اصل خوشی کہاں ہے؟ - میدان کے کھیل یا موبائل گیمز؟ - از قلم: طٰہٰ جمیل نلّامندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اردو مدرسہ پونہ )


اصل خوشی کہاں ہے؟ - 
میدان کے کھیل یا موبائل گیمز؟
از قلم: طٰہٰ جمیل نلّامندو ( معاون معلّمہ پونے مہانگر پالیکا اردو مدرسہ پونہ )

   " ہمیں یاد ہے کبھی شام ڈھلتے ہی گلیاں اور میدان بچوں کی آوازوں، قہقہوں اور کھیل کے شور سے آباد ہوجاتے تھے۔ آج وہی بچپن موبائل کی روشن اسکرین میں سمٹتا جا رہا ہے۔ میدان میں کھیلا گیا کھیل ختم ہو جاتا تھا، مگر اس کی خوشی اور یادیں عمر بھر ساتھ رہتی تھیں۔ موبائل گیم جیتنے کی مسرت مگر چند لمحوں بعد اگلی اسکرین میں گم ہوجاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو وقتی تفریح دے رہے ہیں یا زندگی بھر کی خوب صورت یادیں چھین رہے ہیں؟ ) 
بچپن کا ایک میدان، چند بے فکری کے لمحے، دوستوں کی آوازیں، کھیل کے دوران بلند ہوتی قہقہوں کی گونج اور جیتنے کی خوشی میں چمکتی آنکھیں یہ سب کچھ زندگی کے انمول سرمائے کا حصہ بن جاتا ہے جسے وقت کی گرد بھی دھندلا نہیں پاتی۔ مگر افسوس آج کا بچپن آہستہ آہستہ میدانوں سے نکل کر موبائل کی چھوٹی سی اسکرین میں سمٹتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسکرین پر ملنے والی خوشی میدان میں حاصل ہونے والی خوشی کا بدل بن سکتی ہے؟
ایک وقت تھا جب شام ہوتے ہی گلیاں اور میدان بچوں کی آوازوں سے آباد ہو جاتے تھے۔ کہیں کرکٹ کی گیند اچھل رہی ہوتی کہیں فٹ بال کے پیچھے دوڑتے قدم نظر آتے کہیں کھوکھو اور کبڈی کے مقابلے جاری ہوتے۔ بچے گرتے تھے اٹھتے تھے ہارتے تھے پھر جیتنے کے عزم کے ساتھ دوبارہ میدان میں اترتے تھے۔ کھیل ختم ہونے کے بعد بھی کھیل کی باتیں ختم نہیں ہوتیں۔ کون اچھا کھیلا؟ کس نے بہترین کیچ لیا؟ کس کی وجہ سے ٹیم جیتی؟ کس نے آخری لمحے میں بازی پلٹ دی؟ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں برسوں بعد بھی یادوں کے دریچے کھول دیتی ہیں۔میدانی کھیل دراصل کھیل سے کہیں بڑھ کر ہوتے ہیں ۔ وہ زندگی کی عملی تربیت گاہ ہوتے ہیں۔ وہ اسے صرف جیت کا مزہ نہیں چکھاتے بلکہ شکست کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی دیتے ہے۔ وہ تعاون، نظم و ضبط، قیادت ، فیصلہ سازی، خود اعتمادی اور دوسروں کے احترام جیسے اوصاف کو عملی تجربے میں ڈھالتے ہے۔ ایک ٹیم میں کھیلنے والا بچہ یہ سمجھتا ہے کہ ہر کامیابی اکیلے کی نہیں ہوتی بعض اوقات فتح کے پیچھے پوری ٹیم کی خاموش محنت ہوتی ہے۔
      اس کے برعکس موبائل گیمز نے تفریح کی دنیا کو ہماری انگلیوں تک پہنچا دیا ہے۔ ایک کلک ایک سوائپ اور ایک ٹچ سے نئی دنیا سامنے آ جاتی ہے۔ موبائل گیمز میں ذہنی مشق، حکمتِ عملی اور فیصلہ سازی کے بعض پہلو یقیناً موجود ہیں، لیکن جب یہ تفریح وقت کی قید سے آزاد ہو جائے تو یہی سہولت رفتہ رفتہ عادت اور پھر انحصار میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔
موبائل گیم کی فتح اسکرین پر نمودار ہوتی ہے اور اگلے ہی لمحے غائب ہو جاتی ہے۔ میدان کی فتح انسان کی شخصیت پر نقش ہو جاتی ہے۔موبائل گیم میں ہم ایک فرضی کردار کو دوڑاتے ہیں جبکہ میدان میں ہمارا اپنا جسم دوڑتا ہے۔ اسکرین پر شکست ہو تو صرف گیم دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ مگر میدان میں شکست انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ زندگی میں ہر ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنا پڑتی ہے۔ موبائل گیم ہمیں ایک مصنوعی دنیا میں لے جاتی ہے، جبکہ میدان ہمیں حقیقی دنیا سے جوڑتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر میدان رشتے بناتا ہے۔
کبھی ایک ہی گیند کے پیچھے دوڑتے ہوئے بننے والی دوستی عمر بھر ساتھ رہتی ہے۔ کبھی کھیل کے دوران ہونے والی معمولی سی تکرار چند منٹ بعد قہقہوں میں بدل جاتی ہے۔ کبھی ہارنے والا دوست اگلے دن جیتنے کے عزم کے ساتھ میدان میں واپس آتا ہے۔ یہی وہ تجربات ہیں جو شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں اور یادوں کو زندگی بھر کے لیے خوشبو عطا کرتے ہیں۔
آج کے والدین اور اساتذہ کے لیے اصل چیلنج موبائل چھین لینا نہیں بلکہ بچے کو توازن سکھانا ہے۔ ٹیکنالوجی موجودہ دور کی ضرورت ہے۔اسے مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی دانش مندی نہیں۔ لیکن اگر بچے کی دنیا صرف اسکرین تک محدود ہو جائے اور حقیقی کھیل حقیقی دوست حقیقی گفتگو اور حقیقی تجربات اس سے دور ہوتے جائیں تو ہمیں ضرور رک کر سوچنا چاہیے۔
ہمیں بچوں سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ "موبائل بالکل مت دیکھو!" بلکہ انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ "موبائل تمہاری زندگی کا ایک حصہ ہو سکتا ہے پوری زندگی نہیں۔"
انہیں موبائل کی اسکرین سے باہر کی دنیا دکھائیے۔ انہیں میدان میں لے جائیے۔ انہیں مٹی میں کھیلنے دیجیے، دوڑنے دیجیے گرنے دیجیے ہنسنے دیجیے ہارنے دیجیے اور پھر جیتنے دیجیے۔ کیونکہ بچپن کو صرف محفوظ رکھنے کی نہیں جینے کی بھی ضرورت ہے۔آج کا بچہ شاید موبائل گیم میں حاصل کیے گئے اپنے بلند ترین اسکور کو چند سال بعد بھول جائے مگر اسے وہ دن ضرور یاد رہے گا جب اس نے دوستوں کے ساتھ بارش میں کرکٹ کھیلی تھی۔ وہ شام ضرور یاد رہے گی جب اس کی ٹیم آخری لمحے میں جیتی تھی۔ وہ میدان ضرور یاد رہے گا جہاں وہ پہلی بار گرا تھا اور پھر اٹھ کر دوڑا تھا۔
موبائل گیم وقت گزارنے کا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ مگر میدان زندگی بنانے کا ذریعہ ہے۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف اسکرین کی دنیا کے فاتح بنانا چاہتے ہیں یا حقیقی زندگی کے مضبوط بااعتماد اور خوش باش انسان؟
کیونکہ زندگی کے اختتام پر شاید ہمیں اپنے موبائل کے اسکور یاد نہ رہیں مگر وہ چہرے وہ میدان وہ قہقہے وہ شکستیں وہ فتوحات اور وہ بے ساختہ خوشیاں ضرور یاد رہیں گی جن میں ہماری حقیقی زندگی دھڑکتی تھی۔
چلیں۔۔۔۔یہ کریں کہ بچوں کے ہاتھوں سے موبائل مکمل طور پر نہ چھینیں مگر کبھی ان کا ہاتھ تھام کر انہیں میدان تک ضرور لے جائیں۔شاید وہاں کھیلتے ہوئے انہیں صرف ایک کھیل نہ ملے بلکہ زندگی بھر یاد رہنے والی ایک خوب صورت یاد مل جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔