امامت اور امام؟ (۱)از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


امامت اور امام؟ (۱)
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی، 
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

امامت عربی لفظ مصدر ہے أمٌُ فعل کا جس کے لغوی معنی ہیں ارادہ کرنا ، آگے بڑھنا یا کسی کی طرف متوجہ ہونا - اس لفظ کا اصطلاحی معنی اہل سنت و الجماعت کے نزدیک الگ ہے اور شیعہ حضرات کے نزدیک الگ- اہل سنت و الجماعہ یعنی خلفاء راشدین حضرت ابو بکر حضرت عمر حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنھم کو ملا کر بعد کو عثمانی سلطنت تک جسے ترکی کے کمال اتاترک نے ختم کیا اور اس پورے سلسلہ کو بعد میں خلافت کے لفظ سے یاد کیا جانے لگا - امامت و خلافت ہم معنی یعنی ایک ہی مطلب بن گئے - اس خلافت یا امامت کا مطلب ہے امت کا وہ شخص جو اپنی پاک صاف زندگی میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مکمل طرز زندگی سے قریب ہو اسے امت کے اہل علم اور تقویٰ منتخب کریں جیسے خلفاء راشدین اور بعد کے خلفاء کا انتخاب ہوا ، اور اس طرز حکومت کو بعد میں اہل سنت و الجماعت کا لقب دیا گیا- جبکہ لفظ امامت کا مطلب شیعوں میں بالکل الگ ہے- ان کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد صرف آپ کی آل یعنی سید خاندان ( سادات جمع) کو مسلمانوں کا امام یا خلیفہ بننے کا حق ہے اور امت کو انھیں منتخب کرنے کا حق نہیں ہے -
مگر ہم یہاں امام اور امامت کی اس تفصیل کی بحث نہیں کریں گے - بلکہ نمازوں کی امامت اس کے شرطیں اور دینی رہنمائی سے بحث کریں گے - اس سب سے پہلے علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے شعر سے ابتداء کرتا ہوں:
قوم کیا ہے، قوموں کی امامت کیا ہے-
اس کو کیا جانے یہ بیچارہ دو رکعت کا امام-
اس پر بھی بعد کو بحث کریں گے- 
صدیوں سے پانچ وقت کی نماز وں کی فرضیت کی وجہ سے مسلمانوں میں کسی علم دین سے پوری طرح واقف ( عالم دین) کو یہ ذمداری دی جانے لگی- چونکہ یہ عمل دنیوی نہیں ہے اس لئے مسجد کے امام کی تنخواہ معاشرہ کے افراد پر نہیں آئی بلکہ مسلم حکومتوں پر آئی- آج بھی عرب اور غیر عرب حکومتیں یہ ذمہ ساری اٹھاتی ہیں اور اس وجہ سے ائمہ حضرات کی دنیوی زندگی کسی قدر آسان ہو جاتی ہے جبکہ غیر مسلم ملکوں میں ان کی تنخواہ ہر محلہ کے مسلمانوں کی طرف سے چندہ کرکے دی جاتی ہے اور اس وجہ سے ائمہ حضرات کی دنیوی زندگی مالی پریشانیوں کا شکار ہو جاتی ہے-
امام بننے کا حقدار کون ہے؟
صحیح مسلم میں حضرت ابو مسعود البدری الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا” تم میں جو شخص قرآن کو اچھی طرح سے پڑھنا ( یعنی تجوید کا ماہر اور قرآن کے معنی و مطلب کو اچھی طرح سمجھتا ہو) وہ نماز میں امام بنے- اگر سب برابر ہوں تو پھر وہ جو سنتوں کو اچھی طرح جانتا اور عمل کرتا ہو - اگر اس میں بھی سب برابر ہوں تو پھر وہ جو مکہ مکرمہ سے مدینہ ھجرت کرنے میں آگے ہو - اگر اس میں بھی سب برابر ہوں تو جس کی عمر سب سے زیادہ ہو وہ امام بنے- اس حدیث میں بنیادی شرط قرآن صحیح طرح پڑھنا یعنی تجوید اور قرآن فہمی کی شرط ہے - اب ھجرت تو نہیں رہی تو اس کی جگہ جو زیادہ دیندار ہو اور زیادہ عمر والے کے لئے بھی یہی شرط ہے کہ اسے تجوید بھی آتی ہو اور وہ نماز کے تمام احکامات سے اچھی طرح واقف ہو- 
غیر اسلامی ملکوں میں ائمہ حضرات کی مالی پریشانیوں نے امت کو امام بننے کہ جذبہ سے روک دیا ہے - اور اسی لئے دنیوی ملازمتوں سے عموما رٹائرڈ ہونے کے بعد مسجد کی امامت کی کوشش کی جاتی ہے- انڈیا جیسے ملکوں میں دینی مدرسوں کے وجود نے اس کمی کو بہت بڑی حد تک پوری کر دی ہے اور زیادہ تر مسجدوں میں علماء حضرات اس اہم دینی خدمت کو انجام دے رہے ہیں - مگر قوم کی دین سے دوری نے انھیں مسجد کے امام کی صحیح قدر کرنے سے محروم کر دیا ہے اور اسی وجہ سے محلہ کا مالدار مسلمان محض اپنی مالداری کی وجہ سے مسجد کے امام کے ساتھ تکبر سے پیش آتا ہے جبکہ موجودہ حالات میں مسجد کے امام کی حیثیت اس محلہ کے دینی قائد اور امیر کی ہے جس کی اطاعت سب پر ضروری ہے- 
ان شاء اللہ اگلی قسط میں اس سلسلہ کی ضروری باتوں پر روشنی ڈالی جائے گی-
ا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔