ڈی جے کی بھیانک آواز: انسانی صحت پر قہر، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی امن کے لیے سنگین خطرہ - ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔


ڈی جے کی بھیانک آواز: انسانی صحت پر قہر، ماحولیاتی آلودگی اور اجتماعی امن کے لیے سنگین خطرہ۔
ازقلم : اظہر ظہیر الدین کردمے، شریوردھن ضلع رایگڈھ۔

ڈی جے کے نام پر بجایا جانے والا بے ہنگم، تیز اور کان پھاڑ شور محض ایک تفریح نہیں رہا، بلکہ یہ انسانی صحت اور سماجی سکون کو تباہ و برباد کرنے والا ایک مہلک ہتھیار بن چکا ہے۔ اخبار کی شائع شدہ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ عوام الناس کی جانب سے ڈی جے کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اس بات کا روشن ثبوت ہیں کہ شہری اس صوتی آلودگی (Noise Pollution) سے شدید نالاں ہیں اور اس پر مکمل پابندی کا مطالبات کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اس تحریر کا مقصد کسی کے مذہبی تہوار، عرس، شادی بیاہ یا خوشی کے دیگر مواقع پر طنز کرنا یا کسی کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ ہر شخص کو اپنے خوشگوار مواقع منانے کا کامل حق حاصل ہے، لیکن جب یہ خوشی حد سے تجاوز کر کے صوتی آلودگی کی صورت اختیار کر لیتی ہے تو اس کے انتہائی بھیانک اور مہلک اثرات پورے ماحول اور انسانی صحت پر مرتب ہوتے ہیں، جن کی جانب توجہ دلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈی جے کی بھیانک اور گرجدار آواز کے مختلف طبقات اور ماحولیاتی زندگی پر مندرجہ ذیل سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں:

دل کے مریضوں پر مہلک اثرات: ڈی جے کی ہولناک آواز اور اس کے شدید کمپن (Vibrations) کی وجہ سے دل کے مریضوں کی دھڑکنیں اچانک غیر معمولی ہو جاتی ہیں۔ یہ شدید شور بلڈ پریشر کو خطرناک حد تک بڑھا دیتا ہے اور بسا اوقات دل کے دورے (Heart Attack) کا باعث بن کر جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

بزرگوں پر ناگوار اثرات: بڑھاپے میں اعصابی نظام انتہائی حساس اور کمزور ہو جاتا ہے۔ ڈی جے کا تیز شور بزرگوں کے اعصاب پر گہرا منفی اثر ڈالتا ہے، جس سے شدید بے چینی، سر درد، غشی اور ذہنی تناؤ کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔

نفسیاتی مریضوں کی حالتِ زار: اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے یہ بم دھماکے جیسی آوازیں کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔ یہ شور ان کے اندر شدید خوف، دہشت اور دماغی توازن کے بگڑنے کا سبب بنتا ہے۔

عام شہریوں کا غارت ہوتا سکون اور حرام نیندیں: عام شہریوں، محنت کشوں اور خاص طور پر امتحان کی تیاری کرنے والے طالب علموں کا سکون ڈی جے کے شور کی نذر ہو جاتا ہے۔ دیر رات تک بجنے والے ان ساؤنڈ سسٹمز کی وجہ سے لوگوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں، جس سے معاشرے میں خوف، گھبراہٹ اور چڑچڑاپن پھیلتا ہے۔

ماحولیاتی اور پرندوں پر اثرات: ڈی جے کی بھیانک آواز صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ اطراف کے قدرتی ماحول کو بھی آلودہ کرتی ہے۔ تیز آواز کے کمپن سے درختوں پر موجود پرندے خوفزدہ ہو کر اپنے گھونسلے چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات خوف کی وجہ سے پرندوں کے دل بند ہونے کی مثالیں بھی سامنے آتی ہیں۔

خوشگوار ماحول میں کشیدگی اور جھگڑے: خوشی کے مواقع پر ڈی جے کی دھنوں پر ڈانس کے دوران اکثر نوجوان ہیجان اور آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ اس بے ہنگم ماحول اور ہیجان میں معمولی باتوں پر لٹھ بازی، گالی گلوچ اور جھگڑے فسادات جنم لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ایک خوشگوار تقریب پل بھر میں پرتشدد اور کشیدہ صورتحال میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

نتیجہ:
خوشی یا تہوار کا اصل جوہر باہمی احترام، اتحاد اور مسرت کا اظہار ہے، نہ کہ دوسروں کی زندگی اور صحت کو خطرے میں ڈالنا۔ اخبار کی اس خبر کا لبِ لباب بھی یہی ہے کہ عوامی صحت، بزرگوں، بیماروں اور بے زبان چرند پرند کے سکون کا تحفظ کسی بھی جشن سے زیادہ مقدس ہے۔ ڈی جے کی بھیانک آواز سے پیدا ہونے والی اس ماحولیاتی آلودگی پر سخت ترین قانونی پابندی عائد کی جانی چاہیے تاکہ ہمارے معاشرے کا غارت شدہ سکون اور امن دوبارہ بحال ہو سکے۔

اظہر ظہیر الدین کردمے
شریوردھن ضلع رایگڈھ

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔