دل، زبان، اور فکر - تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی
دل، زبان، اور فکر -
تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی
9881836729
انسانی اعضاء میں دل کو بڑی اہمیت اور فوقیت ہے,کیونکہ دل تمام اعضاء انسانی کا سربراہ ہوتا ہے۔ قرآن میں بھی دل کے بارے میں بار بار دل اور فکر کی شفافیت اور دل کو ثابت قدمی پر رکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ انسان کا دل مطمئن ہو، زبان شائستہ اور فکر صحیح ہو تو انسان کی کامیابی کا ضامن ہے۔ پیغمبر اسلام کا فرمان ہے۔ اپنے دل سے پوچھو اپنے دل سے فتوی طلب کرو۔ نیکی وہ ہے جس سے نفس اور دل خوش ہو, اور برائ سے دل میں بے اضطرابی کی کیفیت طاری ہو۔ اور عموما نفس امارہ دل کوبرائ اور نفسانی خواہشات پر ابھارتا ہے, لیکن دل یہ فیصلہ کرتا ہے کہ بھلا کیا ہے اور برا کیا ہے۔ دل عموما اچھائ کو قبول کرتا ہے۔ قرآن میں ہے۔ الا بذکراللہ تطمئن القلوب ۔ایک قلب سلیم ہی اللہ کے ذکر اور زبان سے اسکی حمد و ثنا کرکے سکون پاتا ہے۔ اور جان لو کہ دلوں کو منور اور اطمینان بخشنے والا صرف اللہ کا ذکر اور اسکی حمد و ثنا ہے۔ اور اس کے علاوہ دو اینچ کی زبان سے جو کلمات نکلے وہ لوگوں کی بھلائ اور محبت کے ہوں, نہ کہ دل شکنی کے۔ ,حدیث میں ہے، جس کا مفہوم ہے۔ لوگوں سے اچھی بات کرنا صدقہ کے مترادف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مسلم وہ ہے کہ اس کے زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ دعا کرتے تھے کہ,اے زبان تو اگر صحیح چلے تو بہتری ہے ، ورنہ مصیبت۔ کیونکہ زبان دل کی آئینہ دار ہوتی ہے ، یوں کہیے کہ دل کی کھڑکی ۔ہوتی ہے۔ چناں چہ پیغمبر اسلام کا فرمان ہے۔ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے, اور اس کو قتل کرنا کفر ہے۔ اور اللہ کا ارشاد ہے۔ جو کسی ایک کا قتل کرتا ہے, گویا کہ وہ ساری انسانیت کا قتل کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جو کسی ایک انسان کا تحفظ کرتا ہے ,وہ ساری انسانیت کا تحفظ اور اس کے وقار کو باقی رکھتا ہے۔ جو ہم کہتے ہیں وہ ہمارے دل میں ہوتا ہے۔ جب کوئ انسان جھوٹ پر آمادہ ہوتا ہے، یا جھوٹ بولنے کی جسارت و ہمت کرتا ہے تو اس وقت انسان کے دل کی دھڑکن تیس فیصد بڑھ جاتی ہے۔ چناں چہ آج سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ، زبان اور دل کا ڈائریکٹ رابطہ اور کنیکشن ہے۔ ریسرچ سے یہ معلوم ہوئ ہے کہ ،زیادہ گپ شپ, بلاوجہ غصہ گالی گلوچ سے انسانی اعضاء پر غیر معمولی دباو پڑھتا ہے۔ جس سے جانی نقصان کا خدشہ رہتا ہے۔ یہ ہے سائنس کی ریسرچ، اس سے قبل قرآن اور پیغمبر اسلام نے فرمایا۔غصہ سے پرہیز کرو۔ جب آپ کو غصہ آے ,کھڑے ہوے ہوں تو, بیٹھ جائیں،اور بیٹھے ہوے ہوں تو لیٹ جائیں، یقینا اس سے آپ کو غصہ اور جارحیت سے نجات مل سکتی ہے۔ وہیں آپ کا ارشاد ہے, میٹھی اور محبت بھری بات کرنا صدقہ کے مترادف ہے۔ جب ہم کسی سے میٹھی بات کرتے ہیں اس سے ( Oxytocin ) اور ( Dopamine) وجود میں میں آتا ہے، جس سے ہمیں راحت اور خاصا سکون ملتا ہے۔ میٹھاس میسر ہوتی ہے۔ چناں چہ بخاری کی پہلی حدیث ہے۔ جس کا مفہوم ہے ،بےشک اعمال کا دارو مدار نیتوں پر منحصر ہے۔ چناں چہ ایک شعر ہے جو دل کی کیفیت اور ما فی الضمیر کی عکاسی کرتا ہے ۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے پر نہیں قوت پرواز مگر رکھتی ہے۔ دل کو اللہ نے انسانی جسم میں جج کی حیثیت عطا کی ہے۔ اس لیے اگر اچھوں اور نیک لوگوں کی صحبت میسر آے تو دل ان کی اوصاف جمیلہ کو قبول کرتا ہے۔ اس بات کی عکاسی اس شعر سے ہوتی ہے۔ صحبت صالح ترا صالح کند صحبت تالع ترا تالع کند۔۔ چناں چہ قرآن میں نفس کی قسمیں بیان کی گئ ہیں، نفس امارہ جو انسان کو برائیوں کی طرف گامزن کرتا ہے۔ اور نفسانی خواہشات پر ابھارتا ہے۔ اگر دل اس کو جج کرتا,اور مسلسل کرتا رہا, تو اسکی پاداش میں خداے برتر اس کے دل پر مہر ثبت کرتے جس کی وجہ سے نہ تو وہ مسلسل غلطیوں احساس کرسکتا ہے, نہ سن سکتا ہے ،اور نہ ہی دیکھ سکتا ہے۔ آدمی اگر مسلسل آنکھ بند کریں تو بینائ کمزور ہوسکتی ہے، اگر دل اچھی بات سے روگردانی کرے تو اللہ دلوں پر مہر ثبت کردیتے ہیں۔ جس سے خدا کا عذاب ہونا یقینی ہے۔ ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں سورہ بقرہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ دنیا میں یہ دعوی کوئ بھی نہیں کرسکتا کہ اس نے خدا کو دیکھا ہے۔ خداے برتر نے وہ آنکھ ابھی نہیں بنائ جس کا ہم دیدار کرسکے۔ لیکن دل میں خدا کا احساس ,دل میں خدا کا خوف, اور دل میں اس کا ڈر ہو تو اس نے یقینا خدا کو پالیا ہے۔ اور احساس کا نام ہی خدا ہے۔ جب ہم خداے برتر کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارے دل و دماغ کو سکون میسر ہوتا ہے۔ اور ایک خوب صورت فکر انسان کے دل و دماغ میں تخلیق پاتی ہے۔ اگر آپ اچھی فکر,اچھی سوچ, مثبت ذہن,اور دل کے نیک بننا چاہتے ہو تو,قرآن کا ارشاد ہے ۔ کونوا مع الصادقین۔ اچھے اور سچے ,دیانت دار لوگوں کی صحبت اختیار کرو۔ اسکی مثال ایسی ہے جیسے آپ لوہار کے پاس ہوں تو لازما آپ کے لباس پر سیاہ دھبے ہوں گے۔ اور اگر آپ عطر فروش کے پاس ہوں تو یقینی طور پر آپ کا لباس خوشبو سے معطر ہوگا۔ آپ اگر منفی سوچ کے لوگوں میں ہوں، تو منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اور اگر مثبت سوچ کے لوگوں میں ہوں تو مثبت اور مفید اثرات مرتب ہوں گے۔ اور بری اور منفی سوچ سے حفاظت۔ منفی سوچنے والوں کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اونچائ سے زمین کی طرف اندھیرے کو دیکھ کر یہ کہیں کہ " کیچڑ ہے" اور نیچے سے آسمان کی طرف دیکھ کر مثبت سوچ رکھنے والے کہیں کہ واقعی یہ چمکتے ہوے سیارے ہیں۔ جو اللہ کی ایماء پر اپنے اپنے محور پر مصروف عمل ہیں۔ گمان اگر اچھا ہو تو فیصلے بھی اچھے صادر ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے۔ اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ کے مترادف ہوتے ہیں۔ اللہ کی نشانیوں، اسکی خوبصورت تخلیق, اور قرآن میں غور وفکر اور تدبر سے دل اور دماغ کو راحت ملتی ہے, اور پاکیزہ فکر کی تخلیق ہوتی ہے۔ جو ہر دل ,زبان ,اور فکر کو ضروری ہے۔
Comments
Post a Comment