موجودہ حالات اور مسلمان - ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے
موجودہ حالات اور مسلمان -
ازقلم : مولوی شبیر عبدالکریم تانبے
آج پوری دنیا میں اسلام کو مٹانے اور مسلمانوں کو ختم کرنے یا انھیں اپنے دین و مذھب اور تہذیب سے دور کرنے کے لئے چھپے طورپر اور علانیہ طورپر سازشیں ہورہی ہیں یہ بات بالکل ظاہر اور واضح ہے اسلئے کہ دین اسلام ہی ایسا واحد دین ہے جو سب کیساتھ عدل و انصاف مساوات انسانیت اور اخلاقیت کا درس دیتا ہے اور یہ تعلیمات دنیاوی حکومتوں کے چاہے وہ جمہوری طرز پر ہوں یا بادشاہی طرز پر ہوں اصول و مقاصد کے خلاف ہیں جو اہنے آپکو آقا و حاکم اور برتر سمجھتی ہیں اور عوام کو اپنے تابع اور غلام بنائے رکھتا چاہتی ہیں اور دین اسلام کی تعلیمات چونکہ انکے مقصد کے پورا ہونے میں رکاوٹ اور آڑ بن رہی ہیں اسلئے دین اسلام کو مٹانے اور ختم کرنےاور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے جان بوجھکر سازشیں رچی جارہی ہیں
لیکن
اسلام کی فطرت میں قدرت نے وہ لچک دی ہے ___ جتنا کہ دباؤگے اتناہی وہ ابھریگا
شروع اسلام سے ہی شیطانی طاقتوں اور اسلام مخالفین کی جانب سے اسکے لئے ہر طرح کے ہتھکھنڈے اپنائے جارہے ہیں لیکن آج تک نہ انکو اپنے مقصد میں کامیابی ملی اور نہ آئندہ ان شاء اللہ انھیں کبھی کامیابی نصیب ہوگی اسلئے کہ قرآن کریم نے صاف طور پر اعلان فرمادیا کہ
یہ لوگ چاہتے ھیکہ اپنے منہ سے اللہ کے نور کو بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کی تکمیل کرکے رھیگا چاہے کافروں کو یہ بات کتنی بری لگی
وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ھدایت اور سچائی کا دین دیکر بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام دوسرے دینوں پر غالب کردے چاہے مشرک لوگوں کو یہ بات کتنی بری لگے ( سورہ الصف )
اور قرآن کریم میں پچھلی قوموں کے ہلاکت و بربادی کے واقعات کو بڑی تفصیل کیساتھ بیان کیا گیا ھیکہ کسطرح انھوں نے اپنے وقت کے انبیاء کرام اور انکے متبعین کیساتھ سلوک و برتاو کیا لیکن وہ حضرات صبر واستقامت کا پہاڑ بنکر اور ثابت قدمی کیساتھ ان تک دین حق پہنچاتے ریے لیکن جب انھوں نے اپنی طاقت و قوت مال و دولت اور حکومت کے نشے میں چورہوکر ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی ساری حدیں پارکردیں تو اللہ تعالی نے جو قادر مطلق ہے اور بڑی طاقت و قوت والا ہے ایسے ظالموں اور فاسقوں کو انکی طاقت و قوت اور حکومت کے ہوتے ہوئے نیست و نابود و تباہ و برباد کردیا اور انھیں بعد والوں کے لئے نشان عبرت بنادیا
جیساکہ قرآن میں فرعون کے بارے میں جسنے خدائی کا دعوی کیا تھا کہا گیا ہے
اور کہا میں تمہارا اعلی درجے کا پروردگار ہوں نتیجہ یہ ہواکہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا حقیقت یہ ھیکہ اس واقع میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتاہو ( سورہ النازعات)
اسلئے مسلمانوں کو ایسے حالات میں ڈرنا یا خوف کھانا یا ناامید نہیں ہونا چاہئے بلکہ صبر و استقامت اور ثابت قدمی کا مظاھرہ کرنا چاہئے اور دین و شریعت پر مضبوطی کیساتھ عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے ایمان و یقین کو مضبوط بنانا چاہئے
اسلئے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے
تم ہی سربلند رہوگے اگر تم مومن ہو
اللہ تعالی ہمیں صبر واستقامت اور ثابت قدمی نصیب فرمائے اور ہمارے ایمان و یقین کو مضبوط بنادے ۔۔۔۔۔۔۔۔ باقی آئندہ
Comments
Post a Comment