سوشل میڈیا اور آج کا گم سم انسان - از قلم: عالمہ مبین پالیگار۔


سوشل میڈیا اور آج کا گم سم انسان - 
از قلم: عالمہ مبین پالیگار۔
 M A M Ed
Principal Mount Sinai PU College Belagavi 
8904317986 
سوشل میڈیا اور آج کا گم سم انسان
آج کا انسان بظاہر لوگوں کے درمیان رہتا ہے، مگر اندر سے تنہائی کا شکار ہے۔ گھر میں والدین موجود ہیں، بہن بھائی ساتھ ہیں، دوست احباب آس پاس ہیں، لیکن اس کی نظریں اور توجہ ایک چھوٹی سی اسکرین میں قید ہیں۔ اسے اپنے آس پاس کے لوگوں کے آنے جانے کی خبر نہیں، کسی کے حال پوچھنے کی فرصت نہیں، اور کسی کے ساتھ بیٹھ کر دل کی بات کرنے کا وقت نہیں۔موبائل نے دنیا کو ہمارے ہاتھ میں ضرور پہنچا دیا ہے، لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے ہمارے اپنے لوگوں کو ہم سے دور کر دیا ہے؟والدین اکثر یہ سوچ کر مطمئن ہوتے ہیں کہ ہمارا بچہ باہر نہیں جاتا، کسی بری صحبت میں نہیں پڑتا، زیادہ تر گھر ہی میں رہتا ہے۔ لیکن ہم یہ دیکھنا بھول جاتے ہیں کہ وہ گھر میں رہ کر کس دنیا میں رہ رہا ہے؟ اس کے ہاتھ میں ہر وقت موبائل ہے، سوشل میڈیا ہے، اجنبی لوگوں سے گفتگو ہے، اور ایک ایسی مجازی دنیا ہے جس میں والدین کی رسائی بہت کم ہے۔آج ہم فخر سے کہتے ہیں:
میرے اتنے فالوورز ہیں، میرے اتنے فیس بک فرینڈز ہیں، میری پوسٹ پر اتنے لائکس آئے۔لیکن کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ میرے گھر میں میرے کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے ساتھ میں روز بیٹھ کر دل کی بات کرتا ہوں؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:«الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ»“آدمی اپنے دوست کے دین اور طریقے پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص دیکھے کہ وہ کس کو دوست بنا رہا ہے۔”
(سنن ابی داؤد: 4833، جامع ترمذی: 2378)جب حقیقی دوستی کے انتخاب میں اتنی احتیاط کی تعلیم دی گئی ہے تو ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پر ہم کن لوگوں کو اپنی زندگی میں داخل کر رہے ہیں۔ جنہیں ہم جانتے تک نہیں، ان سے گھنٹوں بات کرنا، اپنی ذاتی باتیں شیئر کرنا اور ان کی زندگی سے متاثر ہونا—کیا یہ واقعی دانش مندی ہے؟اسلام ہمیں تعلقات کو صرف نام اور تعداد سے نہیں، بلکہ کردار، اعتماد اور خیرخواہی سے دیکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا
“لوگوں سے اچھی بات کہا کرو۔”
(البقرۃ: 83)یعنی ہماری گفتگو بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ سوشل میڈیا پر لکھی ہوئی بات بھی ہماری زبان ہی کی طرح ہمارے اعمال کا حصہ بن سکتی ہے۔
گھر میں سب ساتھ، مگر سب الگ الگ!
آج ایک عجیب منظر عام ہو گیا ہے: خاندان کے سب افراد ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہیں، مگر ہر شخص اپنی اپنی اسکرین میں مصروف ہے۔ کسی کے ہاتھ میں موبائل، کسی کے کان میں ایئر فون، کسی کی نظریں ٹی وی پر۔گھر موجود ہے، مگر گفتگو غائب ہے۔پہلے نانی اور دادی بچوں کو اپنے بچپن کے واقعات سنایا کرتی تھیں۔ بزرگوں کے پاس زندگی کے تجربات کا خزانہ ہوتا تھا۔ بچے ان کے پاس بیٹھتے، سوال کرتے، قصے سنتے اور زندگی کے آداب سیکھتے تھے۔آج وہی بزرگ بات شروع کریں تو نوجوان کی نظریں موبائل سے نہیں اٹھتیں۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بزرگوں کی کہانیاں صرف کہانیاں نہیں ہوتیں؛ وہ زندگی کے تجربات ہوتی ہیں۔ایک دادی کی ایک نصیحت کبھی کبھی ایسی تربیت دے سکتی ہے جو درجنوں سوشل میڈیا ویڈیوز نہیں دے سکتیں۔
ہمیں موبائل نہیں، موبائل کے استعمال کا فیصلہ کرنا ہے
مسئلہ موبائل فون کا وجود نہیں، مسئلہ اس کا بے مقصد اور بے قابو استعمال ہے۔ہمیں اپنے گھروں میں ایک معمول بنانا چاہیے کہ دن میں کچھ وقت ایسا ہو جب پورا خاندان موبائل ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے۔والدین بچوں سے صرف یہ نہ پوچھیں:“پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟”بلکہ یہ بھی پوچھیں:“آج تمہیں کس بات نے خوش کیا؟”
“آج کس چیز نے پریشان کیا؟”
“تمہارے ذہن میں کیا چل رہا ہے؟”اور بچے بھی اپنے والدین کو صرف ضرورت کے وقت یاد نہ کریں، بلکہ ان کے ساتھ بیٹھیں، ان کے تجربات سنیں، ان سے مشورہ کریں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔”
(جامع ترمذی: 3895)
اگر ہمارا گھر ہی ہماری گفتگو، محبت، مشورے اور تربیت کا مرکز نہیں رہے گا تو پھر ہم یہ سب کہاں تلاش کریں گے؟سوشل میڈیا ہمیں ہزاروں لوگوں سے جوڑ سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہمیں اپنوں کے قریب بھی کرے۔ہمارے فالوورز ہزاروں ہوسکتے ہیں، مگر اگر والدین ہمارے ساتھ بیٹھنے کے لیے ترسیں، بہن بھائی ہم سے بات کرنے کے لیے وقت تلاش کریں اور گھر کے بزرگ ہماری توجہ کے منتظر رہیں تو ہمیں اپنے تعلقات کا جائزہ لینا چاہیے۔کبھی موبائل کو خاموش کرکے اپنے والدین کے پاس بیٹھیں۔کبھی بچوں کے ساتھ موبائل کے بغیر کھانا کھائیں۔کبھی دادی نانی سے ان کی زندگی کے واقعات سنیں۔کبھی دوست کو صرف آن لائن لائک کرنے کے بجائے حقیقت میں اس کا حال پوچھیں۔کیونکہ زندگی صرف آن لائن ہونے کا نام نہیں، ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے کا نام ہے۔آج ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم موبائل استعمال کریں گے یا موبائل ہمیں استعمال کرے گا۔دنیا ہماری اسکرین میں ضرور آگئی ہے، مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا ہمارے ہاتھ میں آتے آتے ہمارے اپنے لوگ ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔