ملک کی تحریک آزادی میں مسلمانوں اور اردو کا رول ناقابل فراموش - اردو کو زندہ رکھنے اردو کے اخبارات ورسائل خریدنے پر زور: اطہر اللہ شریف سابق امیر حلقہ کرناٹک جماعت اسلامی
بیدر31 /اگست (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) ملک کی تحریک آزادی میں مسلمانوں اور اردو زبان نے کلیدی رول ادا کیا لیکن آزادی کے بعد مسلمانوں کی بے نظیر قربانیوں اور اردو کے تاریخی رول کو فراموش کر دیا گیا۔ اس خیال کا اظہار اطہر اللہ شریف موظف کے اے ایس سابق امیر حلقہ کرناٹک جماعت اسلامی ہند نے کیا ہے ۔وہ ادارہ ادب اسلامی ہند شاخ گلبرگہ کے زیر اہتمام منعقدہ خصوصی ادبی اجلاس کو مہمان مقرر کی حیثیت سے مخاطب کر رہے تھے۔ تحریک آزادی میں اردو کا کردار اور شہید اشفاق اللہ خان کے زیر عنوان ادبی اجلاس کل 11:30 بجے دن ہدایت سنٹر گلبرگہ میں منعقد ہوا۔ اطہر اللہ شریف نے اس بات پر سخت اظہار تاسف کیا کہ آزادی کے بعد مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کی تاریخ اور اردو زبان کو مٹانے کی منظم سازشیں کی گئیں۔ انہوں نے شہید اشفاق اللہ خان کی سرفروشی اور حب الوطنی اور ان کے جذبہ شہادت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پھانسی سے سے قبل جیل میں اشفاق اللہ خان کا 8 کلو وزن بڑھ گیا اس سے ان کے جذبہ سرفروشی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اطہراللہ شریف نے کہا کہ تاریخ کی اس تلخ حقیقت کو آج عام کیا جانا چاہیئے کہ انگریزی حکومت کی جانب سے اشفاق اللہ خان کو پھانسی دینے کی پیروی 2 ہندوستانی وکلاءجگت نارائن اور ان کے بیٹے آنند نارائن نے کی اور اس کیلئے انگریزی حکومت نے انہیں 500 روپئے فی کس معاوضہ دیا ۔ آزادی کے بعد آنند نارائن ایم پی منتخب ہوئے اور اندرا گاندھی کے نہایت قریبی رہے ۔اطہر اللہ شریف نے مزید کہا کہ ملک کی تحریک آزادی میں اردو نے جو تاریخی رول ادا کیا اسے فراموش کرنے پر کئی معروف ادبی شخصیات نے احتجاج کیا ہے ۔انہوں نے برصغیر کے نامور ادیب گوپی چند نارنگ کی کتاب کے حوالے سے کہا کہ عوام میں تحریک آزادی کی زبردست اور انقلابی اسپرٹ پیدا کرنے والی زبان صرف اردو تھی ۔اردو زبان کے شاعر ادیب صحافی مقرر ڈرامہ نگار ہر ایک نے تحریک آزادی میں اپنا اپنا محاذ کھول رکھا تھا۔ اطہر اللہ شریف نے اردو زبان کی اثر آفرینی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرانتی امر رہے کہ جواب میں حسرت موہانی کا انقلاب زندہ باد نعرہ سب سے زیادہ مقبول ہوا۔ اس دور میں اردو مقبول عام عوامی زبان تھی۔ اطہر اللہ شریف نے مزید کہا کہ ملک کو آزادی دلانے والی اردو کو آزادی کے بعد قومی زبان کا درجہ دینے سے محروم کر دیا گیا۔ ملک کی آزادی کے بعد اردو کو قومی زبان کا درجہ دینے کا موقع آیا تو ایک صدارتی ووٹ کے ذریعے اردو کو قومی زبان کا درجہ دینے سے محروم کر دیا گیا ۔ہندی اور اردو کو جب مساوی ووٹ حاصل ہوئے تب صدر جمہوریہ کے ایک ووٹ سے اردو کے بجائے ہندی کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ۔اس طرح اردو کو مسلمانوں کے ساتھ جوڑ کر اردو کے ساتھ کھلا تعصب کیا گیا ۔انہوں نے لسانی عصبیت کے موجودہ دور میں اردو زبان کو زندہ رکھنے کیلئے مشترکہ کاوشیں کرنے اور نئی نسل کو اردو سیکھانے پر زور دیا۔ اطہر اللہ شریف نے ریاست گوا کا حوالہ دیا کہ وہاں ہر مسجد کے مکتب میں عربی کے ساتھ اردو سیکھانے کا نظم شروع کیا گیا جس کے نتیجہ میں پچھلے 8 سالوں کے دوران سینکڑوں طلبا و طالبات نے اردو سیکھی۔ انہوں نے کرناٹک میں بھی تمام مسلکوں کی مساجد کے مکاتب میں بچوں کو عربی کے ساتھ ساتھ اردو سیکھانے کی پرزور اپیل کی۔ اطہر اللہ شریف نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ اخبارات و رسائل اردو کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے اردو اخبارات و رسائل خریدنے پر زور دیا اور کہا کہ اردو کے اخبارات ورسائل کے آنے سے گھروں میں اردو کا ماحول پیدا ہوگا۔ ابتدا میں عبدالقدیر رکن شوری جماعت اسلامی نے ادارہ ادب اسلامی کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ اردو اور دیگر زبانوں کے ادب کو منفی رحجانات اور غیر اخلاقی اسلوب سے پاک کرنا ادارہ ادب اسلامی کا بنیادی مقصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ ادارہ ادب اسلامی کے تحت اردو کے ساتھ ساتھ کنڑا زبان کے اہل ادب کی فکری اصلاح کی کامیاب کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عبدالقدیر نے مزید کہا کہ ادیب و شاعر کو پابند نہیں کیا جا سکتا تاہم ادارہ ادب اسلامی ہند ادبا و شعراءکو اسلامی اقدار اور اصلاح معاشرہ کا ادب تخلیق کرنے کی ترغیب دلانے کیلئے کوشاں ہے ۔انجینئر قاضی عبدالمحیط سرپرست ادارہ ادب اسلامی ہند شاخ گلبرگہ نے اجلاس کی صدارت کی۔انجینئر عارف مرزا صدر ادارہ ادب اسلامی ہند شاخ گلبرگہ و نائب صدر ادارہ ادب اسلامی ہند کرناٹک نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ نظامت کی ۔اجلاس میں باذوق مرد و خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
Comments
Post a Comment