اطہر احمد، ڈاکٹر طاہرہ نورانی، جمیل احمد ملنسار، ڈاکٹر عبد الحمید، عرفان افضل، جویریہ خاتون اور رہبر تماپوری نے اپنے اپنے افسانچے پیش کیے۔ پیش کیے گئے تمام افسانچوں میں مختلف انسانی جذبات، سماجی مسائل اور زندگی کے مختلف رنگوں کی عکاسی کی گئی، جنہوں نے سامعین کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔
مجلس کی نظامت محترمہ فریدہ رحمت اللہ نے نہایت خوبصورتی اور پُراثر انداز میں انجام دی۔ ان کی دل نواز نظامت نے مجلس کے ادبی ماحول کو مزید پُرکشش بنا دیا۔
مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے این۔ ڈی۔ ملا صاحب نے کہا کہ افسانچہ آج کی تیز رفتار دنیا میں ایک اہم اور لائقِ توجہ صنفِ ادب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی اردو منچ اردو افسانچے کی ترقی و فروغ اور افسانچہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے مستقبل میں مزید ادبی پروگراموں کے انعقاد کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس موقع پر پروفیسر شبانہ، جو کنّڑ کی لیکچرر ہیں، کو ان کی پی ایچ ڈی کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی گئی۔ ان کی پی ایچ ڈی کا موضوع ’’کنّڑ وچن اور احادیث کے درمیان تقابلی مطالعہ‘‘ ہے۔ مجلس کے ارکان اور موجود ادب نوازوں نے انہیں اس اہم علمی کامیابی پر مبارکباد دی اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
مجلس کے اختتام پر افسانچہ نگاروں، مہمانوں اور تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا گیا۔ بنگلورو اور بیرونی شہروں سے شرکت کرنے والے ادب نوازوں نے ’’افسانچوں کی شام‘‘ کو اردو افسانچے کی ترقی اور اردو ادب کے فروغ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔