غزل - میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
غزل -
میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک۔
عمر اپنی یہ گزاری جائے
ساتھ محبوب کے ساری جائے
چاہتے ہیں کہ بہاری جائے
دلی سے میرؔ بخاری جائے
مدتوں سے یہی سوچا میں نے
تیری تصویر اُتاری جائے
بن کے شیطان کھڑا ہے جو بھی
ویسے نکڑ سے شکاری جائے
وقت آئے کہ وہ کہہ دیں دِل سے
جان جانی ہے، ہماری جائے
وہ سہاگن ہوخوشی اس کو ملے
دنیا سے کیسے کنواری جائے
خوش نصیبی ہے کہ اللہ رکھا
کرنے پوجا تو پجاری جائے
زندگی جس کو کہے میرارب
نام سے اُن کے پکاری جائے
کوئی آتا نہیں خوابوں میں میرؔ
اک شبیہ ان کی اُتاری جائے
Comments
Post a Comment