درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی قول پر حاصل جائیداد پر انجمن کا کارپوریشن سے پی آئی ڈیز کا حصول اور اپنے نام موٹیشن کے ساتھ ناجائز قبضہ کی کارستانی جمہوریت و دستورِ انجمن کی صریح خلاف ورزی، مالی بدانتظامیوں پر کوآپریٹو سوسائٹیز کی انکوائری رپورٹ ، عدالت کے فیصلوں اور کارپوریشن کی نوٹسوں کے باوجود تعمیرات، سراسر توہینِ عدالت


درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی قول پر حاصل جائیداد پر انجمن کا کارپوریشن سے پی آئی ڈیز کا حصول اور اپنے نام موٹیشن کے ساتھ ناجائز قبضہ کی کارستانی جمہوریت و دستورِ انجمن کی صریح خلاف ورزی، مالی بدانتظامیوں پر کوآپریٹو سوسائٹیز کی انکوائری رپورٹ ، عدالت کے فیصلوں اور کارپوریشن کی نوٹسوں کے باوجود تعمیرات، سراسر توہینِ عدالت 
 
کلبرگی : (وارتھا بھارتی سے ترجمہ و خلاصہ)2011 میں دفتر کوآپریٹو سوسائٹیز کلبرگی میں رجسٹرڈ "انجمن ترقی اردو گلبرگہ" موقوعہ بالمقابل کے بی این جنرل ہاسپٹل کلبرگی نے درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی جانب سے حقیقی "انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ" کے نام قول نامہ پر حاصل جائیداد کو سٹی میونسپل کارپوریشن کلبرگی میں غیر قانونی طور پر حقیقت کے برعکس "انجمن ترقی اردو گلبرگہ" کے سکریٹری کے نام پر پی آئی ڈی نمبرز کے حصول کے ذریعے غیر مجاز طور پر موٹیشن کے ساتھ ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
     اس طرح جمہوری نظام اور حقیقی انجمن کے قواعد و ضوابط کی صریح خلاف ورزیوں اور مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے شکایت درج کرانا بحث کا موضوع ہے۔ بعض ارکان نے متعلقہ محکموں میں شکایت درج کروائی ہے کہ انجمن کے ذمہ دار ارکان ڈاکٹر انیس صدیقی، ولی احمد، خواجہ پاشا انعامدار، اکرم نقاش، رفیق رہبر اور مجیب احمد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
   واضح رہے کہ حقیقی "انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ" کو غفران مآب حضرت محمد محمد الحسینی صاحب قبلہ سجادہ نشین بارگاہِ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ نے 1966 میں، " بحیثیت متولی درگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ انعامی سروے نمبر 36 بہمنی پورہ تعلقہ گلبرگہ واقع اسٹیشن روڈ گلبرگہ موسومہ اکرام کنٹہ بحد (04 14 گنٹے) کے منجملہ 366 مربع گز اراضی بغرض تعمیر ایوانِ اردو ذریعہ جناب محمد عبدالرحیم آرزو ایڈوکیٹ و صدرنشین انجمن ترقی اُردو ہند ( شاخ ) گلبرگہ انجمن مذکور کے نام بقرار داد نزول بحساب 2 پیسے سکہ رائج الوقت فی مربع گز سالانہ " ایک قول نامہ کے ذریعے اردو زبان و ادب کے فروغ و اشاعت کے لیے عنایت کی تھی ۔
   اس انجمن کے کچھ ممبران نے 2011 میں کوآپریٹو سوسائٹیز کلبرگی میں رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ایک متوازی تنظیم ' انجمن ترقی اردو' گلبرگہ کے نام رجسٹر کروائی ہے ۔
    اور اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ حقیقی انجمن کے لیے حاصل اس اراضی کو سٹی کارپوریشن کلبرگی میں انہوں نے حقیقت کے برعکس "انجمن ترقی اردو گلبرگہ" کے سیکرٹری کے نام منتقل کیا ہے اور اس جائداد کے نو پی آئی ڈی نمبرز کا حصول ، کھاتا خلاصہ کے معاملات ایک ایک کر کے
قانون حقِ معلومات 2005 ، آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت منظرِ عام پر آرہے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ کہ سٹی کارپوریشن کے پے درپے نوٹسس کے اجراء اور عدالتی احکامات کے باوجود غیر مجاز تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔
        اس طرح غیر قانونی طور پر اس جائیداد کے مالکانہ حقوق کے سنگین تنازعات پیدا کر دئے گئے ہیں ۔ اس خصوص میں ایک مکمل تحقیقات کی شدید ضرورت ہے کہ یہ ظاہر کیا جائے کہ ان جائیدادوں کو ، کن دستاویزات کی بنیاد پر کس مقصد کے تحت یہ پی آئی ڈی نمبرز حاصل کئے گئے ہیں ۔
      انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے نام پر بینک میں تقریباً 40 لاکھ کے فکسڈ ڈپازٹ (FDs) ہیں اور انجمن کے تجارتی کمپلیکس سے کرایہ کی آمدنی ہے ۔ ان مالی وسائل کے انتظام میں، نئی رجسٹرڈ انجمن ترقی اردو کے اراکین نے مالی بے ضابطگیاں اور انجمن کے قواعد کی خلاف ورزیاں کی ہیں ۔
    جیسا کہ اس خصوص میں 2022 میں محکمہ کوآپریٹو سوسائٹیز کے سب رجسٹرار کی انکوائری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انجمن کے عہدیداران نے روپیوں کے لین دین کے لیے چیک یا بینک ٹرانسفر کے طریقوں کی بجائے 10,000 سے زائد نقد رقم وصول کی اور کچھ معاملات میں، ایک ہی دن میں لاکھ اور دیگر متعدد چیک کیش کئے ہیں ۔
      اس رپورٹ میں ایسے الزامات بھی لگائے گئے ہیں کہ اس معاملے میں خازن کی دستخط یا اجازت لی گئی اور نہ ہی مجلسِ عاملہ کی پیشگی یا بعد میں منظوری لی گئی۔ " انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ" کے کچھ ارکان نے مجلسِ عاملہ کی روئداد کے حوالے سے الزام لگایا ہے کہ انتخابات کے بعد بینکنگ لین دین کے لیے کسی ریزولیوشن کی منظوری حتیٰ کہ اولین اجلاس کے انعقاد سے پہلے ہی رقم نکال لی گئی ۔
    " انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ " کے بینک کا کاروبار "انجمن ترقی اردو" کی مجلسِ عاملہ کے ممبران کے ذریعہ چلایا جاتا رہا، جو 2011 میں رجسٹرڈ ہوئی تھی اور زیادہ تر مالی لین دین کبھی انتظامی کمیٹی کے سامنے صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی خرچ کی گئی رقم سے متعلق واضح تفصیلی اخراجات رپورٹس میں پیش کئے گئے ۔ 
  مجلسِ عاملہ کی تحلیل سمیت مالیاتی لین دین میں بے ضابطگیوں اور قواعد و ضوابط کی واضح خلاف ورزی کے متعدد الزامات کے تناظر میں، کوآپریٹو سوسائٹیز کے ڈپٹی رجسٹرار نے انکوائری رپورٹ اور دیگر احکامات میں صاف طور پر لکھا ہے کہ " یہ ثابت ہوچکا ہے کہ انجمن کی مجلسِ عاملہ کے عہدیداران نے دستورِ انجمن اور ممبران کی رائے کے خلاف کام کیا ہے۔ جن کی مزید برقراری انجمن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے ۔" 
  اسی لیے کوآپریٹو سوسائٹیز کلبرگی نے ستمبر 2022 میں، مجلسِ عاملہ کی تحلیل اور تین ماہ کی مدت کے لیے ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا ، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر مجلسِ عاملہ کو مزید جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تو دستورِ انجمن کی سنگین خلاف ورزیاں یقینی ہیں۔
    اگرچہ یہ معاملہ مجلسِ عاملہ کو تحلیل کرنے تک چلا گیا، لیکن الزامات کے سلسلے میں مناسب قانونی کارروائی کرنے میں ناکامی کی وجہ سے، غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات کا سامنا کرنے والے ممبران اب دو الگ الگ تنظیموں، "انجمن ترقی اُردو ہند شاخ گلبرگہ " اور "انجمن ترقی اردو" کے نام کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
  بعض ممبران نے وارتھا بھارتی کو بتایا کہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی جائیداد پر غیر قانونی تعمیرات اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں۔ 
    اس پس منظر میں بینک ڈپازٹس، کمرشل کمپلیکس سے کرایہ کی آمدنی اور کارپوریشن سے موصول ہونے والی پی آئی ڈیز کی آزادانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
    اس سلسلے میں جناب پرویز عالم ، ضلع وقف افسر، کلبرگی نے وارتا بھارتی کو بتایا کہ " حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی انعامی سروے نمبر 36 کی خالی زمین پر تعمیر عمارت سے متعلق وقف ٹریبونل میں، وقف ایکٹ کے سیکشن 52 کے تحت ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس کے فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ جائیداد بارگاہ حضرت خواجہ بندہ نوازؒ کی ہے ۔ فیصلے کے مطابق درگاہ انتظامیہ متعلقہ پی آئی ڈیز کو منسوخ کرنے کے لیے ضروری کارروائی کرے گی۔ "

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔